تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے روزگار کا بحران ، بے روزگاری 6.7 فیصد تک پہنچ گئی
سرینگر// جموں و کشمیر میں ہر سال ہزاروں نوجوان اعلیٰ تعلیم مکمل کر کے عملی زندگی میں داخل ہو رہے ہیں، تاہم روزگار کے محدود مواقع اور معیشت کے ڈھانچے میں کمزوری کے باعث ایک بڑا طبقہ مناسب ملازمت حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے، جس سے تعلیمی قابلیت اور افرادی قوت میں شمولیت کے درمیان بڑھتا ہوا خلا واضح ہو گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق سرکاری اعداد و شمار اور حالیہ پیریوڈک لیبر فورس سروے 2023-24کے مطابق جموں و کشمیر میں گریجویٹس افرادی قوت کا صرف 13 فیصد حصہ ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد یا تو بے روزگار ہے یا اپنی تعلیمی قابلیت سے کم درجے کے کاموں میں مصروف ہے۔اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں سالانہ تقریباً 25 ہزار طلبہ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے گریجویشن مکمل کرتے ہیں، جبکہ اس کے علاوہ ہزاروں طلبہ پوسٹ گریجویٹ اور پیشہ ورانہ کورسز بھی مکمل کرتے ہیں۔ اس کے باوجود افرادی قوت میں ان کی کم نمائندگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تعلیمی نظام اور روزگار کی منڈی کے درمیان واضح عدم توازن موجود ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر میں یہ مسئلہ اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ یہاں صنعتی ترقی محدود ہے، نجی شعبہ کمزور ہے اور روزگار کے زیادہ تر مواقع یا تو سرکاری شعبے تک محدود ہیں یا غیر رسمی معیشت میں موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں مجموعی بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو قومی اوسط 3.5 فیصد سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔ یہ صورت حال خاص طور پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 58 سے 67 فیصد افرادی قوت خود روزگار کے شعبے سے وابستہ ہے، جن میں زیادہ تر افراد زراعت، خاندانی کاروبار، چھوٹے دکان دار اور غیر رسمی خدمات کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ منظم اور باقاعدہ نجی ملازمتوں کی شدید کمی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ بے روزگار افراد میں تقریباً 31 فیصد گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ نوجوان شامل ہیں، جو اعلیٰ تعلیم کے باوجود مناسب روزگار حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔خواتین کے لیے صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ اندازوں کے مطابق 15 سے 29 سال کی عمر کی خواتین میں بے روزگاری کی شرح 46 سے 53 فیصد کے درمیان ہے۔ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ خواتین یا تو غیر رسمی گھریلو کاموں تک محدود ہیں یا پھر مالی معاوضے کے بغیر خاندانی کاموں میں مصروف ہیں۔شہری علاقوں میں خواتین کی بے روزگاری 20 سے 28 فیصد کے درمیان ہے، جو مردوں کی نسبت نمایاں طور پر زیادہ ہے، جہاں شرح 4.6 فیصد بتائی گئی ہے۔معاشی ڈھانچے کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ جموں و کشمیر میں زرعی شعبہ اب بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں 80 فیصد سے زیادہ دیہی آبادی روزگار حاصل کرتی ہے۔ تعمیرات کا شعبہ تقریباً 23 فیصد روزگار فراہم کرتا ہے، جبکہ مینوفیکچرنگ یعنی صنعتی شعبہ صرف 7 فیصد نوجوانوں کو روزگار دے رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق رپورٹ کے مطابق منظم نجی شعبہ انتہائی محدود ہے اور کل روزگار کا 3 فیصد سے بھی کم حصہ فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے مستقل اور باقاعدہ ملازمت کے مواقع نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔اسی وجہ سے سرکاری نوکریوں پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں حکومت نے اسمبلی میں بتایا تھا کہ جموں و کشمیر کے مختلف محکموں میں تقریباً 77 ہزار اسامیاں خالی ہیں، جن میں 6,409 گریجویٹ سطح کی اور 24,451 نان گریجویٹ اسامیاں شامل ہیں۔ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ جب تک جموں و کشمیر میں صنعتی ترقی، نجی سرمایہ کاری اور ہنرمند افرادی قوت کے لیے منڈی کی ضروریات کے مطابق تعلیمی نظام میں اصلاحات نہیں کی جاتیں، اس وقت تک تعلیم یافتہ بے روزگاری کا مسئلہ مزید سنگین ہوتا جائے گا۔ان کے مطابق روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے فوری اور جامع پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کو معیشت کا فعال حصہ بنایا جا سکے اور خطے میں پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔










