سرینگر//وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر غیر یقینی اور عدم استحکام کے باوجود بھارت مضبوطی اور اعتماد کے ساتھ اپنی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وکست بھارت‘‘ کے ویژن کی طرف پیش رفت کے دوران ملک کی اجتماعی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، اور مرکز و ریاستوں کے درمیان تعاون اس سفر کی کامیابی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔وزیراعظم جمعرات کو نئی دہلی میں منعقدہ نیتی آیوگ کی گورننگ کونسل کے 11ویں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جہاں انہوں نے ملک کی معاشی، سماجی اور ترقیاتی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی۔ اجلاس میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات پیچیدہ اور غیر یقینی ہیں، تاہم بھارت نے اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا ہے اور معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی ترقی کا انحصار صرف حکومتی پالیسیوں پر نہیں بلکہ تمام ریاستوں اور شہریوں کی مشترکہ کوششوں پر ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے کئی ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کیے ہیں، جن کا مقصد برآمدات میں اضافہ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ ان معاہدوں سے خاص طور پر مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کو فائدہ ہوگا، جو عالمی معیار کے مطابق اپنی پیداوار کو بہتر بنا کر بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے قابل بن سکیں گے۔وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت کی نوجوان آبادی ایک تاریخی موقع ہے، جسے ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو معیاری تعلیم، ہنر مندی (اسکل ڈویلپمنٹ) اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ’’بااختیار نوجوان وکست بھارت کے سفر میں سب سے بڑی قوت ثابت ہوں گے۔‘‘ ان کے مطابق اگر نوجوانوں کو صحیح سمت دی جائے تو وہ ملک کی ترقی کو نئی رفتار دے سکتے ہیں۔اجلاس میں وزیراعظم نے مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون اور مکالمے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیتی آیوگ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو مختلف ریاستوں کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور مشترکہ ترقی کے لیے کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی تعاون بھارت کی ترقیاتی حکمت عملی کی بنیاد ہے، اور اسی جذبے کے تحت مرکز اور ریاستیں مل کر ترقی کے اہداف حاصل کر سکتی ہیں۔وزیراعظم نے خواتین کی شمولیت کو ترقی کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ زراعت، اسٹارٹ اپس، سائنس اور جدت طرازی سمیت ہر شعبے میں خواتین فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کو خواتین کی تعلیم، ہنرمندی، تحفظ اور بااختیاری پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ ان کی مکمل صلاحیتوں کو ملک کی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی قیادت میں ترقی وکست بھارت کے وڑن کا بنیادی جز ہے، جو مستقبل میں بھارت کی سماجی اور معاشی ترقی کو نئی جہت دے گا۔زیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو اپنی آبادیاتی برتری سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک مضبوط اور جامع نظام تشکیل دینا ہوگا، تاکہ نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں اور ملک کی ترقی کا عمل تیز تر ہو۔آخر میں انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں مشترکہ کوششوں کے ذریعے بھارت کی ترقی کے سفر کو مزید تیز کرنا ہے۔ مرکز اور ریاستوں کی شراکت ہی وکست بھارت کے خواب کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔‘‘اس دوران یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے این ڈی اے حکومت کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر کانگریس پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں قومی جمہوری اتحاد کی حکومت نے ملک کو کانگریس کے ’’شیطانی جال‘‘، پالیسی جمود، بدعنوانی، غیر یقینی صورتحال اور کمزور حکمرانی سے باہر نکال کر ترقی، استحکام اور خود اعتمادی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2014 کے بعد بھارت نے جس تیز رفتار ترقی، مضبوط معیشت اور عالمی وقار کا مشاہدہ کیا ہے، وہ فیصلہ کن قیادت اور واضح پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔یو این ایس کے مطابق نئی دہلی میں این ڈی اے کے اتحادی جماعتوں کے قائدین کے ایک بڑے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت کے عوام نے گزشتہ برسوں میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ سیاسی استحکام، مضبوط قیادت اور ترقیاتی ایجنڈے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے کی مسلسل تیسری مدت اقتدار اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام ملک کو ترقی یافتہ بنانے کے مشن میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔اپنے خطاب میں مودی نے کانگریس دور کی معاشی کارکردگی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں تک ملک میں سست اقتصادی ترقی کو ’’ہندو گروتھ ریٹ‘‘ کا نام دیا جاتا رہا، حالانکہ اس سست رفتاری کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ یہ کانگریس حکومتوں کی ناکام پالیسیوں، ناقص حکمرانی اور فیصلہ سازی کے فقدان کا نتیجہ تھی۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’’یہ حیران کن بات ہے کہ کانگریس کے دور کی ناکامیوں کو ایک پوری تہذیب اور کروڑوں لوگوں سے جوڑ دیا گیا۔ اگر کسی نام کی ضرورت تھی تو اسے ’کانگریس گروتھ ریٹ‘ کہا جانا چاہیے تھا کیونکہ اس دور میں نہ وڑن تھا، نہ مؤثر پالیسی، نہ نیت اور نہ ہی فیصلہ کن قیادت۔‘‘وزیر اعظم نے کہا کہ آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک ملک کو یہ یقین دلایا جاتا رہا کہ بھارت میں ترقی کی رفتار ہمیشہ محدود رہے گی اور دنیا کی بڑی معیشتوں کے ساتھ مقابلہ ممکن نہیں۔ تاہم این ڈی اے حکومت نے اس سوچ کو بدل دیا اور دنیا کو دکھایا کہ بھارت تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں پہلی این ڈی اے حکومت نے ملک کو جدید شاہراہوں، ٹیلی کمیونیکیشن انقلاب اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ذریعے تیز رفتار ترقی کی جھلک دکھائی تھی، لیکن 2004 میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ملک دوبارہ غیر یقینی صورتحال، پالیسی مفلوجی اور بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے دور میں داخل ہو گیا۔مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس کی قیادت والی حکومتوں کے دوران اربوں روپے کے گھوٹالے منظر عام پر آئے، جس سے نہ صرف معیشت متاثر ہوئی بلکہ عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد بھی کمزور ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں این ڈی اے حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد شفافیت، جوابدہی اور ترقیاتی حکمرانی کو ترجیح دی گئی۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران بھارت نے انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، صنعت، زراعت، دفاع، تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج بھارت دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور عالمی سطح پر اس کی آواز پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر اور مضبوط ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’وکست بھارت‘‘ یعنی ترقی یافتہ بھارت کا تصور کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کا منصوبہ نہیں بلکہ اب یہ پورے ملک کا قومی عزم بن چکا ہے۔ ان کے مطابق آج ہر شہری، خواہ وہ کسان ہو، مزدور ہو، نوجوان ہو، خاتون ہو یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہو، ترقی یافتہ بھارت کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا خواہاں ہے۔متوسط طبقے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اس طبقے کی ضروریات اور امنگوں سے بخوبی واقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں سالانہ 12 لاکھ روپے تک آمدنی رکھنے والوں کو انکم ٹیکس سے چھوٹ دے کر کروڑوں خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برسوں میں ٹیکس نظام کو آسان اور شفاف بنایا گیا، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو فروغ دیا گیا اور عوامی خدمات میں انسانی مداخلت کم کرکے بدعنوانی کے امکانات کو محدود کیا گیا۔ ان کے مطابق آج ملک میں ایک ’’فیس لیس‘‘ اور ’’شفاف‘‘ ٹیکس نظام موجود ہے جو عوام کو سہولت فراہم کرتا ہے۔مودی نے کہا کہ شاہراہوں، ایکسپریس ویز، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، ریل نیٹ ورک اور شہری بنیادی ڈھانچے میں ریکارڈ سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان منصوبوں نے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کیے بلکہ ملک کی اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار بخشی ہے۔انہوں نے نوجوانوں اور طلبہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں میں تعلیم، ہنر مندی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی، اسٹارٹ اپ کلچر، ڈیجیٹل انڈیا اور اسکل انڈیا جیسے اقدامات نے نوجوان نسل کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم مودی نے عوام کی جانب سے موصول ہونے والی مبارکباد اور نیک خواہشات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی خدمت کرنا ان کے لیے باعث فخر اور اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے بار بار استحکام، اچھی حکمرانی اور ترقی کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا ہے اور یہی اعتماد انہیں مزید محنت اور لگن کے ساتھ کام کرنے کی تحریک دیتا ہے۔وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ، خود کفیل، مضبوط اور خوشحال ملک بنانے کے ہدف کے حصول کے لیے پوری توانائی کے ساتھ کام جاری رکھے گی اور 140 کروڑ بھارتیوں کی امنگوں کو پورا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گی۔










