منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم 19 ویں ضلع تک پہنچ گئی

لفٹینٹ گورنر نے کشتواڑ میں پد یاترا کی قیادت کی

جموں//لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے کشتواڑ میں منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم کے ایک حصے کے طور پر پد یاترا میں شرکت کی ۔ انہوں نے کہا ’’ ہم ہر ایک کڑی پر منشیات کی تجارت کی زنجیر کو توڑ رہے ہیں ۔ چاہے وہ سرحد پار سے اسمگلر ہو ، پیڈلرز ہو یا دہشت گردوں کو مالی امداد دینے والے ہوں ، ہماری ایجنسیاں ہر نشہ آور دہشت گرد کا شکار کر رہی ہیں اور ان کے نیٹ ورکس کو مستقل طور پر ختم کر رہی ہیں ۔ ‘‘ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ گذشتہ تقریباً دو مہینوں کے دوران زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہری ، یونین ٹیریٹری میں سڑکوں پر نکلے ، متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد میں شریک ہوئے اور ہمارے نوجوانوں کو جوش بخشا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد منشیات کے استعمال کے خلاف نچلی سطح پر مزاحمت کو فروغ دینا اور منشیات کی دہشت گردی کو ختم کرنا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر کشتواڑ میں عوامی ریلی سے خطاب کر رہے تھے ۔ یہ مہم اب تک جموں کشمیر کے 19 اضلاع کا احاطہ کر چکی ہے جس سے گاؤں اور قصبوں سے منشیات کے خاتمے کے اجتماعی عزم کو تقویت ملی ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ میں نے 56 دنوں سے اس سرزمین سے منشیات کے ہر سمگلر اور منشیات کے دہشت گردوں کو کو ختم کرنے کے ایک ہی مشن پر عمل کیا ہے ۔ منشیات کے دہشت گرد اور منشیات کے سمگلر خواہ پلوامہ ہوں یا رام بن ، کولگام یا کشتواڑ اس حقیقت کو سمجھنا چاہئیے کہ ہماری نوجوان نسل کے مستقبل کو برباد کرنے والوں پر کوئی رحم نہیں کیا جائے گا ۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ منشیات کے عادی افراد جو صحت یابی کا راستہ تلاش کرتے ہیں انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جائے اور انہیں ہمدردی اور وقار کے ساتھ مرکزی دھارے میں واپس لایا جائے ۔ لیکن ہمدردی کو نشہ آور دہشت گردوں پر ضائع نہیں کیا جا سکتا جو دوسروں کی بربادی سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، جو تباہی کی طرف بڑھتے ہیں جن کا مقصد کشتواڑ کے دیہاتوں میں نشے کو پھیلانا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ منشیات کے دہشت گردوں کے ساتھ نمٹتے وقت بے گناہوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ اگرچہ جموں و کشمیر منشیات سے پاک مہم 100 دنوں کیلئے مقرر ہے ، لیکن یہ ایک بہت بڑی لڑائی کا آغاز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس خطرے کو ختم کرنے کیلئے میراتھن کوشش کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ یہ برسوں کی جنگ ہے ، ہفتوں کی جنگ نہیں ، فتح ایک متحد ، چوبیس گھنٹے عزم کی متقاضی ہے ۔ پورے معاشرے کو متحرک کر کے ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جموں و کشمیر کی سرزمین کو منشیات کے سمگلروں اور منشیات فروشوں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بھر میں پد یاترا کے دوران میں نے نوجوانوں اور خواتین کی وفائی کی گواہی دی ہے یہ مہم جموں و کشمیر کی روح کا معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ ہمارے اساتذہ ، پنچائتی مہیلا سمیتیاں ، مذہبی رہنما اور سول سوسائٹی کے گروپ اس تحریک کے مشعل راہ ہیں ، اس بات کو یقینی بنانے کیلئے متحد ہیں کہ نشے کے سائے کو کشتواڑ اور جموں کشمیر میں کبھی قدم رکھنے کی جگہ نہ ملے ۔ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کیلئے ایک فیصلہ کن لمحہ ہے ۔ لوگوں نے یک آواز ہو کر کہا ہے کہ منشیات کے دہشت گردوں کو اس سرزمین سے لاپتہ ہونا چاہئیے ۔ ‘‘