وزیراعظم نریندر مودی کی میانمار کے صدر یو من آنگ ہلاینگ سے اہم ملاقات

وزیراعظم نریندر مودی کی میانمار کے صدر یو من آنگ ہلاینگ سے اہم ملاقات

دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

سرینگر//وزیراعظم نریندر مودی نے میانمار کے صدر یو من آنگ ہلاینگ کے ساتھ ایک اہم، تعمیری اور تفصیلی ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے بھارت اور میانمار کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم اور وسعت دینے پر اتفاق کیا۔یو این ایس کے مطابق وزیراعظم مودی نے اس موقع پر اس بات پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ میانمار کے صدر نے اپنے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے کیلئے بھارت کا انتخاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر بھارت کیلئے باعثِ اعزاز ہے کہ صدر یو من آنگ ہلاینگ نے اپنے دورے کا آغاز بودھ گیا سے کیا، جہاں انہوں نے بھگوان بدھ کے آشیرواد حاصل کئے، جو دونوں ممالک کے درمیان تہذیبی اور روحانی روابط کی عکاسی کرتا ہے۔وزیراعظم نے اپنی گفتگو کے دوران کہا’’‘‘میانمار کے صدر یو من آنگ ہلاینگ کے ساتھ ایک تعمیری اور نتیجہ خیز ملاقات ہوئی۔ بھارت کیلئے یہ باعثِ اعزاز ہے کہ انہوں نے بطور صدر اپنے پہلے غیر ملکی دورے کیلئے بھارت کا انتخاب کیا۔ اسی طرح یہ بات بھی انتہائی خوش آئند ہے کہ انہوں نے اپنے دورے کا آغاز بودھ گیا سے کیا، جہاں انہوں نے بھگوان بدھ کے آشیرواد حاصل کئے۔ ہم نے بھارت اور میانمار کے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ میانمار بھارت کی ’نیبر ہڈ فرسٹ‘، ’ایکٹ ایسٹ‘ اور ’انڈو پیسفک‘ پالیسیوں کیلئے انتہائی اہم ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور میانمار کے تعلقات صرف سفارتی یا اقتصادی نوعیت کے نہیں بلکہ تاریخی، تہذیبی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر استوار ہیں، جو خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، رابطہ کاری (کنیکٹیویٹی)، صحت عامہ، تعلیم، ثقافتی تبادلے، تاریخی ورثے کی بحالی اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ذرائع کے مطابق بات چیت میں خاص طور پر نایاب زمینی معدنیات (ریئر ارتھز) کے شعبے میں تعاون، سرحدی علاقوں میں ترقیاتی منصوبے، اور دونوں ممالک کے درمیان زمینی و بحری رابطوں کو مضبوط بنانے جیسے اہم امور پر بھی غور کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق دونوں فریقوں نے بحری سلامتی، سائبر سیکیورٹی اور خطے میں ابھرتے ہوئے سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ ان شعبوں میں تعاون نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ پورے انڈو پیسفک خطے میں استحکام کا باعث بنے گا۔وزیراعظم مودی نے اس موقع پر کہا کہ میانمار بھارت کی خارجہ پالیسی کے تین اہم ستونوں ’’نیبر ہڈ فرسٹ‘‘، ’’ایکٹ ایسٹ‘‘ اور ’’انڈو پیسفک‘‘ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ قریبی، دوستانہ اور باہمی فائدہ مند تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، تعاون اور ترقی کے نئے دور کی بنیاد ثابت ہوگی اور خطے میں باہمی اشتراک کے نئے دروازے کھولے گی۔سرکاری ذرائع کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں اعلیٰ سطحی روابط کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔