سری نگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی وزیر شہری ہوا بازی کنجاراپو رام موہن نائیڈو کو ایک مکتوب لکھ کر سعودی عرب سے جموں و کشمیر واپس آنے والے حجاج کرام کے سامان کی بروقت اور ہم وقت منتقلی کو یقینی بنانے کے لئے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔وزیر اعلیٰ نے اَپنے مکتوب میں واپس آنے والے حجاج کرام کو سامان کی تاخیر سے ترسیل کے باعث پیش آنے والی مشکلات کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ سری نگر ہوائی اڈے پر جاری مرمتی کاموں اور اپریشنل مسائل کی وجہ سے حجاج کے سامان کا سامان الگ راستے سے احمد آباد سے بذریعہ سڑک روانہ کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں سامان کی فراہمی میں خاصی تاخیر ہو رہی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حجاج کرام میں سے بیشتر عمر رسیدہ اور بزرگ اَفراد ہیں جنہوں نے برسوں کی عبادت، تیاری اور آرزو کے بعد اس مقدس فریضے کی ادائیگی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سامان کے حصول میں تاخیر سے نہ صرف حجاج بلکہ ان کے اہل خانہ کو بھی تکلیف اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔عمر عبداللہ نے سامان میں موجود اشیأکی مذہبی اور سماجی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حجاج کرام واپسی پر روایتی طور پر آبِ زم زم، کھجوریں اور دیگر تبرکات اپنے رِشتہ داروں، پڑوسیوں اور خیر خواہوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سامان کی ترسیل میں تاخیر کے باعث حج سے وابستہ یہ محبوب روایات اور رسومات متاثر ہو رہی ہیں۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی وزیر سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے اپیل کی کہ ایسے اِنتظامات کئے جائیں جن کے تحت حجاج کرام کا سامان بھی انہی پروازوں کے ذریعے محفوظ طریقے سے ان کے ساتھ ہی جموں و کشمیر پہنچایا جا سکے۔اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اس معاملے پر جلد اور مثبت غورو خوض سے واپس آنے والے حجاج کی مشکلات کم ہوں گی اور گہری مذہبی و جذباتی اہمیت کے حامل اشیأ کے تقدس کا تحفظ ممکن ہو سکے گا۔










