ریل نے سڑک اور ہوائی سفر کو دی سخت ٹکر، وندے بھارت کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ

ریل نے سڑک اور ہوائی سفر کو دی سخت ٹکر، وندے بھارت کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ

صرف 4 ہفتوں میں ایک لاکھ20ہزار سے زائد مسافر، کشمیر ریل رابطے کا نیا باب رقم

سرینگر// یو این ایس//جموں اور سری نگر کے درمیان چلنے والی وندے بھارت ایکسپریس نے مختصر مدت میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے ٹرانسپورٹ نظام میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ تجارتی بنیادوں پر خدمات کے آغاز کے صرف 22 دنوں کے اندر ایک لاکھ سے زائد مسافروں کے سفر نے اس جدید ریل سروس کو عوام کی پہلی پسند بنا دیا ہے، جبکہ روز بروز بڑھتی مسافر تعداد اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ لوگ اب سڑک اور فضائی سفر کے مقابلے میں ریل کو زیادہ محفوظ، آرام دہ اور اقتصادی متبادل تصور کر رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق ریلوے حکام کے مطابق 2 مئی سے 23 مئی 2026 تک وندے بھارت ایکسپریس کے ذریعے مجموعی طور پر 1,01,050 مسافروں نے سفر کیا۔ بعد ازاں جاری بکنگ کے اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تعداد مزید بڑھ چکی ہے اور سروس کو مسلسل بھرپور عوامی ردعمل حاصل ہو رہا ہے۔واضح رہے کہ اس جدید ریل سروس کو 30 اپریل کو مرکزی وزیر ریلوے نے باضابطہ طور پر ہری جھنڈی دکھائی تھی جبکہ عوام کیلئے تجارتی آپریشن کا آغاز 2 مئی سے کیا گیا۔ آغاز کے چند ہی دنوں میں ٹرین نے مقبولیت کے ایسے ریکارڈ قائم کئے جنہوں نے شمالی ریلوے کے حکام کو بھی حیران کر دیا۔ریلوے ذرائع کے مطابق وندے بھارت ایکسپریس جموں اور سری نگر کے درمیان سفر کا دورانیہ تقریباً ساڑھے چار گھنٹے تک محدود کر دیتی ہے، جو ماضی کے مقابلے میں ایک بڑی سہولت تصور کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل قومی شاہراہ پر ٹریفک جام، لینڈ سلائیڈنگ، برفباری، بارش اور دیگر موسمی رکاوٹوں کے باعث مسافروں کو کئی گھنٹے بلکہ بعض اوقات پورا دن سفر میں گزارنا پڑتا تھا۔ماہرین کے مطابق وندے بھارت سروس نے کشمیر اور جموں کے درمیان رابطے کو نئی مضبوطی بخشی ہے اور پہلی مرتبہ عوام کو سال بھر ایک قابل اعتماد زمینی سفری متبادل دستیاب ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ، سرکاری ملازمین، تاجر، سیاح اور عام مسافر بڑی تعداد میں اس سروس کا رخ کر رہے ہیں۔کرایوں کے اعتبار سے بھی یہ سروس عوام کیلئے انتہائی موزوں ثابت ہو رہی ہے۔ جموں اور سری نگر کے درمیان وندے بھارت کا کرایہ تقریباً 730 روپے رکھا گیا ہے جبکہ فضائی سفر کیلئے مسافروں کو عموماً 9 ہزار سے 15 ہزار روپے تک خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اس نمایاں فرق نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کیلئے ریل سفر کو نہایت پرکشش بنا دیا ہے۔شمالی ریلوے کے سینئر ڈویڑنل کمرشل منیجر اوچت سنگھل نے اس کامیابی کو شمالی ریلوے کیلئے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف 22 دنوں میں ایک لاکھ سے زیادہ مسافروں کا سفر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام نے وندے بھارت ایکسپریس کو بھرپور اعتماد اور پذیرائی بخشی ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ سروس جموں و کشمیر کے عوام کو عالمی معیار کی سفری سہولیات فراہم کرنے کے قومی عزم کی عکاس ہے۔ ان کے مطابق مسافروں نے ٹرین کی آرام دہ نشستوں، جدید ڈیزائن، صفائی، وقت کی پابندی، حفاظت اور آن بورڈ سہولیات کو بے حد سراہا ہے۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ وندے بھارت ایکسپریس میں جدید جی پی ایس پر مبنی مسافر معلوماتی نظام، خودکار دروازے، آرام دہ نشستیں، بائیو ویکیوم ٹوائلٹس، جدید کوچ ڈیزائن اور دیگر سہولیات شامل کی گئی ہیں، جو سفر کو مزید خوشگوار بناتی ہیں۔مسافروں کو مقامی ثقافت سے جوڑنے کیلئے آئی آر سی ٹی سی کی جانب سے خصوصی کشمیری سبزی خور مینو بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ مسافر ٹکٹ بکنگ کے وقت کھانے کی سہولت حاصل کرنے یا نہ کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں جبکہ سفر کے دوران بھی کھانا دستیاب ہوتا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ وندے بھارت ایکسپریس نہ صرف مسافروں کیلئے سہولت کا باعث بن رہی ہے بلکہ اس کے دور رس معاشی فوائد بھی سامنے آئیں گے۔ اس سروس سے سیاحت کو فروغ ملنے، باغبانی شعبے کو نئی منڈیاں میسر آنے، تازہ پھلوں اور زرعی مصنوعات کی بروقت ترسیل اور دستکاری کے سامان کی ملک کے مختلف حصوں تک رسائی آسان ہونے کی توقع ہے۔ریلوے حکام کے مطابق کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جدید ریل نیٹ ورک سے جوڑنے کا خواب اب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں وندے بھارت ایکسپریس جموں و کشمیر کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سفری سروسز میں شمار ہوگی اور خطے کے ٹرانسپورٹ منظرنامے میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہوگی۔