والدین کی باقاعدہ شرکت سے سرکاری سکولوں پر اعتماد اور تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی//ماہرین تعلیم
سرینگر// یو این ایس//تعلیمی ماہرین، اساتذہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے سرکاری سکولوں کے انتظامی اور تعلیمی امور میں والدین اور مقامی برادری کی زیادہ سے زیادہ شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی شرکت کے بغیر سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط، جوابدہ اور ترقی پسند بنانا ممکن نہیں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کے محکمہ سکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی (ڈی ایس ای ایل) نے ملک بھر کے سکولوں میں سکول مینجمنٹ کمیٹیوں (ایس ایم سیز) کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کیلئے نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔یو این ایس کے مطابق رہنما ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ مقامی برادری کی شرکت صرف ایک رسمی عمل نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جس کے ذریعے عوام سکولوں کی ضروریات، ترجیحات، وسائل اور مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے حل میں براہِ راست کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان ہدایات کا بنیادی مقصد سکولوں میں شفافیت، جوابدہی، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کو فروغ دینا ہے۔تعلیمی حکام کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد سکولوں میں داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد بڑھانا، حاضری کو یقینی بنانا، تعلیمی نتائج میں بہتری لانا اور سکولوں کی نگرانی میں والدین اور مقامی برادری کو شریک بنانا ہے۔ اس کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کے استعمال میں شفافیت لانا بھی اس اقدام کا اہم مقصد قرار دیا گیا ہے۔اس دوران محکمہ سکولی تعلیم نے سرکاری سکولوں میں ہر ماہ کی 26 تاریخ کو والدین اور اساتذہ کی ملاقات (پی ٹی ایم) لازمی قرار دی ہے تاکہ والدین اور اساتذہ کے درمیان مستقل رابطہ قائم رہے اور بچوں کی تعلیمی پیش رفت پر مشترکہ طور نظر رکھی جا سکے۔یو این ایس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے سکول اور گھر کے درمیان دو طرفہ رابطے کا مؤثر نظام قائم ہوگا، خاص طور پر ان سرکاری تعلیمی اداروں میں جہاں والدین کی شرکت نسبتاً کم دیکھی جاتی ہے۔ایک سینئر لیکچرر نے کہا کہ سرکاری سکولوں کی ترقی صرف اس وقت ممکن ہے جب سماج خود کو تعلیمی نظام کا حصہ سمجھے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں لیکن بہتر نتائج کیلئے والدین اور مقامی برادری کی فعال شرکت ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا، ’’اساتذہ اکیلے تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلی نہیں لا سکتے۔ جب تک والدین بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی نہیں لیتے اور سکولوں کے ساتھ مسلسل رابطہ نہیں رکھتے، تب تک مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔‘‘ڈی ایس ای ایل کی جاری کردہ رہنما ہدایات کے مطابق سکول مینجمنٹ کمیٹیوں کی مؤثر کارکردگی کا انحصار ان کے اراکین کی معلومات، صلاحیتوں، دلچسپی اور تربیت پر ہے۔ اسی لئے ہدایات میں ایس ایم سی اراکین کیلئے باقاعدہ تربیتی پروگراموں اور آگاہی سیشنوں کے انعقاد پر زور دیا گیا ہے۔ہدایات کے مطابق کمیٹیوں کی تشکیل یا ازسرنو تشکیل کے ایک ماہ کے اندر تربیتی پروگرام منعقد کئے جائیں گے تاکہ اراکین اپنی ذمہ داریوں اور اختیارات سے مکمل طور پر واقف ہو سکیں۔ یہ تربیت مقامی سطح پر اور مقامی زبان میں فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سے استفادہ کر سکیں۔یو این ایس کے مطابق تربیتی پروگراموں میں معیاری اور مساوی تعلیم، سکول ڈیولپمنٹ پلان (ایس ڈی پی) کی تیاری، تعلیمی نگرانی، سکول کی مجموعی کارکردگی میں بہتری، خصوصی بچوں کیلئے جامع تعلیمی نظام، مالیاتی نظم و نسق، سماجی آڈٹ، ڈیجیٹل خواندگی، تعلیمی ٹیکنالوجی، سکول سیفٹی اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مختلف پہلو شامل ہوں گے۔یو این ایس کے مطابق نئی ہدایات میں مالی شفافیت پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔ اس کے تحت سکول مینجمنٹ کمیٹیوں سے متعلق تمام فنڈز الگ مشترکہ بینک کھاتوں میں رکھے جائیں گے جنہیں کمیٹی کے چیئرمین اور ممبر سیکریٹری مشترکہ طور پر چلائیں گے۔دستاویز کے مطابق سکول مینجمنٹ کمیٹیاں 30 لاکھ روپے تک کے ترقیاتی اور تعمیراتی کام خود انجام دے سکتی ہیں، تاہم منصوبہ بندی، خریداری اور تعمیراتی عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا۔ 30 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کیلئے عوامی ٹینڈرنگ کا عمل لازمی ہوگا اور ایس ایم سی اراکین کو منصوبوں کی نگرانی میں شامل کیا جائے گا۔رہنما ہدایات میں سکولوں میں مرمت اور دیکھ بھال کے کاموں پر بھی کمیونٹی نگرانی کا نظام تجویز کیا گیا ہے تاکہ عوام کو منصوبوں کی لاگت اور معیار کے بارے میں معلومات حاصل رہیں۔حال ہی میں منعقدہ ایک والدین و اساتذہ اجلاس کے دوران ایک خاتون والدہ نے اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تربیت اور تعلیم صرف اساتذہ کی نہیں بلکہ والدین کی بھی مساوی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ روزانہ چند گھنٹے ہی بچوں کے ساتھ گزارتے ہیں جبکہ بچے دن کا زیادہ وقت اپنے گھروں میں والدین کے ساتھ رہتے ہیں، اس لئے ان کی تعلیمی اور اخلاقی نگرانی میں والدین کا کردار انتہائی اہم ہے۔خاتون نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ اکثر والدین سرکاری سکولوں سے مسلسل رابطہ نہیں رکھتے اور نہ ہی بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر مناسب توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر والدین خود تعلیم یافتہ نہ بھی ہوں تب بھی انہیں بچوں کی پڑھائی اور روزمرہ سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ والدین اکثر نجی سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے حوالے سے زیادہ فکر مند رہتے ہیں کیونکہ وہاں فیس ادا کی جاتی ہے، جبکہ سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔اساتذہ کا کہنا ہے کہ سکول، والدین اور مقامی برادری کے درمیان مضبوط رابطہ تعلیمی نظام میں جوابدہی بڑھانے، طلبہ کی کارکردگی بہتر بنانے اور سرکاری سکولوں پر عوامی اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر والدین باقاعدگی سے سکولوں کا دورہ کریں اور اساتذہ کے ساتھ رابطے میں رہیں تو طلبہ اور اساتذہ کے درمیان موجود کسی بھی خلا کو آسانی سے پْر کیا جا سکتا ہے، جس سے مجموعی تعلیمی ماحول بہتر ہوگا اور بچوں کی ہمہ جہت ترقی ممکن ہو سکے گی۔










