Population growth rate

جموں و کشمیر میں شرحِ افزائشِ آبادی 1.8 تک پہنچ گئی

خاندانی منصوبہ بندی کے استعمال میں نمایاں کمی،جراحی زچگیوں کی شرح تشویشناک حد تک بلند، صحت ماہرین فکر مند

سرینگر// یو این ایس// نیشنل فیملی ہیلتھ سروے،6 کی تازہ رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں شرحِ افزائشِ آبادی بڑھ کر 1.8 بچوں فی خاتون تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ چند دہائیوں کے دوران آبادی کے رجحانات میں ایک اہم تبدیلی تصور کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کے استعمال میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سیزیرین زچگیوں کی شرح تشویشناک حد تک بلند ریکارڈ کی گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق سال 2023-24کے دوران جمع کیے گئے اعداد و شمار پر مبنی اس سروے کے مطابق جموں و کشمیر میں شرحِ افزائشِ آبادی نیشنل فیملی ہیلتھ سروے-5 میں درج 1.4 کے مقابلے میں بڑھ کر 1.8 ہوگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق کئی برسوں سے خاندان کے حجم میں مسلسل کمی کا رجحان جاری تھا، تاہم تازہ اعداد و شمار اس رجحان میں جزوی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس سے قبل ؎2015-16میں ہونے والے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے-4 سروے میں بھی شرحِ افزائش تقریباً 1.8 ریکارڈ کی گئی تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شادی شدہ خواتین میں خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کے استعمال میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سروے کے مطابق 15 سے 49 سال عمر کی شادی شدہ خواتین میں کسی بھی خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے کے استعمال کی شرح 53 فیصد سے کم ہو کر 40.4 فیصد رہ گئی ہے۔ ماہرین اس تبدیلی کو تاخیر سے شادی، نقل مکانی، مانع حمل سہولیات تک رسائی میں رکاوٹوں اور سماجی رویوں میں تبدیلی سے جوڑ رہے ہیں۔سروے میں جموں و کشمیر میں سیزیرین آپریشن کے ذریعے ہونے والی زچگیوں کی غیر معمولی بلند شرح بھی سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 51 فیصد بچوں کی پیدائش سیزیرین آپریشن کے ذریعے ہوئی، جو طبی ماہرین کی جانب سے ضروری سمجھی جانے والی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ نجی اسپتالوں میں یہ شرح 90 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ سرکاری اداروں میں 48.6 فیصد زچگیاں سیزیرین کے ذریعے انجام پائیں۔یو این ایس کے مطابق اگرچہ بعض شعبوں میں تشویش پائی گئی، تاہم ماں اور بچے کی صحت سے متعلق کئی اشاریوں میں بہتری بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ادارہ جاتی زچگیوں کی شرح 93.6 فیصد رہی جبکہ تقریباً 95 فیصد زچگیاں تربیت یافتہ طبی عملے کی نگرانی میں انجام پائیں۔بچوں کی غذائیت اور حفاظتی ٹیکہ کاری کے شعبے میں بھی مثبت پیش رفت درج کی گئی ہے۔ 12 سے 23 ماہ عمر کے تقریباً 90 فیصد بچوں کو مکمل حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں، جبکہ خسرہ، ہیپاٹائٹس-بی اور روٹا وائرس ویکسین کی کوریج میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔پانچ سال سے کم عمر بچوں میں قد کی کمی کی شرح 26.9 فیصد سے کم ہو کر 21.4 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ جسمانی کمزوری 19 فیصد سے گھٹ کر 10.6 فیصد رہ گئی ہے۔ کم وزن بچوں کی شرح میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے۔دوسری جانب طرزِ زندگی سے جڑی بیماریوں میں اضافہ صحت کے شعبے کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں ایک تہائی سے زائد خواتین موٹاپے یا زائد وزن کا شکار ہیں جبکہ ایک چوتھائی سے زیادہ مرد بھی اسی زمرے میں شامل ہیں۔ تقریباً 25 فیصد خواتین اور 20.9 فیصد مرد بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر) میں مبتلا پائے گئے، جبکہ آبادی کے ایک نمایاں حصے میں خون میں شوگر کی سطح بھی خطرناک حد تک بلند ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق سرکاری صحت بیمہ اسکیموں کے بہتر نفاذ کے نتیجے میں صحت بیمہ سے مستفید ہونے والے گھرانوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے-5 میں جہاں صرف 13.8 فیصد گھرانوں کے کسی ایک فرد کے پاس صحت بیمہ تھا، وہیں نیشنل فیملی ہیلتھ سروے-6 میں یہ شرح بڑھ کر 96 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماں اور بچے کی صحت، غذائیت اور حفاظتی ٹیکہ کاری کے شعبوں میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے، تاہم خاندانی منصوبہ بندی کے استعمال میں کمی، سیزیرین زچگیوں کی بلند شرح اور موٹاپے، بلڈ پریشر و ذیابیطس جیسے امراض میں اضافہ مستقبل میں صحت عامہ کے لیے سنجیدہ چیلنج بن سکتے ہیں۔