کشمیر میں شدید موسمی واقعات کے امکانات میں اضافہ

کشمیر میں شدید موسمی واقعات کے امکانات میں اضافہ

ژالہ باری، بادل پھٹنے اور تیز آندھیوں نے باغبانی شعبے کی تشویش بڑھا دی

سرینگر// یو این ایس// کشمیر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے اثرات نے وادی کے زرعی اور باغبانی شعبے کیلئے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین موسمیات اور ماحولیاتی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں کشمیر میں غیر متوقع اور شدید موسمی واقعات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جن میں ڑالہ باری، گرج چمک، آسمانی بجلی، تیز آندھیاں، مختصر وقت کی موسلادھار بارشیں اور بادل پھٹنے جیسے خطرناک واقعات شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی حدت اور ‘‘ایل نینو’’ جیسے موسمی عوامل ہمالیائی خطے کے موسمی نظام کو متاثر کررہے ہیں، جس کے باعث وادی میں موسم کی شدت اور بے ترتیبی مسلسل بڑھ رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر گزشتہ چند برسوں کے دوران ایسے متعدد موسمی واقعات کا مشاہدہ کر چکا ہے جنہوں نے باغبانی اور زراعت کو براہ راست متاثر کیا۔ اچانک ژالہ باری اور تیز بارشوں کے نتیجے میں سیب، چیری اور دیگر پھلوں کی فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، جبکہ کئی علاقوں میں تیز آندھیوں نے درختوں اور فصلوں کو متاثر کیا۔ باغ مالکان کا کہنا ہے کہ موسم کی غیر یقینی صورتحال نے ان کے اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے اور پیداوار کے معیار پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔قومی ادارہ برائے آبیات سے وابستہ ماہرین کے مطابق ‘‘ایل نینو’’ بحرالکاہل کے درجہ حرارت میں تبدیلی کا ایک اہم موسمی مرحلہ ہے، جو دنیا بھر کے موسمی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایل نینو براہ راست بادل پھٹنے یا ڑالہ باری کا سبب نہیں بنتا، تاہم یہ فضائی گردش اور نمی کے نظام میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے جو شدید مقامی طوفانوں کیلئے سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں۔ماہرین نے وضاحت کی کہ کشمیر میں مارچ سے ستمبر تک کنویکٹو ایکٹیویٹی زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ اس دوران زمین کی سطح پر درجہ حرارت بڑھنے سے گرم ہوا تیزی سے اوپر اٹھتی ہے اور فضا میں موجود نمی کے ساتھ مل کر طوفانی بادل تشکیل دیتی ہے۔ یہی بادل بعض اوقات شدید ژالہ باری، تیز ہواؤں، آسمانی بجلی اور موسلادھار بارشوں کا سبب بنتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی حدت کے نتیجے میں اس قسم کی موسمی سرگرمیوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔موسمیاتی ماہرین نے کہا کہ کشمیر کا باغبانی شعبہ ان موسمی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے کیونکہ سیب اور دیگر پھلوں کی فصلیں مخصوص مراحل میں انتہائی حساس ہوتی ہیں۔ خاص طور پر پھول اور پھل بننے کے دوران اگر ڑالہ باری یا شدید بارش ہوجائے تو پوری فصل متاثر ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر کسانوں اور باغ مالکان کو 24 سے 48 گھنٹے پہلے درست موسمی اطلاع فراہم کی جائے تو وہ فصلوں کو بچانے کیلئے حفاظتی جال، اسپرے یا دیگر احتیاطی اقدامات کرسکتے ہیں۔ماہرین نے جدید موسمی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈوپلر ریڈار سسٹم نے مختصر مدتی پیشگوئیوں اور بروقت موسمی انتباہات میں اہم بہتری لائی ہے۔ محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق یہ نظام طوفانی بادلوں، بارش کی شدت، ہواوں کی رفتار اور موسمی نظام کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کے حساس اور دور دراز علاقوں میں ریڈار کوریج کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطرناک موسمی سرگرمیوں کی بروقت شناخت ممکن بنائی جاسکے۔یو این ایس کے مطابق ڈیزاسٹر مینجمنٹ ماہرین کے مطابق بروقت موسمی انتباہات نہ صرف کسانوں بلکہ عام شہریوں، سیاحتی شعبے اور امدادی اداروں کیلئے بھی بے حد اہم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بادل پھٹنے یا شدید بارشوں جیسے واقعات اکثر اچانک پیش آتے ہیں، جس کے باعث جانی و مالی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر مقامی سطح پر جدید انتباہی نظام مؤثر بنایا جائے تو نقصانات کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ادھر وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے باغ مالکان اور کسانوں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انہیں بار بار غیر متوقع موسم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کبھی بہار کے دوران ژالہ باری، کبھی غیر معمولی بارشیں اور کبھی شدید ہوائیں فصلوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، جس سے ان کی سال بھر کی محنت متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موسمی پیشگوئی نظام کو جدید بنایا جائے اور کسانوں کو بروقت اطلاعات فراہم کرنے کیلئے مقامی سطح پر مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ بڑھتے موسمی خطرات سے نمٹا جاسکے۔