20 ہزار میگاواٹ صلاحیت کے باوجود توانائی شعبہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار
سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے گزشتہ برس بڑے پیمانے پر اعلان کی گئی نئی ہائیڈرو پاور پالیسی ایک سال گزرنے کے باوجود تاحال تعطل کا شکار ہے اور حکومت کی طرف سے اس بات کا بھی کوئی واضح اشارہ نہیں دیا جا رہا کہ یہ پالیسی آخر کب نافذ العمل ہوگی۔یہ اہم اعلان وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 7 مارچ 2025 کو مالی سال 2025-26کا بجٹ پیش کرتے ہوئے قانون ساز اسمبلی میں کیا تھا۔ پاور اور خزانہ دونوں محکموں کا قلمدان اپنے پاس رکھنے والے وزیر اعلیٰ نے اس وقت کہا تھا کہ حکومت جموں و کشمیر میں پن بجلی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے، نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور پائیدار توانائی کے فروغ کیلئے نئی ہائیڈرو پاور پالیسی متعارف کرائے گی۔یو این ایس کے مطابق اس اعلان کے بعد سرکاری و صنعتی حلقوں میں کافی امیدیں پیدا ہوئی تھیں کیونکہ جموں و کشمیر میں پن بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے جس کا بڑا حصہ اب تک استعمال نہیں ہو سکا۔ تاہم ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مجوزہ پالیسی نہ حتمی شکل اختیار کر سکی اور نہ ہی اسے باضابطہ طور پر نافذ کیا گیا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ محکمہ نے 8 دسمبر 2025 کو پالیسی کا مسودہ عوامی سطح پر جاری کرتے ہوئے ماہرین، اداروں، صنعت کاروں اور عام شہریوں سے ایک ماہ کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کئے تھے، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے کئی ماہ بعد بھی مشاورتی عمل جاری ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ توانائی کو پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ صلاح و مشورہ مکمل کرنا ہوگا، اس کے بعد موصولہ تجاویز کی بنیاد پر مسودے میں ضروری ترامیم کی جائیں گی اور پھر پالیسی کو منظوری کیلئے وزراء کونسل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ تاہم سرکاری سطح پر اس سارے عمل کیلئے کوئی ٹائم فریم طے نہیں کیا گیا ہے۔رواں برس فروری میں بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی کے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے، بطور وزیر انچارج پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، صرف اتنا کہا تھا کہ ہائیڈرو پاور پالیسی کا مسودہ تیار کرکے عوامی رائے کیلئے جاری کیا گیا ہے، لیکن پالیسی کو حتمی شکل دینے کی کوئی متوقع تاریخ نہیں بتائی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طویل تاخیر سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ بجٹ تقاریر میں کئے جانے والے کئی بڑے اعلانات محض مشاورتی اور ابتدائی مراحل تک محدود رہ جاتے ہیں جبکہ ان پر عملدرآمد کیلئے کوئی واضح روڈ میپ سامنے نہیں آتا۔حکام کے مطابق اگر حکومت مشاورتی مرحلے سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات نہیں کرتی تو جموں و کشمیر کی وسیع پن بجلی صلاحیت کو بروئے کار لانے کا خواب محض بجٹ تقریروں تک محدود رہ سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ امر قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر حکومت اس سے قبل 2003 اور پھر 2011 میں بھی انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر ماڈل کے تحت پن بجلی منصوبوں کی ترقی کیلئے پالیسیاں متعارف کرا چکی ہے۔ تاہم سابقہ پالیسیوں کے ملے جلے نتائج اور سستی قابلِ تجدید توانائی ذرائع کی دستیابی کے باعث حکومت نے موجودہ پالیسی ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کی۔ذرائع کے مطابق نئی مجوزہ پالیسی کا بنیادی مقصد 100 میگاواٹ تک کے پن بجلی منصوبوں میں نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دینا اور جموں و کشمیر کیلئے طویل مدتی توانائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔مجوزہ پالیسی میں صرف بجلی پیداوار ہی نہیں بلکہ پن بجلی منصوبوں سے وابستہ دیگر ترقیاتی فوائد کو بھی تسلیم کیا گیا ہے، جن میں بجلی نظام کا استحکام، سڑک رابطوں میں بہتری اور دور دراز و پسماندہ علاقوں کی سماجی و اقتصادی ترقی شامل ہے۔پالیسی مسودے کے مطابق پن بجلی منصوبوں کو دو زمروں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پہلے زمرے میں 25 میگاواٹ تک کے چھوٹے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے جبکہ دوسرے زمرے میں 25 میگاواٹ سے زیادہ اور 100 میگاواٹ تک کے بڑے منصوبے شامل ہوں گے۔مسودے کے تحت 10 میگاواٹ تک کے منصوبوں کیلئے جموں و کشمیر انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی کو نوڈل ایجنسی بنانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 10 میگاواٹ سے زائد منصوبوں کی نگرانی جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کرے گی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 20 ہزار میگاواٹ سے زائد پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن اب تک اس کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی استعمال میں لایا جا سکا ہے۔ نئی پالیسی کا مقصد نجی سرمایہ کاری، ماحولیاتی منظوریوں، انتظامی رکاوٹوں، باز آبادکاری کے نظام اور ریونیو شیئرنگ جیسے دیرینہ مسائل کا جامع حل فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے۔










