جموںوکشمیر بھر سے 52اُمیدواروں کو سری نگر اور جموں میں تقرری کے احکامات جاری, وزیراعلیٰ کا زیرِاِلتوأ معاملات جلد نمٹانے کا یقین
سری نگر//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سول سیکرٹریٹ میں ایس آر او۔43 اور جموں و کشمیر رِی ہیبلٹیشن سکیم کے تحت استفادہ کنندگان میں تقرری کے احکامات تقسیم کئے اور اُن کنبوںکی مدد کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا جنہوں نے ناقابلِ تلافی ذاتی نقصان برداشت کیا ہے۔تقریب میں نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزیر خوراک، شہری رسدات و امورِ صارفین ستیش شرما، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، وزیراعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار اور دیگر سینئراَفسران موجود تھے جبکہ بیرونِ مقام وزرأ ، اَفسران اور مستحقین نے بذریعہ ویڈیوکانفرنسنگ تقریب میں شرکت کی کی۔جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے کُل 52 اُمیدواروں کو سری نگر اور جموں میں بیک وقت منعقدہ تقریبات کے دوران ایس آر او۔43 اور آر اے ایس کے تحت تقرری کے احکامات دئیے گئے۔وزیراعلیٰ نے نئے تعینات مستفیدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صرف اَپنی ذِمہ داری پوری کر رہی ہے اور کوئی احسان نہیں کر رہی۔اُنہوں نے کہا،’’میں سب سے پہلے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سری نگر اور جموں میں آپ کو یہ تقرری نامے دینے والی حکومت آپ پر کوئی احسان نہیں کر رہی بلکہ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ اِس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ہمیں اس بات کا بھی احساس ہے کہ آپ کو ان سرکاری احکامات تک پہنچنے کے لئے بہت بڑی قربانی دینی پڑی ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے عام بھرتی کے عمل اور ہمدردانہ تقرری کے لئے مستفیدین کے حالات کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ عام اُمیدوار اِمتحانات اور انٹرویوز کے ذریعے ملازمت حاصل کرتے ہیں جبکہ ان سکیموں کے تحت تقرری پانے والوں نے گہرے ذاتی سانحات کا سامنا کیا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا، ’’عام طور پر سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لئے ہم اپنے بچوں سے کہتے ہیں کہ وہ اِمتحانات اور انٹرویوز پاس کریں لیکن آپ نے جس امتحان کا سامنا کیا وہ کہیں زیادہ مشکل تھا کیوں کہ اس مرحلے تک پہنچنے کے لئے آپ کو اپنے کسی عزیز کو کھونا پڑا۔ اِسی لئے میں کہتا ہوں کہ ہم یہ احکامات کسی احسان کے طور پر نہیں دے رہے بلکہ ایک اَخلاقی ذِمہ داری اَدا کر رہے ہیں۔‘‘وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ایک بڑے کنبہ کی مانند کام کرتی ہے اور غم و مصیبت کے وقت ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنا ضروری ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ یہ حکومت اور اس میں کام کرنے والے ہم سب ، چاہے وہ سیکرٹریٹ میں ہوں یا باہر، ایک بڑے کنبے کی طرح کام کریں۔ ہمیں نہ صرف ایک دوسرے کے دُکھ درد بانٹنے چاہئیں بلکہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کا سہارا بھی بننا چاہیے۔ یہ اَقدام اِسی سمت میں ایک چھوٹی سی کوشش ہے تاکہ آپ کے کنبے آگے بڑھ سکیں اور مزید تکلیف نہ اُٹھائیں۔‘‘وزیراعلیٰ نے نئے تعینات شدہ افراد پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض دیانت داری اور لگن کے ساتھ انجام دیں اور کہا کہ سرکاری ملازمت ہمیشہ لوگوں کی مدد اور معاشرے میں مثبت کردار اَدا کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔اُنہوں نے کہا، ’’ہماری آپ سے صرف یہی توقع ہے کہ آپ جہاں بھی تعینات ہوں،جموں و کشمیر کے عوام کی خدمت ایمانداری، عزم اور لگن کے ساتھ کریں۔ حکومت میں ہمارا کردار کچھ بھی ہو، ہمارا مقصد ایک ہی ہے — کہ شام کو گھر لوٹتے وقت ہمیں یہ اطمینان ہو کہ ہمارے دن کے کام سے کسی کا بھلا ہوا۔ اگر آپ دیانت داری سے اَپنے فرائض انجام دیں گے تو یہی ان لوگوں کی یادوں کو سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا جن کی وجہ سے آج آپ یہاں تک پہنچے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے اِس بات کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا کہ کہ ہمدردانہ تقرری کے اہل مستحقین کو دفاتر کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔اُنہوں نے کہا، ’’ہم اس بات کے لئے پُرعزم ہیں کہ آپ کو اپنی تقرری کے احکامات حاصل کرنے کے لئے دربدر نہ ہونا پڑے۔ یہ آپ سب کے ساتھ بڑی نااِنصافی ہوگی۔ ہم اس عمل کو تیز بنائیں گے اور باقی تمام معاملات کو جلد از جلد نمٹایا جائے گا۔‘‘استفادہ کنندگان نے بروقت تقرریاں فراہم کرنے اور مشکل وقت میںکنبوں کی مدد کرنے پر وزیراعلیٰ اور اِنتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔










