گلوان پورہ بڈگام میں صف ماتم ، علاقے میں کہرام

موت کی تحقیقات شروع ، ڈی ایس پی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم تشکیل / پولیس

سرینگر / سی این آئی // وسطی بڈگام کے گلوان پورہ علاقے میں اس وقت کہرام مچ گئی جب لاپتہ 12سالہ معصوم بچی قریبی کھیتوں میں مردہ پائی گئی ۔ ادھر پولیس نے ڈی وائی ایس پی ہیڈ کواٹر کی نگرانی میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم واقعہ کے اردگرد کے حالات کا پتہ لگانے کے لیے تمام ممکنہ زاویوں کا جائزہ لے رہی ہے اور یقین دلاتی ہے کہ تحقیقات کو منصفانہ، شفاف اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیا جائے گا۔سی این آئی کے مطابق بڈگام کے گلوان پورہ علاقے سے لاپتہ 12سالہ شیزہ کی نعش نزدیکی کھیتوں سے بر آمد ہوئی ۔ حکام نے بتایا کہ بچی سنیچروار کے روز لاپتہ ہو گئی تھی، جس سے خاندان کے افراد اور مقامی باشندوں نے تلاش کی کارروائی شروع کی۔انہوں نے کہا کہ اتوار کو ایک قریبی کھیت سے لاش برآمد ہوئی جس سے پورے علاقے میں صدمے اور غم کی لہر دوڑ گئی۔ادھر پولیس نے موقع پر پہنچ کر واقعہ کا نوٹس لے لیا۔ قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس بیان کے مطابق 23 مئی کو پولیس اسٹیشن بڈگام میں ایک نابالغ لڑکی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع موصول ہوئی، جس کی عمر تقریباً 12 سال تھی، جو مبینہ طور پر شام کے اوقات میں اپنی رہائش گاہ سے لاپتہ ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن بڈگام نے قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر نمبر 139/2026درج کیا اور فوری طور پر وسیع تلاشی مہم شروع کی۔ آج علی الصبح مذکورہ نابالغ لڑکی کی لاش اس کی رہائش گاہ سے تھوڑے فاصلے پر برآمد ہوئی۔ اس کے بعد، تمام ضروری طبی قانونی اور تفتیشی رسمی کارروائیاں شروع کی گئیں۔بیان کے مطابق ڈی وائی ایس پی ہیڈ کوارٹر بڈگام سجاد احمدکی نگرانی میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم واقعہ کے اردگرد کے حالات کا پتہ لگانے کے لیے تمام ممکنہ زاویوں کا جائزہ لے رہی ہے اور یقین دلاتی ہے کہ تحقیقات کو منصفانہ، شفاف اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیا جائے گا۔پولیس نے تمام میڈیا اہلکاروں اور عوام کے ارکان، خاص طور پر سوشل میڈیا صارفین سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ نابالغ کی شناخت یا تصویر کو ظاہر کرنے سے گریز کریں، کیونکہ قانون کے تحت ایسی تفصیلات کا افشاء کرنا ممنوع ہے۔