جموں و کشمیر میں صحت کا نظام دوہری آزمائش سے دوچار

جموں و کشمیر میں صحت کا نظام دوہری آزمائش سے دوچار

5 ہزار سے زائد اسامیاں خالی، دیہی علاقوں میں طبی خدمات متاثر

سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر میں صحت کے شعبے میں ایک طرف جہاں انفراسٹرکچر کی تیز رفتار توسیع اور جدید سہولیات کی فراہمی جاری ہے، وہیں دوسری جانب طبی اور پیرا میڈیکل عملے کی شدید کمی نظام کی کارکردگی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یونین ٹیریٹری میں اس وقت ہزاروں اسامیاں خالی ہیں، جن میں تقریباً 1,635 گزٹڈ اور 3,616 نان گزٹڈ عہدے شامل ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر پانچ ہزار سے زائد اسامیوں کی عدم دستیابی صحت خدمات کی فراہمی کو متاثر کر رہی ہے، خاص طور پر دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں۔یو این ایس کے مطابق ضلع وار جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں سرینگر، بارہمولہ اور اننت ناگ جیسے اضلاع میں عملے کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے، وہیں بڈگام، کپواڑہ، ڈوڈہ اور کشتواڑ جیسے علاقوں میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی نمایاں کمی پائی جاتی ہے۔ بعض اضلاع میں پیرا میڈیکل عملے کی آدھی سے زیادہ اسامیاں خالی ہیں، جس سے اسپتالوں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق کشمیر ڈویڑن میں عملے کی صورتحال غیر متوازن ہے۔سرینگر میں طبی عملے کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے جہاں 196 میں سے تمام 196 مستقل میڈیکل اسامیاں پْر ہیں، جبکہاین ایچ ایم کے تحت 79 میں سے 71 اسامیاں بھری گئی ہیں۔ پیرا میڈیکل شعبے میں 219 میں سے 103 مستقل اور 452 میں سے 389 این ایچ ایم اسامیاں پْر ہیں، جس کے نتیجے میں بالترتیب 116 اور 63 آسامیاں خالی ہیں۔گاندر بل میں 174 میں سے 150 مستقل اور 54 میں سے 48 این ایچ ایم میڈیکل اسامیاں پْر ہیں، جبکہ پیرا میڈیکل میں 460 میں سے 343 مستقل اور 325 میں سے 262 این ایچ ایم اسامیاں بھری گئی ہیں۔بڈگام میں 411 میں سے 373 میڈیکل اور تمام 120 این ایچ ایم اسامیاں پْر ہیں، تاہم پیرا میڈیکل شعبہ شدید بحران کا شکار ہے، جہاں 1,290 میں سے صرف 386 مستقل اور 562 میں سے 512 این ایچ ایم اسامیاں پْر ہیں، یعنی مجموعی طور پر 954 آسامیاں خالی ہیں۔پلوامہ میں 267 میں سے 231 مستقل اور تمام 37 این ایچ ایم میڈیکل اسامیاں پْر ہیں، جبکہ پیرا میڈیکل میں 825 میں سے 585 مستقل اور 326 میں سے 292 این ایچ ایم اسامیاں پْر ہیں۔بارہمولہ میں 296 مستقل اور 141 این ایچ ایم میڈیکل اسامیاں پْر ہیں، جبکہ پیرا میڈیکل میں 675 میں سے 420 مستقل اور 806 میں سے 704 این ایچ ایم اسامیاں بھری گئی ہیں۔بانڈی پورہ میں 120 مستقل اور 44 این ایچ ایم میڈیکل اسامیاں پْر ہیں، جبکہ پیرا میڈیکل میں 525 میں سے 427 مستقل اور 280 میں سے 268 این ایچ ایم اسامیاں پْر ہیں۔کولگام میں 184 مستقل اور 77 این ایچ ایم میڈیکل اسامیاں پْر ہیں، جبکہ پیرا میڈیکل میں 695 میں سے 437 مستقل اور 504 میں سے 474 این ایچ ایم اسامیاں بھری گئی ہیں۔کپواڑہ میں صورتحال تشویشناک ہے جہاں 349 میں سے صرف 206 مستقل اور 142 میں سے 124 این ایچ ایم میڈیکل اسامیاں پْر ہیں، جبکہ پیرا میڈیکل میں 953 میں سے 593 مستقل اور 831 میں سے 738 این ایچ ایم اسامیاں پْر ہیں۔شوپیاں میں 112 میں سے 102 مستقل اور تمام 19 این ایچ ایم میڈیکل اسامیاں پْر ہیں، جبکہ پیرا میڈیکل میں 171 میں سے 86 مستقل اور 240 میں سے 225 این ایچ ایم اسامیاں پْر ہیں۔اننت ناگ میں 267 میں سے 225 مستقل اور 77 میں سے 73 این ایچ ایم میڈیکل اسامیاں پْر ہیں، جبکہ پیرا میڈیکل میں 1,191 میں سے 874 مستقل اور 588 میں سے 541 این ایچ ایم اسامیاں پْر ہیں۔جموں ڈویژن میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے۔ جموں میں 346 میں سے 267 میڈیکل اور 1,021 میں سے 651 پیرا میڈیکل اسامیاں پْر ہیں۔وڈہ میں 109 میں سے 45 میڈیکل اور 251 میں سے 162 پیرا میڈیکل، کٹھوعہ میں 173 میں سے 77 میڈیکل اور 386 میں سے 261 پیرا میڈیکل، جبکہ کشتواڑ میں 81 میں سے 43 میڈیکل اور 238 میں سے 163 پیرا میڈیکل اسامیاں پْر ہیں۔رام بن میں 115 میں سے 67 میڈیکل اور 231 میں سے 155 پیرا میڈیکل، راجوری میں 153 میں سے 68 میڈیکل اور 407 میں سے 236 پیرا میڈیکل، ریاسی میں 104 میں سے 49 میڈیکل اور 181 میں سے 109 پیرا میڈیکل اسامیاں پْر ہیں۔پونچھ میں 172 میں سے 72 میڈیکل اور 358 میں سے 216 پیرا میڈیکل، سانبہ میں 147 میں سے 91 میڈیکل اور 268 میں سے 171 پیرا میڈیکل جبکہ ادھمپور میں 108 میں سے 54 میڈیکل اور 261 میں سے 157 پیرا میڈیکل اسامیاں پْر ہیں۔یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ کچھ اضلاع میں صورتحال بہتر ہے، تاہم کئی علاقوں میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے کی شدید کمی صحت خدمات کی مؤثر فراہمی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔محکمہ صحت نے 480 نئے میڈیکل آفیسر عہدوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں بھرتی کے لیے بھیجا جا رہا ہے، جبکہ 133 بیک لاگ اسامیاں زیرِ غور ہیں۔اسی طرح 292 پیرا میڈیکل اسامیاں بھرتی کے لیے بھیجی گئی ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں 197 گزٹڈ اور 772 نان گزٹڈ اسامیاں اشتہار کے لیے بھیجی گئیں۔انفراسٹرکچر کے میدان میں کئی بڑے منصوبے جاری ہیں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج بارہمولہ میں 25 کروڑ روپے کی لاگت سے ’ایم آر آئی‘مشین نصب کی جا رہی ہے، جبکہ 12.5 کروڑ روپے کی لاگت سے کیتھ لیب منظور ہو چکی ہے جس میں سے 9.37 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔اسی طرح 80 لاکھ روپے کی لاگت سے بایومیڈیکل ویسٹ مینجمنٹ یونٹ اور 2 کروڑ روپے کی لاگت سے مصنوعی ذہانت بیسڈ ڈیجیٹل ایکس رے مشینوں کی خریداری کا عمل جاری ہے۔ امرا گڑھ اور سوپور میں آیوش مراکز کے لیے 50 کنال زمین مختص کی گئی ہے۔اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ہر 3,500 افراد کے لیے ایک طبی ادارہ دستیاب ہے، تاہم زمینی سطح پر خاص طور پر دور دراز علاقوں میں اینستھیزیا، سرجری اور ریڈیالوجی جیسے اہم شعبوں میں ماہرین کی کمی برقرار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مستقل بھرتیاں نہ کی گئیں تو صحت کا نظام دو حصوں میں تقسیم ہو سکتا ہے—شہری علاقوں میں بہتر سہولیات اور دیہی علاقوں میں محدود خدمات۔ انہوں نے زور دیا کہ انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل پر بھی یکساں توجہ دینا ناگزیر ہے تاکہ صحت کے نظام کو مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکے۔