آنگن واڑی ورکرز اور ہیلپرز نچلی سطح پر بچوں کی فلاح و بہبود اور کمیونٹی کی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔سکینہ اِیتو

آنگن واڑی ورکرز اور ہیلپرز نچلی سطح پر بچوں کی فلاح و بہبود اور کمیونٹی کی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔سکینہ اِیتو

ایک صحت مند اور بااِختیار مستقبل کی بنیاد رکھنے کیلئے آنگن واڑی ورکرز اور ہیلپروں کی ستائش کی

جموں//وزیر برائے سماجی بہبود، تعلیم، صحت و طبی تعلیم محکمہ جات سکینہ اِیتو نے آج کہا کہ آنگن واڑی وکرز(اے ڈبلیو ڈبلیو) اور ہیلپرز نچلی سطح پر بچوں کی فلاح و بہبود اور کمیونٹی کی ترقی میں ریڑھ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کا کردار خدمات کی فراہمی سے کہیں زیادہ ہے۔وزیر موصوفہ گورنمنٹ پولی تکنیک کالج جموں میں منعقدہ آٹھویں پوشن پکھواڑا تقریبات کی اِختتامی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔اِس موقعہ پر مشن ڈائریکٹرآئی سی ڈِی ایس سجاد حسین گنی، سیکرٹری محکمہ سوشل ویلفیئر بشیر احمد خان، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر جموں رنجیت سنگھ، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں ڈاکٹر عبد الحمید زرگر،پروگرام اَفسران، سی ڈِی پی اوز، سپروائزرز اور بڑی تعداد میں آنگن واڑی ورکرزاور ہیلپرز موجود تھے۔وزیر سکینہ اِیتو نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آنگن واڑی ورکرز اور ہیلپرز کی لگن اور انتھک کوششوں کو سراہا اور انہیں نچلی سطح پر بچوں کی فلاح و بہبود اور غذائیت کی خدمات کی ریڑھ کی ہڈی قرار دِیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ان کا کردار محض خدمات کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ وہ دیہی اور شہری علاقوں میں ماؤں، بچوں اورکنبوں کے لئے پہلا رابطہ بنتی ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’آنگن واڑی ورکرز نچلی سطح پر حقیقی تبدیلی لانے والے ہیں۔ اِبتدائی بچپن کی نگہداشت، غذائیت، پری سکول تعلیم اور بچوں کی فلاح کے لئے ان کی وابستگی ایک صحت مند اور بااِختیار مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہے۔‘‘وزیر موصوفہ نے کہا کہ آئی سی ڈِی ایس ایک بہت بڑا شعبہ ہے اور اس میں ہماری زائد اَز,000 28 بہنیں کام کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا،’’سماجی بہبود کے اس شعبے سے تعلیم، صحت اور دیگر محکمے بھی جُڑے ہوئے ہیں۔ ہماری آنگن واڑی ورکرز اور ہیلپرز اَپنے بنیادی محکمہ کے علاوہ بیداری پروگراموں اور دیگر سرگرمیوں کے دوران ان محکموں میں بھی خدمات انجام دیتی ہیں۔‘‘اُنہوں نے زور دیا کہ ہر بچے کو مناسب غذائیت اور ہر ماں کو ضروری صحت خدمات اور سہولتیں فراہم کرنے کے لئے کنبوں، کمیونٹی اور سرکاری محکموں سمیت تمام شراکت داروں کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ اُنہوں نے پوشن پکھواڑا کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عوامی مہم ہے جو غذائی قلت سے نمٹنے، خواتین اور بچوں کی صحت میں بہتری اور متوازن غذا و اِبتدائی بچپن کی نگہداشت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔سکینہ اِیتو نے آئی سی ڈِی ایس کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ 1996 میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے اس منصوبے کو جموں و کشمیر میں متعارف کیا او رعملایا۔اُنہوں نے بچوں کی نشو و نما کے اَقدامات کے ساتھ حفظانِ صحت سے متعلق بیداری کو مربوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور فیلڈکارکنوں سے کہاکہ وہ کنبوں کو صفائی ستھرائی، غذائیت اور اَحتیاطی صحت کے بارے میں آگاہ کرتے رہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صاف ستھرا ماحول بیماریوں میں کمی اور خواتین و بچوں کے معیارِ زِندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔وزیر موصوفہ نے حکومت کی مختلف کامیابیوں کا ذِکر کرتے ہوئے کہا کہ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت نے میریج اسسٹنس کو 50,000 روپے سے بڑھا کر 75,000 روپے کر دیا ہے اور اِس سکیم سے فائدہ اُٹھانے کے لئے تعلیمی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت آنگن واڑی نظام کو مضبوط بنانے، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانے اور فرنٹ لائن کارکنوں کو ضروری سہولتیں فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ اُنہوں نے یقین دِلایا کہ آنگن واڑی ورکرز اور ہیلپرز کی فلاح و بہبود حکومت کی ترجیح ہے۔
وزیرسکینہ اِیتو نے یہ بھی اعلان کیا کہ محکمہ کو ہدایت دی جا چکی ہے کہ دورانِ ملازمت وفات پانے والی آنگن واڑی ورکرز اور ہیلپرز کے زیر کفالت اَفراد کی تقرری کے لئے پالیسی تیار کی جائے۔مشن ڈائریکٹر آئی سی ڈِی ایس نے اَپنے اِستقبالیہ خطاب میں پوشن پکھواڑا کے دوران کی جانے والی سرگرمیوں کے بڑے پیمانے پر بات کی۔ اُنہوں نے بتایا کہ تقریباً 7,32,000 سرگرمیاں منعقد ہوئیں اور انہیں جن آندولن پورٹل پر اَپ لوڈ کیا گیا۔ اُنہوں نے محکمہ کے کیپکس بجٹ میں اضافے پر وزیر کا شکریہ بھی اَدا کیا اور کہا کہ نئے آنگن واڑی مراکز فعال کئے جائیں گے۔اِس سے قبل وزیرسماجی بہبود نے نئے تعینات آنگن واڑی ورکرز اور ہیلپرز میں تقرری کے احکامات تقسیم کئے۔ انہوں نے آنگن واڑی مراکز میں پری سکولنگ مکمل کرنے والے بچوں میں ودیارامبھ سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کئے۔پروگرام کے دوران آنگن واڑی ورکرزاور ہیلپرز نے بچوں اور ماؤں کے لئے غذائیت کی اہمیت کو اُجاگر کرنے والے مختلف ثقافتی پروگرام بھی پیش کئے۔