اللہُ اکبر، خامنہای رہبر
نایاب افشین
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
یہ صرف الفاظ نہیں تھے، یہ ہماری پہچان تھے۔ یہ وابستگی تھی، یہ عقیدت تھی، یہ ایک روحانی نسبت تھی۔ رہبر کا تصور ہمارے لیے صرف سیاسی قیادت نہیں تھا بلکہ ایک روحانی سایہ تھا ۔ ایسا سایہ جو فکری انتشار میں سمت دکھاتا تھا، جو زمانے کی گرد میں یقین کی شمع روشن رکھتا تھا، جو دلوں کو حوصلہ دیتا تھا اور ایمان کو تازہ رکھتا تھا۔ آج دل میں ایک عجیب کیفیت ہے۔ یتیمی کا مفہوم پہلے کبھی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ اب محسوس ہوا ہے کہ یتیمی صرف کسی عزیز کے جسمانی نہ رہنے کا نام نہیں۔ یتیمی وہ لمحہ ہے جب انسان اچانک اپنے اندر ایک وسیع خلا محسوس کرے، جیسے دعا دینے والا ہاتھ سر سے اٹھ جائے، جب رہنمائی کی وہ مانوس آواز خاموش ہو جائے، جب دل بار بار یہی سوال کرے: اب کس کو دیکھ کر حوصلہ پکڑیں؟ یتیمی وہ خاموش چیخ ہے جو باہر سنائی نہیں دیتی مگر اندر سب کچھ ہلا دیتی ہے۔ میں اکثر سوچا کرتی تھی کہ اگر کبھی انہیں کچھ ہو گیا تو میرا کیا ہوگا؟ پھر دل خود ہی کہتا تھا: اس سے بہتر ہے کہ میری آنکھیں پہلے بند ہو جائیں۔ مگر آج جب وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں تو میں زندہ کیسے ہوں؟ یہی سوال دل کے اندر طوفان بن کر اٹھتا ہے۔ سچ پوچھو تو میری کیفیت دو متضاد احساسات کے درمیان جھولتی رہی۔ ایک طرف عجیب سی مسرت کہ ہمارے امام خامنہ ای کو شہادت نصیب ہوئی۔ وہ مقام جس کی وہ ہمیشہ آرزو رکھتے تھے۔ کتنی عظیم سعادت ہے کہ انسان اپنی آخری سانس تک اپنے مقصد پر قائم رہے اور اسی راہ میں سرخرو ہو، اور دوسری طرف ایسا غم جو لفظوں میں ڈھلنے سے انکار کرتا ہے کہ ہم پیچھے رہ گئے۔ ہم یتیم ہو گئے۔
آج بھی یاد آتا ہے کہ جب کوئی ایران چلا جاتا تھا اور میں بہت چھوٹی سی تھی تو یہ سمجھتی تھی کہ وہ رہبر سے ملنے جا رہا ہے۔ فون پر جب بات ہوتی تو معصومیت سے پوچھتی: “آپ اُن سے ملے؟ میرا سلام ضرور کہیے گا۔” اور اکثر سوچا کرتی تھی کہ اگر کبھی ان سے ملاقات ہوئی تو میں انہیں گلے سے لگا لوں گی۔ وقت گزرا، میں بڑی ہو گئی تو خیال بدلا اب سوچتی تھی کہ جب ملوں گی تو عرض کروں گی: اپنا دستِ شفقت میرے سر پر رکھ دیجیے اور میرے لیے دعا کیجیے۔ یہ حسرت دل میں ہی رہ گئی۔ یہ تمنا ادھوری رہ گئی۔ لیکن اسی کرب کے اندر ایک اور حقیقت نے سر اٹھایا ہے۔ اگر آج دل یتیمی کے بوجھ سے جھکا ہوا ہے تو ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ اصل سہارا کسی انسان کی ذات نہیں بلکہ اللہ کی ذات ہے۔ رہبر ہمیں ہمیشہ اسی یقین کی طرف لوٹاتے تھے کہ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے، آزمائش وقتی ہوتی ہے مگر نصرت دائمی۔ انہوں نے ہمیں شخصیت پرستی نہیں، خدا پرستی سکھائی۔ انہوں نے ہمیں خود پر انحصار نہیں بلکہ توکل سکھایا۔
رہبر کے انتقال/شہادت پر ایک گہرے روحانی اور جذباتی غم کا اظہار ہے۔ مصنفہ کے نزدیک رہبر صرف سیاسی رہنما نہیں بلکہ روحانی سایہ اور فکری رہنمائی کا سرچشمہ تھے۔ ان کی جدائی نے دل میں یتیمی اور خلا کا احساس پیدا کر دیا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ یقین بھی ہے کہ انہوں نے خدا پر توکل، حق پر استقامت اور مظلوموں کی حمایت کا درس دیا۔ حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ان کی تعلیمات پر عمل کیا جائے، نماز، قرآن اور دین کی خدمت کو زندگی کا مقصد بنایا جائے۔ مصنفہ شہادت کو عزت و افتخار سمجھتے ہوئے صبر، استقامت اور امام مہدیؑ کے ظہور کی امید کا اظہار کرتی ہیں۔
امام حسین( علیہ السّلام) سے منسوب قول کا مفہوم ہے:
“ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔”
ہم نے یہی سبق کربلا سے لیا ہے کہ عزت کے ساتھ جینا اور اگر وقت آئے تو عزت کے ساتھ مرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ شہادت ہماری مقدس میراث ہے، وہ میراث جو کربلا سے شروع ہوئی اور آج تک زندہ ہے۔ اور ہم اسی پر ثابت قدم رہیں گے۔ ان شاء اللہ۔
شہید امام خامنہای (رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ) کو سب سے بڑا خراجِ عقیدت صرف آنسو نہیں۔ سب سے بہترین خراج یہ ہے کہ ہم ان کی بات سنیں اور اس پر عمل کریں۔ وہ ہمارے روحانی باپ تھے، ہمارے استاد، ہمارے رہنما، ہمارے ستون، وہ ہمیشہ ہمیں نصیحت کرتے تھے کہ ہم مہربان بنیں، مظلوموں کی مدد کریں، نماز بروقت ادا کریں، قرآنِ مجید کی تلاوت کریں، دینِ اسلام کی خدمت کریں اور صلوٰۃ اللیل کا اہتمام کریں۔ وہ ہمارے لیے ہمیشہ بہترین چاہتے تھے ـ ہمارے دین کے لیے، ہمارے کردار کے لیے، ہماری آخرت کے لیے۔ وہ گرم آغوش تھے جس کی طرف ہم محبت، تسکین، تحفظ، علم اور دانائی کے لیے لوٹ آتے تھے۔ وہ ہماری پناہ تھے، وہ سائبان جو ہمیں ہمارے اپنے نفس سے بچاتا تھا، جو ہمیں بے دین دشمن کی جھلسا دینے والی آگ سے محفوظ رکھتا تھا۔
میرے پیارے رہبر!
آپ ایک ہی وجود میں گویا سب کچھ تھے۔
آپ ایک ہی شخصیت میں سب کے لیے سب کچھ تھے۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اُس نے میری آنکھوں کو چاہے دور سے ہی سہی، آپ کے دیدار اور زیارت کا شرف عطا فرمایا۔ آپ اتنے خوبصورت ہیں کہ میرا دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ جب بھی میں اسکرین پر یا آپ کی بہت سی تصاویر میں آپ کا چہرہ دیکھتی ہوں یا آپ کی آواز سنتی ہوں، تو میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑتے ہیں۔
اگر ہم واقعی آپ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں آپ کی فکر کو زندہ رکھنا ہوگا۔ ہمیں اپنے اندر وہی انقلاب برپا کرنا ہوگا جس کی آپ تمنا رکھتے تھے۔ یتیمی کا کرب ہمیں توڑنے کے لیے نہیں آیا، سنوارنے کے لیے آیا ہےـ اگر دل ٹوٹا ہے تو اسے اللہ کے سامنے جھک کر جوڑنا ہوگا۔ اگر آنکھیں اشکبار ہیں تو ان اشکوں کو عہد میں بدلنا ہوگا۔ شاید یہی صبر کی معراج ہے کہ دل زخمی ہو مگر یقین سلامت رہے۔
کہ آنکھیں بھیگیں مگر قدم ڈگمگائیں نہیں۔
کہ سایہ اٹھ جائے مگر راستہ نہ چھوٹے۔
اور یہی سچا خراجِ عقیدت ہے۔
اور پھر بھی۔۔۔۔
میرا دل اب تک یقین نہیں کر پاتا۔ شہادت کی خبر کے بعد دوسری رات جب میں سوئی تو دل میں ایک امید تھی کہ شاید یہ سب ایک ڈراؤنا خواب ہو۔ صبح آنکھ کھلی تو ایک لمحے کے لیے یہی خیال آیا کہ کل کی خبر محض ایک بھیانک خواب تھی۔ مگر جب حقیقت نے خود کو دوبارہ منوایا تو وہ زخم پھر سے ہرا ہو گیا اور ٹوٹے ہوئے دل نے ایک بار پھر وہی اذیت محسوس کی۔ آج بھی دل ماننے کو تیار نہیں کہ آپ واقعی ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
ہم اُس مؤقف کو کبھی فراموش نہیں کریں گے جو آپ نے اختیار کیا۔ ہم آپ کی جرأت اور بہادری کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہم یہ بھی نہیں بھولیں گے کہ نام نہاد مسلم ممالک نے آپ کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔
ہم گواہ ہیں۔
آپ کے بعد یہ دنیا ہمارے لیے پہلے جیسی نہیں رہی۔
ہم زندہ ہیں تو صرف اس امید پر کہ آپ کے خون کا بدلہ لیا جائے، اور ہم امام مہدی (عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور کے منتظر ہیں، تاکہ ہم اُن کے قدموں کو بوسہ دے سکیں اور اپنے دلوں کو قرار ملتا دیکھ سکیں۔ اے اللہ! اُن کے ظہور میں تعجیل فرما،اور ہمیں ان کے سچے پیروکاروں اور جان نثار سپاہیوں میں شامل کر دے، اور ہمیں ان کے مقصد کے لیے ثابت قدم رکھ۔ آمین یا رب العالمین۔
7006818007










