جموں و کشمیر میں چھاتی کے کینسر کے کیسوں میں خطرناک اضافہ

جموں و کشمیر میں چھاتی کے کینسر کے کیسوں میں خطرناک اضافہ

1990 سے اب تک شرح میں 39 فیصد اضافہ، تاخیر سے تشخیص تشویشناک

سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر میں چھاتی کے کینسر کے بڑھتے ہوئے معاملات پر ایک حالیہ جائزے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ تحقیق کے مطابق 1990 سے 2016 کے درمیان خطے میں بریسٹ کینسر کی شرح میں تقریباً 39 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے، جبکہ کم عمری میں بیماری لاحق ہونے اور تاخیر سے تشخیص کے رجحان نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔یو این ایس کے مطابق تحقیق شمالی ہند میں بریسٹ کینسر کی وبائیاتی صورتحال: جموں و کشمیر کا بیانیہ جائزہ 20 جنوری کو معروف ہم مرتبہ تحقیقی جریدے کیورس میں شائع ہوا۔ اس تحقیق کو گیتا دیوی، منیشا راٹھوڑ، متیش کالیہ اور ان کے رفقا نے ترتیب دیا ہے، جس میں جموں و کشمیر میں اس مرض کے طبی، وبائیاتی اور نفسیاتی پہلوؤں کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔جائزے کے مطابق جموں خطے میں رپورٹ ہونے والے تمام سرطانوں میں سے 35.7 فیصد کیسز چھاتی کے کینسر پر مشتمل ہیں، جو اسے وہاں سب سے زیادہ عام سرطان بناتا ہے۔ کشمیر ڈویڑن میں یہ دوسرا سب سے عام سرطان ہے اور تقریباً 16.1 فیصد کیسز پر مشتمل ہے۔تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خطے میں زیادہ تر خواتین 30 کی آخری دہائی سے 60 برس کی ابتدائی عمر کے درمیان اس مرض میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ اگرچہ بیماری نسبتاً کم عمری میں لاحق ہوتی ہے، مگر کم آگاہی، سماجی بدنامی اور اسکریننگ سہولیات کی کمی کے باعث تشخیص عموماً تاخیر سے ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں مریضہ اکثر آخری مراحل میں اسپتال پہنچتی ہیں۔مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں بریسٹ کینسر کی کچھ جارحانہ اقسام، خصوصاً ‘‘ٹرپل نیگیٹو بریسٹ کینسر’’، کی شرح نسبتاً زیادہ ہے، جو ممکنہ طور پر جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل سے منسلک ہو سکتی ہے۔ محققین کے مطابق ایسے مالیکیولر ڈیٹا فی الحال زیادہ تر کشمیر سے دستیاب ہیں جبکہ جموں سے اس نوعیت کے اعداد و شمار محدود ہیں، جس سے پورے خطے میں ٹیومر پروفائلنگ کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔تحقیق میں مریضات کے درمیان ذہنی دباؤ، اضطراب، ڈپریشن اور سماجی تنہائی کے بلند رجحانات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین نے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے کمیونٹی سطح پر آگاہی مہمات، طبی عملے کی بہتر تربیت، ابتدائی تشخیص کی جدید سہولیات میں سرمایہ کاری اور تشخیصی مراکز کی نچلی سطح تک توسیع کی سفارش کی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو خطے میں بریسٹ کینسر کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے، جس سے صحت عامہ کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔