amit shah

سَناتن دھرم اور بھارتی تہذیب کو مٹانا آسان نہیں

سومناتھ مندر ہزار برس بعد بھی ایمان و وقار کی علامت ہے: امیت شاہ

سرینگر/یو این ایس// مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ بھارت کے سَناتن دھرم، اس کی تہذیب اور عوام کے ایمان کو مٹانا آسان نہیں، اور سومناتھ مندر اس حقیقت کی زندہ مثال ہے جو صدیوں کی بار بار تباہی کے باوجود آج بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ اپنی جگہ قائم ہے۔منگل کے روز گاندھی نگر ضلع کے مانسا قصبے میں 267 کروڑ روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ جن قوتوں نے سومناتھ مندر پر حملے کیے، وہ تاریخ کے صفحات سے مٹ گئیں، مگر یہ مندر آج بھی گجرات کے ضلع گیر سومناتھ میں سمندر کے کنارے پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔یو ایس کے مطابق انہوں نے یاد دلایا کہ 11 جنوری کو وزیر اعظم نریندر مودی نے سومناتھ سوابھیمان پرو کا افتتاح کیا، جو 1026 میں محمود غزنوی کے حملے کے ایک ہزار برس مکمل ہونے کی مناسبت سے منعقد کیا گیا ہے۔ امیت شاہ کے مطابق، ایک ہزار سال گزرنے اور 16 مرتبہ مندر کی تباہی کے باوجود، سومناتھ مندر آج بھی سر بلند کھڑا ہے اور اس کا پرچم فضا میں لہرا رہا ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں سومناتھ مندر کے اطراف ایک شاندارسومناتھ کاریڈور بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا’’یہ پوری دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ بھارت کے سَناتن دھرم، بھارتی ثقافت اور عوام کے ایمان کو مٹانا ممکن نہیں۔ یہ سورج اور چاند کی طرح ابدی اور لازوال ہے۔ سومناتھ مندر بھارت کے ایمان، یقین اور فخر کی علامت ہے۔امیت شاہ نے کہا کہ سومناتھ سوابھیمان پرو پورے ایک سال تک منایا جائے گا، جس کے دوران ملک بھر میں مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے، تاکہ قوم کی روح کو جھنجھوڑا جائے، اجتماعی شعور کو بیدار کیا جائے اور سَناتن دھرم کی جڑوں کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔انہوں نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہزار سال قبل محمود غزنوی نے سومناتھ مندر کو تباہ کیا، جس کے بعد علاؤالدین خلجی، احمد شاہ، محمود بیگڑا اور اورنگزیب جیسے حملہ آوروں نے بھی اس پر حملے کیے، مگر ہر بار اس مندر کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق امیت شاہ نے کہا،’’تباہ کرنے والوں کا یقین تباہی میں تھا، جبکہ تعمیر کرنے والوں کا یقین تخلیق میں۔ آج ایک ہزار برس بعد تباہ کرنے والے تاریخ سے مٹ چکے ہیں، مگر سومناتھ مندر سمندر کے سامنے فخر سے کھڑا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ آزادی کے بعد اس مندر کی از سرِ نو تعمیر سردار ولبھ بھائی پٹیل، کے ایم منشی، مہاراجہ جمنگر اور ملک کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد کی کاوشوں سے ممکن ہوئی۔ ان سب کا عزم تھا کہ سومناتھ پر حملہ صرف ایک مندر پر نہیں بلکہ بھارت کے ایمان، مذہب اور خودداری پر حملہ تھا، اور اس کا جواب تشدد نہیں بلکہ خودداری کے تحفظ میں پوشیدہ ہے۔اپنے خطاب کے دوران امیت شاہ نے مانسا میں ایک اسپورٹس کمپلیکس کا بھی افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی ضروریات اور عالمی معیار کے مطابق اس کمپلیکس میں مزید سہولیات شامل کی جائیں گی، جس کے لیے وہ سی ایس آر فنڈز کے ذریعے 15 کروڑ روپے جمع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گجرات حکومت احمد آباد کو ایک اسپورٹس ہب سٹی کے طور پر ترقی دے رہی ہے، جو پوری دنیا کی توجہ حاصل کرے گا۔ امیت شاہ کے مطابق، 2030 میں کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کے لیے مختلف ممالک کے کھلاڑی احمد آباد آئیں گے، جبکہ 2036 اولمپکس کی میزبانی کے حقوق حاصل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔