برے ہمسایوں کے معاملے میں بھارت کو اپنے عوام کے دفاع کا پورا حق حاصل ہے//جے شنکر
سرینگر//یو این ایس / وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ دیگر ممالک کے ساتھ مؤثر اور واضح ابلاغ نہایت ضروری ہے تاکہ بھارت کے عزائم کو غلط طور پر نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر رابطہ شفاف، واضح اور دیانت دارانہ ہو تو دنیا کے ممالک اسے قبول کرتے ہیں اور اس کا احترام بھی کرتے ہیں۔آئی آئی ٹی مدراس میں طلبہ کے ساتھ ایک فائر سائیڈ چیٹ کے دوران جے شنکر نے کہا، ‘‘لوگوں کو آپ کو غلط سمجھنے سے روکنے کا واحد طریقہ ابلاغ ہے۔ اگر آپ اچھی طرح، صاف گوئی اور ایمانداری سے بات کریں تو دوسرے ممالک اور عوام اس کی قدر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک اپنی تہذیب، روایت اور ورثے پر فخر کرتے ہیں اور بھارت کو بھی اس پر فخر ہونا چاہیے۔ ‘‘دنیا میں بہت کم قدیم تہذیبیں ایسی ہیں جو جدید قومی ریاستوں میں تبدیل ہو سکیں، اور بھارت ان میں سے ایک ہے۔ ہمارے پاس اپنے ماضی کا ایسا شعور ہے جو بہت کم ممالک کو حاصل ہے۔جے شنکر نے کہا کہ بھارت کا جمہوری سیاسی نظام اختیار کرنا ایک شعوری فیصلہ تھا، جس نے جمہوریت کو ایک عالمی سیاسی تصور کے طور پر مستحکم کیا۔ ‘‘اگر ہم نے یہ راستہ اختیار نہ کیا ہوتا تو جمہوریت ایک محدود اور علاقائی تصور بن کر رہ جاتی۔انہوں نے مغربی ممالک کے ساتھ شراکت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسی طرح بھارت عالمی نظام کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ممالک پہلے اندرونِ ملک ترقی کرتے ہیں اور پھر عالمی سطح پر مؤثر انداز میں روابط استوار کر کے بین الاقوامی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔جے شنکر نے ‘‘وسودھیو کٹمبکم’’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کبھی دنیا کو دشمن یا مخالف نہیں سمجھا، بلکہ ایک خاندان کے طور پر دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود زیادہ سے زیادہ اثر قائم کرنا ہی بھارتی خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کا اصل چیلنج ہے، جسے بھارت اپنی صلاحیتوں، مسابقت اور عالمی اداروں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔










