Parliamentary Elections in Jammu and Kashmir

5مراحل کے چنائو میں امیدواروں کے درمیان سخت ٹکر ائو امکان

87لاکھ رائے دہندگان 3وزراء اعلیٰ سمیت دیگر امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ کریں گے

سرینگر///لوک سبھا انتخابات میں جموں کشمیر کے3سابق وزراء اعلیٰ،عمر عبداللہ،محبوبہ مفتی اور غلام نبی آزاد کے علاوہ مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ اور،7سابق وزاء چودھری لال سنگھ وزیر میاں الطاف،سجاد لون ،رمن بلا،جی ایم سروڈی اور محمد اشرف میر ، آغا روح اللہ بھی میدان میں قسمت آزامائی کر رہے ہیں۔الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے پارلیمانی انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی جموں کشمیر میں بھی5مراحل میں تمام5پارلیمانی نشستوں کے انتخابات19اپریل سے شروع ہو رہے ہیں،جس میں مجموعی طور پر87لاکھ رائے دہندگان اپنا جمہوری حق ادا کرنے کے اہل ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر کی تمام90اسمبلی نشستوں میں86لاکھ92ہزار646 ووٹروں میں44لاکھ35ہزار مرد جبکہ42 لاکھ 56ہزار956خواتین اور164خواجہ سرا رائے دہندگان شامل ہے۔ووٹر فہرستوں کے خصوصی جائزے کے بعد2لاکھ31ہزار نئے ووٹروں کو شامل کیا گیا جبکہ86ہزار کا نام ووٹر فہرست سے حذف کیا گیا۔ووٹر فہرست میں ایک لاکھ45ہزار رائے دہندگان کے کوائف کو درست بھی کیا گیا۔پارلیمانی انتخابات44دنوں میں مکمل ہوگا جس کے دوران حلقہ انتخاب ادھمپور میں19اپریل جبکہ جموں حلقے میں26اپریل،اننت ناگ راجوری میں7مئی،سرینگر پارلیمانی حلقے میں13مئی اور بارہمولہ پارلیمانی حلقے میں20مئی کو ووٹنگ ہوگی۔ جموں کشمیر میں ووٹ شماری4جون کو ہوگی۔سابق ریاست کی6نشستوں میں2019میں نیشنل کانفرنس کے امیدواروں نے وادی کی تمام3نشستوں جبکہ بھاجپا امیدواروں نے جموں کی2اور لداخ کی واحد نشست پر کامیابی درج کی تھی۔ انتخابات میں جموں اور لداخ میں بھاجپا اور کانگریس امیدوارو کے درمیان اصل مقابلہ ہوگا جبکہ وادی میں نیشنل کانفرنس،پی ڈی پی اور ڈئموکریٹک پراگرسیوں آزاد پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہونے کا امکاں ہے۔ الیکشن میں جموں کشمیر کے3سابق وزراء اعلیٰ،عمر عبداللہ،محبوبہ مفتی اور غلام نبی آزاد کے علاوہ مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ اور،7سابق وزاء چودھری لال سنگھ وزیر میاں الطاف،سجاد لون ،رمن بلا،جی ایم سروڈی اور محمد اشرف میر ، آغا روح اللہ بھی میدان میں قسمت آزامائی کر رہے ہیں۔ حد بندی کمیشن کے بعد پارلیمانی حلقہ سرینگر میں کئی اسمبلی حلقوں کو باہر کیا گیا جبکہ کئی ایک کو شامل کیا گیا۔سرینگر پارلیمانی نشست5اضلاع پر پھیلی ہوئی ہیں جس میں18اسمبلی حلقوں کو شامل کیا گیا ہے،جن میں حد بندی کے بعد تشکیل شدہ3 نئی اسمبلی نشستیں لال چوک،چھانہ پورہ ,سینٹرل شالہ ٹینگ بھی شامل ہے۔18 اسمبلی حلقوں میں کنگن،گاندربل،حضرتبل،خانیار،حبہ کدل،لال چوک،چھانہ پورہ،جڈی بل،عیدگاہ، سینٹرل شالہ ٹینگ،خان صاحب،چرار شریف،چاڈورہ، پانپور،ترال،پلوامہ،راجپورہ،اور شوپیاں قابل ذکر ہے۔ حد بندی کے بعد جہاں سرینگر پارلیمانی نشست میںجنوبی کشمیر کے2اضلاع پلوامہ اور شوپیاں کی6نشستوں کو شامل کیا گیا وہی ضلع بڈگام کی2نشستوں بڈگام اور بیروہ کو حذف کیا گیا۔ سرینگر پارلیمانی نشست میں رائے دہندگان کی مجموعی تعداد17لاکھ44ہزار27ہے جن میں8لاکھ74ہزار48مرد اور98لاکھ69ہزا916خواتین رائے دہندگان کے علاوہ63خواجہ سراہ بھی شامل ہیں۔ شمالی کشمیر کی بارہمولہ پارلیمانی نشست بھی18 اسمبلی حلقوں پر شامل ہے جس میں 2نئے اسمبلی حلقہ واگورہ کریری اور ترہ گام کو بھی شامل کیا گیا۔یہ پارلیمانی حلقہ حد بندی سے قبل15 اسمبلی نشستوں پر شامل تھی تاہم حد بندی کے بعد اس میں ضلع بڈگام کی بڈگام اور بیروہ اسمبلی نشست کو بھی شامل کیا گیا۔4 اضلاع پر پھیلی اس پارلیمانی نشست میںبیروہ،بڈگام،گریز،بانڈی پورہ،سوناواری، پٹن،واگورہ، کریری،گلمرگ،بارہمولہ،اوڈی،رفیع آباد،سوپور،لنگیٹ، ہندوارہ، لولاب،کرناہ،ترہ گام اور کپوارہ اسمبلی حلقے شامل ہے۔اس پارلیمانی نشست پر رائے دہندگان کی تعداد17لاکھ32ہزار459ہے جن میں8لاکھ73ہزار171 مرد اور8لاکھ59ہزار255خواتین اور33خواجہ سراشامل ہے۔اننت ناگ،راجوری پارلیمانی حلقہ انتخاب بھی18اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے،جس میں زینہ پورہ،دمحال ہانجی پورہ،کولگام،دیوسر،دورو،کوکر ناگ،اننت ناگ ویسٹ،اننت ناگ،سرگفورہ بجبہاڈہ،شانگس،پہلگام،نوشہرہ،راجوری،بدھل،تھانہ منڈی،سرنکوٹ،پونچھ حویلی اور مینڈھر شامل ہیں۔اس پارلیمانی نشست میں حد بندی کے بعد ضلع پلوامہ کی تمام اسمبلی نشستوں کے علاوہ شوپیاں اسمبلی نشست کو حذف کیا گیا گیا جبکہ ضلع راجوری اور پونچھ کی7 نشستوں کو شامل کیا گیا۔ اننت ناگ،راجوری پارلیمانی حلقے میں حدبندی کے بعد تشکیل دی گئی7اسمبلی نشستوں کو بھی شامل کیا گیا۔5اسمبلی نشستوں پر پھیلے اس پارلیمانی حلقے میں مجموعی طور پر رائے دہندگان کی تعداد18لاکھ30 ہزار294ہے جن میں سے9لاکھ30ہزا379مرداور خواتین ووٹروں کی تعداد8لاکھ 99ہزار888 خواتین کے علاوہ27خواجہ سرا بھی شامل ہے۔ادھمپور پارلیمانی نشست رام بن،ادھمپور،ڈوڈہ،کشتواڑ اور کھٹوعہ5اضلا ع ، پر پھیلی ہوئی ہیں اور اس پارلیمانی حلقہ کے تحت18حلقہ اسمبلی آتے ہیں،جن میں اندروال،کشتواڑ،پڈر،بھدرواہ،ڈوڈہ،ڈوڈہ ویسٹ،رام بن،بانہال،ادھمپور ویسٹ، ادھمپور ایسٹ،چنانی، رام نگر،بنی،بلاور،بسولی،جسروٹہ،کھٹوعہ اور ہیرا نگر شامل ہیں۔حد بندی کے بعد اس حلقہ انتخاب میںپڈر،ادھمپور،ایسٹ و ادھمپور ویسٹ اور جسروٹیاں اسمبلی حلقوں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ ضلع ریاسی سے گول ارناس،گلاب گڑھ اور ریاسی اسمبلی حلقہ انتخابات کو ادھمپور پارلیمانی نشست سے حذف کیا گیا۔مجموعی طور پر ادھمپور حلقہ انتخاب میں2اسمبلی نشستیں شیڈول کاسٹوں کیلئے مخصوص ہے جن میں کھٹوعہ اور رام نگر شامل ہیں۔ حد بندی کے بعد جموں کشمیر میں تمام پارلیمانی انشستوں کو18اسمبلی حلقوں پر مشتمل کیا گیا۔پارلیمانی حلقہ ادھمپور میں19اپریل کو1623195رائے دہندگان اپنے جمہوری حق کو ادا کرسکتے ہیں،جن میں845283 مرد اور7لاکھ77ہزار 899خواتین کے علاوہ13خواجہ سرا بھی شامل ہیں۔جموں پارلیمانی نشست4اضلاع پر مشتمل ہے اور اس میں حد بندی کے بعد18اسمبلی نشستوں کو شامل کیا گیا ہے۔ حد بندی سے قبل اس نشست میں20 اسمبلی حلقے تھے،تاہم بعد میں ضلع پونچھ کی کالاکوٹ اسمبلی نشست کو چھوڑ کر اور ضلع راجوری کو اس پارلیمانی نشست سے الگ کیا گیا،تاہم ضلع ریاسی کو اس نشست میں شامل کیا گیا۔جموں پارلیمانی نشست گلاب گڑھ،ریاسی،ماتا ویشنو دیوی،رام گڑھ،سامبا،وجے پور،بشنا،سوچت گڑھ،آر ایس پورہ،باہو،جموں ایسٹ،نگروٹہ،جموں ویسٹ،جموں نارتھ،مڑھ،اکھنور،چھمب اور کالاکوٹ،سند ربنی اسمبلی نشستوں پر مشتمل ہے۔اس پارلیمانی اسمبلی نشست پر مجموعی طور پر6 نشستوں کو شیڈول کاسٹ و شیڈول ٹرائبوں کیلئے مخصوص رکھا گیا ہے جن میں گلاب گڑھ کی شیڈل ٹرائب اسمبلی نشست بھی شامل ہے۔اس پارلیمانی نشست پر رائے دہندگان کی تعداد17لاکھ80ہزار738ہے جس میں مرد رائے دہندگان کی تعداد9لاکھ21ہزار53جبکہ خواتین کی تعداد8 لاکھ59ہزار657کے علاوہ خواجہ سراوں کی تعداد28ہے۔رائے دہندگان میں3لاکھ40ہزار کے قریب نوجوان پہلی مرتبہ اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے،جن میں ایک لاکھ35ہزار کے قریب خواتین ووٹر بھی شامل ہے۔جسمانی طور پر معذور ووٹروں کی تعداد67ہزار400ہے۔