ماہرڈاکٹروں نے اس مرض سے محفوظ رہنے کے لئے جانکاری فراہم کی اور لوگوں کواحتیاط برتنے کی تلقین کی
سرینگر /اے پی آئی// دنیا بھر کی طرح جموں وکشمیر میں بھی لیور مخالف امراض کا دن منایاگیا سرکاری پرائیویٹ اسپتالوں میں ماہرڈاکٹروں نے لیور کے حوالے سے بیماریوں کے بارے میں جانکاری فراہم کی اور لوگوں پرزوردیاکہ وہ باہرڈاکٹروں کی ہدایات پر من وعن عمل کرے ۔ماہرڈاکٹروں نے ا س بات پر تشویش کااظہارکیاکہ وادی میں ہرگزرتے دن لیو رمیریضوں میں اضافہ ہورہاہے جومستقبل کے حوالے سے پریشان کن صورتحال ہے ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق دنیابھر کی طرح آج جموںو کشمیرمیں بالعموم اوروادی کشمیرمیں بالخصوص لیور امراض کے خلاف عالمی دن منایا گیا اور اس دن کے مناسبت سے ماہر ڈاکٹروں نے سرکاری وپرائیویٹ اسپتالوں میں سیمناروں کے دوران لوگوں کوجانکاری فراہم کی کہ کس طرح سے لیور مختلف امراض کاشکار ہوتاہے اور ا س سلسلے میں ڈاکٹروں سے تلقین کی مرغن غذائی استعمال کرنے سے گریز کرے ٹاپا کم کرنے کی کوشش کرے الٹراساونڈ کے دوران اگر انہیں ڈاکٹروں کی جانب سے لیور کو بیماری لگنے کے بارے میں خبردار کیاجاتاہے وہ ڈاکٹروں کی جانب سے کی جانے والی ہدایات پرمن وعن عمل کرے اور باقائدگی کے ساتھ ان ہی ادویات کااستعمال کرے جوڈاکٹروں کی جانب سے انہیں تجویز کی جاتی ہے ۔پرائیویٹ میڈیکل شاپوں سے ادویات خریدنے کے بعد ایک دفعہ ضرور ڈاکٹروں کودکھائے تاکہ مریض کولیو رکے سلسلے میں کسی بڑے مرض میں مبتلاہونے کاموقع فراہم نہ ہو۔ماہرڈاکٹروں نے ا س بات پرتشویش کااظہارکیاکہ وادی کشمیرمیں ہرگزرتے دن لوگ لیور کی کس کس بیماری کاشکار ہوجاتے ہیں اور اس کی سب سے بری وجہ چکنی مرغن غذائیں او ربے وقت کھانا کھانا ایسے مشروبات یادوسرے چیزوں کااستعمال کیاجارہاہے جن کے کھانے سے انسان کئی طرح کے امراض میں مبتلاہورہاہے ۔ماہرڈاکٹروں نے کہاکہ انسان کے جسم میں لیور کااجزاء انتہائی اہمیت کاحامل ہے یہ انسان کی غذائیت کوہضم کرنے اور ا سکی دوسری ضرورتوں کوپور اکرنے میں اہم رول اد اکررہاہے اور اسکی حفاظت ہرایک انسان کے لئے لازمی ہے ۔ماہرڈکٹروں نے کہا کہ مرض کوئی بھی ہووہ تب تک جان لیوا ثابت نہیں ہوتا ہے جب تک مریض ماہرڈاکٹروں کے مطابق عمل کرے اور جس دن مریض خود ڈاکٹر بننے یانیم حکیم ڈاکٹروں سے صلح مشورہ کرکے ادویات لینے کی شروعات کرتاہے ا سکی زندگی کوخطرات لاحق ہوتے ہے ۔ماہرڈاکٹروں نے محکمہ ہیلتھ ا ورجموںو کشمیرانتظامیہ سے کہاکہ وادی کے در دراز علاقوں خاص کران علاقوں میں جہاں پرنٹ الیکٹرانک یاسول میڈیا کی پہنچ نہیں ہے لوگوں کے ٹیسٹ کئے جائے تاکہ جوامراض وہاں لوگوں میں پائے جاتے ہیں ان کے علاج کویقینی بنایاجاسکے ۔ڈاکٹروں کے مطابق وادی کشمیرمیں کینسر ،شوگر ،اراض قلب، تھائرائڈ لیور سمیت کئی ایسے امراض ہے اگروقت پر ان کاعلاج کیاجائے تو انسان کی زندگی بچ سکتی ہے۔ لہذا لازمی ہے کہ سرکار ہر سال کروڑوں روپے صحت کو بہتررکھنے اور علاج معالجہ کے لئے مختص کرتی ہے ان رقومات کاصحیح طو راستعمال کیاجانا چاہئے دوردراز علاقوں کے لوگوں کے لئے مفت ٹیسٹ کرائے جائے تاکہ وہ جن امراض میں مبتلاہے انہیں علاج کے زریعے ختم کیاجاسکے ۔لیو رکے عالمی دن کے موقعے پریونصف اور اقدام متحدہ بھی والڈ ہیلتھ آرگنائزیشن پرزور دیاکہ وہ غریب ممالک اور ترقی پذیر ممالک میں اس مرض کے حوالے سے نئے زاویہ سے علاج کرانے کے لئے اقدامات اٹھائے ترقی یافتہ ممالک سے کہاگیاکہ وہ اس مرض کے خاتمے کے لئے غریب اور ترقی پذیر ممالک کومدد فراہم کرے تاکہ دنیامیں اس بڑھتے ہوئے مرض کوقابوکرنے کے لئے ماہرین کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کوعملی جامہ پہنایاجاسکے ۔










