ملک کے پہلے وزیراعظم کوبار بار تنقید کانشانہ بنانا جائز نہیں /فاروق عبداللہ
سرینگر//جموں وکشمیر میں 370کو لانے میں ملک کے پہلے وزیراعظم کے بجائے وزیرداخلہ اور نائب وزیراعظم کاہاتھ ہونے کاانکشاف کرتے ہوئے این سی کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ نے کہاکہ عدالت عظمی ٰکے آئینی بینچ کی جانب سے جوفیصلہ سامنے آیا وہ ما یوس کن ہے ۔سٹیٹ ہڈ بحال کرنا اور جموںو کشمیرمیں الیکشن کرانا انصاف نہیں ہے ۔جموں وکشمیرکے لوگوں کی امیدیںٹوتی نہیںہے ہم نے حوصلہ نہیںہارا ہے انصاف ضرورملے گا ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق جموںو کشمیر میں 370کے خاتمے کوائینی بینچ کی جانب سے مرکزی سرکار کوبر قراررکھنے کے ایک دن بعد سرینگر، بڈگام،گاندربل،اننت ناگ حلقے کے ممبرپارلیمنٹ اورسابق وزیراعلیٰ نے عدالت عظمی کے آئینی رکنی بینچ کے فیصلے کومایوس کن او رجموں کشمیر عوام کے تواقعاتک کے برعکس قراردیتے ہوئے وزیرداخلہ کی جانب سے بار با رملک کے پہلے وزیراعظم آنجہانی پنڈت جواہر لا ل نہروں کونشانہ بنانے کے بیانات پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ جب جموںو کشمیرمیں 370کااطلاق عمل میںلایاگیاتب ملک کے پہلے وزیراعظم امریکہ میںموجو دتھے ۔اور کابینہ میٹنگ جس میں شاماپرسادمکھرجی موجود تھے کی موجودگی میں 370آئین میںشامل کیاگیا اور کسی بھی معاملے میں پنڈت جواہرلال نہروں کومردہ الزام ٹہھرانا ٹھیک نہیں ۔سابق وزیراٰعلیٰ نے کہاکہ سنگ پریوار اورآر ایس ایس ستربرسوں سے 370کوہٹانے کامطالبہ کررہے تھے ستربرسوں کے بعدانہیںموقع ملا ۔جموںو کشمیرکے لوگوں کوخصوصی درجے سے محروم کیاحیرانگی تو اس بات پرہے کہ عرضیاں 370کے خاتمے کے خلاف دائر کی گئی تھی او رعدالت عظمیٰ کے آئینی بینچ نے مرکزی سرکار کو سٹیٹ ہڈبحال کرنے او رجموںو کشمیرمیں الیکشن کرانے کی ہدایت کی ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم اپنی لڑائی پرُامن طریقے سے جاری رکھے گے ہم نے حوصلہ نہیںہارا ہے وقت ضرور آئے گا جب جموں وکشمیرکے لوگوں کوانصاف ملے گا ۔










