budget 2023-24

2023-24 ء کے بجٹ میں روزگار پیدا کرنے ، خواتین کو بااِختیار بنانے اور سماجی شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے

سری نگر// جموں و کشمیر کے لئے مالی برس2023-24ء کے لئے 1,18,500 کروڑ روپے کے بجٹ میں روزگار پیدا کرنے، خواتین کو بااِختیار بنانے اور سماجی شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ مالی برس کے بجٹ کے کل تخمینہ1,18,500 کروڑروپے ہیںجس میں سے ترقیاتی اخراجات 41,491 کروڑروپے کے آرڈر کے ہیں۔ بجٹ دستاویز میں بیان کیا گیا ہے،’’بجٹ کے سرمائے میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ متوقع محصولات کی وصولیاں 1,06,061 کروڑ روپے ہیں جبکہ محصولات کے اخراجات 77,009 کروڑ روپے ہونے کی توقع ہے۔ اِس طرح 29,052 کروڑ روپے کے سرمائے کے اخراجات کے لئے اِضافی محصولات دستیاب ہوں گے۔‘‘جموں و کشمیر انتظامیہ کے ایک سینئرآفیسر کے مطابق بجٹ کا فوکس گڈ گورننس، نچلی سطح پر جمہوریت کو مضبوط کرنا، دیرپا زراعت کو فروغ دینا، سرمایہ کاری اور ترقی میں سہولیت فراہم کرنا، روزگار کی فراہمی، تیز رفتار ترقی اور جامع ترقی، خواتین کو بااِختیار بنانا اور سماجی شمولیت ہے۔ حمایت 2.0 کا آغاز ہنری مندی کی ترقی ، مشن یوتھ ،صنعت و حرفت ،سکولی تعلیم ، ایگری کلچر وغیرہ جیسے محکموں میں ہنر سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی تربیت اور ہم آہنگی کیلئے روز گار پر مبنی تجارت پر نئے سرے سے توجہ مرکوز کرنا بھی بجٹ کا حصہ ہے ۔ جموں و کشمیر امن اور ترقی کی راہ گامزن ہے۔ نوجوان ہندوستان کے باقی حصوں میں اپنے ہم منصبوں کی طرح مختلف شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔ ہنر کی ترقی کا ایک بڑا پروگرام جس میں کالج کی سطح پر جدید ترین اسٹریمز اور ٹیکنالوجیز کا تعارف، اِنڈسٹریل سیٹ اپس، سٹارٹ اپس اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد اور سیلف ہیلپ گروپس کی تیزی سے ترقی شامل ہے۔نوجوانوں کی امنگوں کا خیال رکھنے کیلئے یہ تمام پہلو آج کے بجٹ میں پورے کئے گئے ہیں ۔ بجٹ کا زور پنچایتی راج کے تینوں درجوں کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز سے بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور پانی میں مجموعی بہتری کی کوششوں اور زراعت پر مبنی چھوٹی صنعتوں کے قیام، کسانوں اور دیگر دیہاتیوں کی آمدنی پر بھی ہے۔ اِس بجٹ میںدیہی ہیلتھ کیئر کی مضبوطی کو ہسپتالوں میں مطلوبہ سازوسامان، سہولیات اور لیبارٹریز کی فراہمی کے لئے ایک بڑا حوصلہ ملا ہے۔مزید برآں، پاور سیکٹر میں اصلاحات اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو بڑھانا بجٹ میں جاری رہے گا اور آنے والے برسوں میں بجلی کی پیداواری صلاحیت کو دوگنا کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ دُور دراز علاقوں تک رسائی کے قابل بنانے کے لئے متعدد پُلوں اور ٹنلوں سے سڑکوںکے لئے بجٹ مختص کئے گئے ہیں۔ بڑے ایچ اِی پیزمقامی لوگوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے اور دیہی جموں و کشمیر کا نقطہ نظر بدلیں گے۔زراعت اور باغبانی کے لئے اس بجٹ کا فوکس زرعی اور باغبانی کے ماہرین کی مدد سے منظر نامے کو بدلنے پر ہے۔ متعدد فصلوں سے سائنسی کاشتکاری، کٹائی سے پہلے اور بعد ازاں نقصانات کو کم کرنا، بڑے اور چھوٹے کاشتکاری کے آلات کی مالی اعانت، اور بجلی کے اخراجات کو کم کرنے کے لئے سولر پمپ کا اِستعمال وہ چند ہدف والے شعبے ہیں۔ متوقع منصوبہ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے اور دیہی نوجوانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی خاطر آسان فنائنانس اور تکنیکی مہارت فراہم کر کے زرعی اور باغبانی سے وابستہ صنعتوں کو ترقی دینا ہے۔ دودھ کی پیداوار کو دوگنا کرنا، کوآپریٹیوز سے اچھی طرح سے مربوط دودھ جمع کرنا، پولٹری اور بھیڑ فارمنگ چند دوسرے اہم شعبے ہیں جن پر بجٹ میں توجہ دی جارہی ہے۔ہولیسٹک ایگری کلچر ڈیولپمنٹ سکیم کے تحت 900 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اور فصل بیمہ سکیم کے لئے 120 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اِس کے علاوہ کنٹرولڈ ایٹموسفیئر (سی اے) سٹوریج کے قیام کے لئے 50 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔بجٹ میں اس تناؤ کو کم کرنے کے لئے متبادل سیاحتی مقامات اور مذہبی سرکٹس تیار کرنا بھی ہے۔ ڈوم ٹرینیں، نئے سیاحتی مقامات پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی، جھیلوں کا تحفظ اور خوبصورتی، اور نئے روپ وے چند جھلکیاں ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں میں خواتین کو شامل کرنا اور انہیں اور مقامی کاریگروں کو بااختیار بنانا جاری ہے۔ منظم طریقے سے، پروڈکٹوں اور پروجیکٹوںکی منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ سیاحت اور متعلقہ سرگرمیوںسے جموںوکشمیر یوٹی کی مجموعی معیشت کو بڑا فروغ ملے۔ یاتریوں کو محفوظ بنانا، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور آس پاس کے علاقے میں مناسب سیاحت کو فروغ دینا بھی اس بجٹ میں پیش کیا گیا ہے۔اِسی طرح 60 کروڑ روپے نئے سرکٹس بشمول مانسر، سرنسر اور صوفی سرکٹ کے لئے رکھے گئے ہیں اور سال2023-24ء کے دوران مذہبی سرکٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے، نئے روپ ویز اور گالف کے فروغ کے لئے 15 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فیسٹول کی تشہیر کے لئے 30 کروڑ روپے، سنیما/تھیٹرکے فروغ کے لئے 100 کروڑ روپے اور ورثے کے تحفظ کے لئے 100 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔اِس کے علاوہ جل جیون مشن کے لئے 5,000 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ تمام اضلاع ’’ہر گھر نل سے جل‘‘ کے تحت آئیں گے۔ کوالٹی اشورینس کو یقینی بنانے، لیبز کے قیام اور سروس لیول بینچ مارکنگ سسٹم کو متعارف کرنے کے لئے فنڈز مختص کئے جا رہے ہیں۔ جل جیون مشن کے لئے 500 کروڑ روپے یوٹی کے حصے کے طور پر فراہم کئے گئے ہیں۔یونین ٹیریٹری میںعملائے جانے والے تمام پروجیکٹوں کی صد فیصد فزیکل تصدیق کو یقینی بنانے کے لئے محکمہ خزانہ کے اندر تھرڈ پارٹی معائینہ کا نظام قائم کیا جائے گا، تمام قصبوں میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو یقینی بنایا جائے گا اور سروس لیول بینچ مارکنگ سسٹم متعارف کیا جائے گا۔ اِس کے علاوہ سوچھ بھارت مشن کے تحت 200 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ اس مالی برس میں کشمیر سے ٹرین کا رابطہ اور جموں سری نگر ہائی وے کے بڑے حصے کو چوڑا کرنے کا کام حاصل کیا جائے گا کیوں کہ اس شعبے کے لئے مناسب بجٹ کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ تمام خطوں کی اُمنگوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ مجموعی طور پر اچھی طرح سے منصوبہ بند اور مستقبل کا بجٹ بنانے کے لئے کافی منصوبہ بندی اور سوچ بچار کی گئی ہے جو جموں و کشمیر کی اِقتصادی ترقی کو تقویت دے گی۔