وزیر اعلیٰ نے کراس بارڈر گولہ باری میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کیلئے 10 لاکھ روپے ایکس گریشیا ریلیف کا اعلان کیا

2010میں لوگوں کے زخموں پر مرہم لگانے کیلئے بنائی گئی ورکنگ گروپ کی اہمیت آج بھی باقی

جموں اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے قبل سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کر جذباتی ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ اجلاس میں اپنے خطاب میں آنجہانی سابق وزیر اعظم منموہن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کی منموہن سنگھ نے بھرپور کوشش کی۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ حالانکہ اس کی شروعات ڈاکٹر منموہن سنگھ نے نہیں کی اور انھیں یہ سب وراثت میں ملی تھی۔ اس کی شروعات اٹل بہاری واجپئی اور جنرل پرویز مشرف نے کی تھی، اور اس وراثت کو منموہن سنگھ نے مثبت انداز میں آگے بڑھایا تھا۔انہوںنے کہا کہ جب 2010 میں حالات خراب ہوئے تھے تو جموں و کشمیر کے لوگوں کے زخموں پر مرہم لگانے کے لیے ورکنگ گروپ بنائی گئی تھی، آج بھی وہ ورکنگ گروپ اہم ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ آج جموں اسمبلی میں سابق وزیر اعظم آنجہانی منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر مسئلہ کا حل نکالنے کے لیے جس مقام پر ہندوستان اور پاکستان منموہن سنگھ کے دور میں پہنچ گئے تھے، وہاں تک اب کبھی رسائی نہیں ہو سکتی۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموں اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل آنجہانی لیڈران کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سابق وزیر اعطم منموہن سنگھ کی خوب تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کی منموہن سنگھ نے بھرپور کوشش کی۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ حالانکہ اس کی شروعات ڈاکٹر منموہن سنگھ نے نہیں کی اور انھیں یہ سب وراثت میں ملی تھی۔ اس کی شروعات اٹل بہاری واجپئی اور جنرل پرویز مشرف نے کی تھی، اور اس وراثت کو منموہن سنگھ نے مثبت انداز میں آگے بڑھایا تھا۔عمر عبداللہ نے ایوان میں کہا کہ جب منموہن سنگھ نے وزیر اعظم کے طور پر حلف لیا تو وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شروع ہوئی بات چیت کے سلسلہ کو بند بھی کر سکتے تھے۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ جو شروعات اٹل بہاری واجپئی نے کی ہے، اسے آگے بڑھانا ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے کوشش کی، لیکن پھر حالات درمیان میں خراب رہے۔ عمر عبداللہ نے اظہارِ مایوسی کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر مسئلہ کو حل کرنے کے لیے جتنے قریب ہم اس دور میں آئے، مجھے نہیں لگتا کہ میں اپنی زندگی میں ایسا دوبارہ دیکھ پاوں گا۔ جب 2010 میں حالات خراب ہوئے تھے تو جموں و کشمیر کے لوگوں کے زخموں پر مرہم لگانے کے لیے ورکنگ گروپ بنائی گئی تھی، آج بھی وہ ورکنگ گروپ اہم ہے۔عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر سے متعلق کیے گئے منموہن سنگھ کے کاموں کا بھی تذکرہ کیا۔ چناب ندی پر بنے دنیا کے سب سے اونچے ریلوے پْل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ کب وزیر اعظم آئیں گے اور کشمیر تک ریل کا افتتاح کریں گے، لیکن کشمیر کو باقی دنیا کے ساتھ جوڑنے کا کام بانیہال ٹنل کے وقت شروع ہوا جب میں ریل ڈپارٹمنٹ میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ تھا۔ چناب ندی پر جو سب سے اونچا پل بنا، اس کا آغاز ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں ہی شروع ہوا تھا۔ بدقسمتی سے اوپر والے نے انھیں اتنی زندگی نہیں دی کہ وہ اس پْل کے اوپر سے جاتی ہوئی ٹرین کو دیکھیں۔