ایک سال قید اور جرمانے کی سزا،ACBکی چارج شیٹ پر خصوصی جج انسداد بدعنوانی سری نگرنے فیصلہ سنایا
سری نگر//خصوصی جج انسداد بدعنوانی سری نگر نے14سال قبل درج شکایت وکیس میں ایک سرکاری ملازم کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق خصوصی جج انسداد بدعنوانی سری نگر نے یہ فیصلہ24مارچ2023 کو سنایا ، جس میں ملزم اے ایس آئی مشتاق احمد شاہ اس وقت پولیس اسٹیشن چرار شریف، بڈگام میں تعینات تھا، کوتحت سیکشن5(2)پی سی ایکٹ اور161آرپی سی کے تحت کا مجرم قرار دیا گیا اور اسے ایک سال سادہ قیداور جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ مجرم قرار دئیے گئے اے ایس آئی کوہر جرم کے تحت10ہزارروپے اداکرنے ہونگے،اور جرمانے کی ادائیگی میں کوتاہی کی صورت میں ملزم کو ہر جرم کے تحت مزید ایک ماہ قید بھگتنا ہوگی۔ ملزم کو حراست میں لے کر سزا کی تکمیل کیلئے سنٹرل جیل سری نگر بھیج دیا گیا ہے۔ملزم مشتاق احمد شاہ اس وقت پھنس گیا جب وہ19ستمبر2008کو پولیس اسٹیشن چرار شریف بڈگام میں تعینات تھا۔ رشید چوپان ساکنہ فریس دب چرار شریف بڈگام نے ملزم کیخلاف ویجی لنس آرگنائزیشن (اب اے سی بی) میں یہ شکایت درج کرائی تھی کہ اُس نے سرکاری راشن ڈیپوناگم، چرار شریف سے3 کوئنٹل چاول خریدے تھے اور اسے ایک سومو میں اپنے گھر کی طرف لے جا رہاتھا۔ راستے میں اسے تھانہ چرار شریف، بڈگام کے اے ایس آئی مشتاق احمد شاہ نے روکا جو اسے چاول سمیت نوہر چرار شریف لے گیا جہاں اس نے500 روپے رشوت طلب کی اور پھررشوت کی رقم وصول کی۔ لیکن اسے صرف 2 کوئنٹل چاول واپس کئے۔ ملزم مشتاق احمد نے باقی ماندہ ایک کوئنٹل چاول ایک دکاندار کے حوالے کیا اور مزید2000 روپے رشوت طلب کی۔1000روپے شکایت کنندہ سے۔ شکایت کنندہ نے ملزم کو راضی کیا جس نے500 روپے لینے پر رضامندی ظاہر کی،اور رشوت کی رقم ادا کرنے پر اتفاق ہوا۔تاہم، شکایت کنندہ نے ویجی لنس آرگنائزیشن (اب اے سی بی) کے پاس شکایت درج کرائی اور اس کے مطابق VOK کے افسران کی ایک ٹیم ملزم سرکاری ملازم کو پھانسنے کیلئے تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے کامیاب جال بچھا کر ملزم سرکاری ملازم اے ایس آئی مشتاق احمد شاہ کو رشوت طلب کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ اس کے قبضے سے داغدار رقم برآمد ہوئی۔انسداد بدعنوانی بیورو کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹنگ آفیسر غلام جیلانی نے مقدمہ لڑا جس کے نتیجے میں معزز خصوصی جج انسداد بدعنوانی عدالت سری نگر چین لال بووریا نے سزا سنائی۔










