اسمبلی ایوان میں ہنگامہ آرائی ، این سی اور بھاجپا ممبران کے درمیان ’’تو تومیں میں‘‘
سرینگر///قانون ساز اسمبلی میں منگل کوایک بار پھر 13جولائی کے شہدا کے خلاف بی جے پی لیڈر کی جانب سے بقول اُن کے ’’غدار ‘‘کہنے پر ہنگامہ آرائی ہوئی اور نیشنل کانفرنس ممبران سمیت دیگر جماعتوں کے ممبران نے اس معاملے پر سخت برہمی کااظہار کیا ۔ سپیکر نے بی جے پی لیڈر کے ان ریمارکس کو ایوان کی کارروائی سے حذف کرایا ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر سنیل شرماء نے ایک بار پھر ’’13جولائی کے شہداء ‘‘ کو غدار کہا جس کے بعد اسمبلی ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہوئی اور شور شرابا بپا ہوا۔ بجٹ پر بحث کے دوران، این سی کے ایم ایل اے شوکت حسین گنائی نے بی جے پی پر جموں و کشمیر میں پچھلے کچھ سالوں سے جو کچھ کیا ہے اس پر تنقید کی اور 1947 کا ذکر کیا۔اس بیچ جب شوکت بول رہے تھے، بی جے پی ایم ایل اے شام لال شرما نے ان سے 1931 کی بات کرنے کو کہا۔’’وہ ہمارے ہیرو ہیں،‘‘ این سی کے الطاف کلو نے جواب دیا۔ان کا مقابلہ کرتے ہوئے، بی جے پی کے ایم ایل اے سنیل شرما نے کہا کہ وہ غدار ہیں اور غدار رہیں گے، جس سے این سی اور کشمیر ی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے سخت احتجاج شروع ہو گیا ہے۔شرما کے ریمارکس پر احتجاج کے درمیان، سی پی آئی (ایم) لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے اسپیکر سے ان کے الفاظ کا نوٹس لینے کی اپیل کی جن میں1931 کے شہداء کے خلاف توہین آمیز کلمات استعمال کیے گئے۔ 1931 کے شہداء کو غدار کہا گیا۔تاریگامی نے بی جے پی کے قانون سازوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایوان کی توہین کررہے ہیں ۔ اس دوران ایم ایل اے لنگیٹ خورشید شیخ نے بی جے پی لیڈر کے ریمارکس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں اسپیکر نے شرما کے ریمارکس کو خارج کریا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ دنوں اسی طرح سے بی جے پی لیڈر سنیل شرماء نے 13جولائی کے شہداء کے خلاف نازیبا الفاظ کہے جسکی وجہ سے ایوان میں ہنگامہ بپا ہواتھا اور سپیکر کو ان الفاظ کو اسمبلی کارروائی کے ریکارڈ سے حذف کرنا پڑا تھا۔










