ڈی کنٹرول ہونے کے بعد گوشت کاکاروبار پھلنے پھولنے لگا،مقامی نوجوان پیداواری سیکٹر کی طرف راغب ہوجائیں/ قصاب یونین
سرینگر//جموں وکشمیر میں گوشت کا کاروبار ڈی کنٹرول کئے جانے کے بعد اگرچہ بازاروں میں قیمتوں اور کوالٹی کے معاملے کولے کر بظاہر کوئی مخمصہ نہیں ہے تاہم بیرونی منڈیوں سے گوشت کی درآمد کے دوران ایک این اجی او کی جانب سے کاروباریوں سے بڑے پیمانے پر رشوت لئے جانے کے عمل سے مقامی قصاب پریشان ہیں ۔قصاب طبقے نے مقامی و مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اینمل رائٹس کے نام پر یہاں کے گوشت کاروباریوں کو لوٹنے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔10کروڑ روپیے یومیہ کی گوشت کھپت کے لئے مقامی پیداواربڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قصاب طبقے نے مقامی نوجوانوں سے اس کاروبار کے ساتھ زیادہ سے زیادہ جڑنے کی بھی تلقین کی ہے ۔ٹی ای این کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کے دوران آل کشمیر بوچرس یونین کے سربراہ حاجی خضر محمد ریگو نے کہاکہ گوشت کا کاروبار ڈی کنٹرول کئے جانے کے بعد سے قیمتیں اور کوالٹی اعتدال پر ہے ۔انہوں نے کہاکہ جون2023میں مرکزی سرکار نے دفعتا ً یہاں پر نافذ اشیائے ضروریہ ایکٹ کے زمرے میں رکھا گیا گوشت کا کاروبار ڈی کنٹرول کردیا اور تب سے اب تک چار مہینوں کے اندر بازاروں میں کوئی شکایت نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ ڈی کنٹرول ہونے سے گوشت معیاری فروخت ہوتا ہے اور یونین کی جانب سے مقرر کی گئی نرخوں کا اطلاق بھی جاری ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ ایک کامیاب کاروبار ہے اور اس وقت مقامی سطح پر بائع اور مشتری دوطرفہ رضا مندی سے خرید وفروخت میں مصروف ہیں ۔درمیانہ داری کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے اور اگر کہیں شکایت بھی سامنے آتی ہے تو اس کا فوری تدارک بھی کیا جاتا ہے ۔خضر محمد ریگو کے مطابق شادیوں کے سیزن میں بھی گوشت کی کوئی قلت نہیں ہوئی۔اس سے قبل عیدالاضحی کے موقعے پر بھی کوئی منافع خوری نہ ہوئی اور نہ ہی گوشت کی کوئی قلت نظر آئی ۔دراصل بیرونی کاشتکار بھی براہ راست یہاں آکر اپنا مال فروخت کرسکے اور کم سے کم قیمتوں پر اب گوشت کی قیمتیں مارکیٹ میں رائج ہیں ۔خضر محمد کے مطابق اس وقت سب سے بڑا اشو دلی اور باقی مقامات پر اینمل رائٹس کے نام سے قائم این جی او کی زیادیتوں کا ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ اینمل رائٹس نہیں بلکہ بلیک میلنگ کے نام پر رشوت مافیا سرگرم ہے جس پر قابو نہیں پایا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے بیوپاریوں کو مال کی درآمد میں کافی نقصانات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے اور اینمل رائتس کے نام پر کشمیری گوشت بیوپاریوں کو بے تحاشا تنگ طلب کیا جارہا ہے ۔یونین صدر کے مطابق ایل جی انتظامیہ مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر اس اہم اشو کو حل کرے تاکہ ایک بڑا کاروبار مزید نقصانات سے دوچار نہ ہو۔اس دوران مقامی سطح پرگوشت کی پیداوار کو بڑھانے کے حوالے سے خضر محمد ریگو کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومت یہاں زراعت اور اس سے منسلک سیکٹرز جن میں پشوپالن بھی شامل ہے ،پر بڑا پروجیکٹ عملا رہی ہے اور اس میں مقامی نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ شمولیت کیلئے راغب کررہی ہے ۔اب ضروری ہے کہ یہاں کے بے روزگار نوجوان اس شعبے کے ساتھ منسلک ہوجائیں ۔انہوں نے کہاکہ بھیڑ پروری مذہبی لحاظ سے بھی بہترین کاروبار ہے اور ساتھ ہی کشمیر میں گوشت کا ایک تیار مارییٹ بھی دستیاب ہے ۔انہوں نے کہاکہ آج شادیون کے سیزن میںیہاں یومیہ10کروڑ روپے کا گوشت صرف ہوتا ہے اور اس میں سے 98فیصد بیرونی منڈیوں سے ہی درآمد کرنا پڑتا ہے ۔اگر مقامی پیداوار بڑھے گی تو بیرونی منڈیوں سے انحصار کم ہوگا اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔انہوں نے قصابوں سے استدعا کی کہ وہ صارفین کو اپنی طرف بہتر کوالٹی اور معتدل قیمتوں کے ذریعے راغب کریں تاکہ یہ کاروبار زیادہ سے زیادہ پھلے پھولے اور ڈی کنٹرول کا مقصد بھی پورا ہواور عام لوگ مطمئن ہوجائیں ۔










