modi

یہ دور جنگ کا نہیں بلکہ سفارت کاری کا ہے، وزیر اعظم نریندر مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی کانگریس سے دوسری مرتبہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب سے کچھ سال قبل جب انہوں نے امریکی کانگریس سے خطاب کیا تھا تو بھارت دنیا کی دسویں بڑی معیشت تھی اور آج وہ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے۔ دفاع کے حوالے سے نریندر مودی نے کہا کہ اس صدی کے آغاز پر امریکہ اور بھارت میں اس شعبے میں تعاون بہت ہی کم تھا لیکن آج امریکہ بھارت کا سب سے بڑا دفاعی شراکت دار ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا،”ہمارے دونوں ممالک نے انتہائی اہم شعبوں میں ٹیکنالوجیکل تعاون کا عزم کیا ہے۔” انہوں نے کہا کہ یوکرین میں جنگ یورپ کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مسائل کے پر امن حل اور ملکوں کی علاقائی سالمیت پر زور دیا۔ “یہ دور جنگ کا دور نہیں ہے بلکہ ڈائیلاگ اور سفارت کاری کا ہے۔”انہوں نے کہا ،”دہشت گردی دنیا بھر کے لیے ایک مسئلہ ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنا چاہیے اور ہمیں دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں سے مقابلہ کرنا چاہیے۔” انہوں نے اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت لفظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی میں زبردست ترقی ہوئی ہے ویسے ہی اے آئی یعنی امریکہ اور ینڈیا کے تعلقات میں بھی ترقی ہوئی ہے۔نریندر مودی نے اس موقع پر ہندوستانی کھانوں کا ذکر کیا اور امریکہ میں موجود ہندوستانیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں تمام عوام کو حکومت کی پالیسیوں کا فائدہ ہوا ہے اور حکومت کی پالیسی سب کا وکاس، سب کا وشواس ، سب کا پریاس پر مبنی ہے۔ (بشکریہ وائس آف امریکہ، اردو)