اگر لوک سبھا میں تعطل برقرار رہتا ہے تو بجٹ بحث کے بغیر منظور کیا جا سکتا ہے:حکام مرکزی وزارت خزانہ
سری نگر//جموں و کشمیر بجٹ کی منظوری کامعاملہ لوک سبھا میں ہنگامہ آرائی کی وجہ سے تعطل کا شکار رہنے کے بیچ مرکزی وزارت خزانہ نے عندیہ دیاہے کہ لوک سبھا میںممکنہ ہنگامہ آرائی کے باوجود جموں و کشمیر سالانہ بجٹ برائے مالی سال 2023-24کو25 مارچ سے پہلے پاس کر دیا جائے گا۔ جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق وزارت خزانہ کے ذرائع نے کہاہے کہ اگر لوک سبھا میں تعطل برقرار رہتا ہے،توجموں وکشمیر کو یکم اپریل2023 سے اگلے مالی سال کے آغاز سے پہلے50 فیصد بجٹ مل جائے گا۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے جواب کے بعد، بجٹ کو لوک سبھا میں منگل (14 مارچ) کو منظور کیا جانا تھا۔ بجٹ کو مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے13 مارچ کولوک سبھا اور14مارچ کو راجیہ سبھا میں پیش کیا تھا۔ دونوں موقعوں پر دونوں ایوانوںمیں ہنگامہ آرائی کے درمیان بجٹ پیش کیاگیاتھا۔لوک سبھا سے منظوری کے بعد، بجٹ کی تجاویز پر راجیہ سبھا میں بحث ہونی ہے جس کے بعد وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کا جواب ہوگا جس کے بعد بجٹ کو پاس کیا جائے گا۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایاکہ بجٹ کو پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد ہی جاری کیا جا سکتا ہے۔ذرائع نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سینئر افسران بشمول چیفسیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا، جو کسی بھی انتظامی سکریٹری فنانس، پلاننگ سکریٹری راگھو لنگر، دیگر بیوروکریٹس اور محکمہ خزانہ کے بیشتر سینئر افسران کی غیر موجودگی میں محکمہ خزانہ کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ منگل کو لوک سبھا میں بحث ہونے کی وجہ سے آج تک نئی دہلی میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ذرائع کاکہناتھاکہ اگر پارلیمنٹ میں احتجاج جاری رہتا ہے تو حکومت کے پاس بجٹ کو بغیر بحث کے منظور کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔اس دوران میڈیا رپورٹ میں مزید بتایاگیاکہ مرکزی وزارت خزانہ نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ مالی سال کے آغاز یعنی یکم اپریل 2023سے قبل پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد جموں وکشمیر کو بجٹ کا 50 فیصد پیشگی جاری کر دیا جائے گا تاکہ ترقیاتی کام، بشمول مرکزی اسپانسرڈ اسکیموں کے تحت، وزیر اعظم کے ترقیاتی پیکیج اور یوٹی سیکٹرکے کاموںکو جاری رکھاجائے۔ذرائع نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ترقیاتی کاموں کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔حکام کے حوالے سے میڈیا رپورٹ میں یہ کہاگیاہے کہ بقیہ بجٹ بھی جلد ہی جاری کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 50 فیصد بجٹ کے اجراء سے جموں وکشمیر کی انتظامیہ کو اگلے سال کے بجٹ کیلئے پہلے سے ہی شناخت شدہ کاموں اور منصوبوں کو فوری طور پر شروع کرنے میں مدد ملے گی۔قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے 13 مارچ کو جموں و کشمیر کے مالی سال2023-24کیلئے1,18,500 کروڑ روپے کا سالانہ بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا، جو کہ موجودہ مالی سال کے مقابلے میں 5500 کروڑ روپے کا اضافہ ہے۔وزیر خزانہ نے سالانہ بجٹ میں جموں و کشمیر کی ترجیحات کو گڈ گورننس، نچلی سطح پر جمہوریت کی مضبوطی، پائیدار زراعت کو فروغ دینا، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی میں سہولت فراہم کرنا، روزگار پیدا کرنا، تیز رفتار ترقی اور جامع ترقی، خواتین کو بااختیار بنانا اورپانچ سال کے اندر مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کو دوگنا کرنا شامل ہے۔ یہ جموں و کشمیر کا لگاتار چوتھا بجٹ تھا جومرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے پارلیمنٹ میں پیش کیا ۔اسے پہلے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے 17 مارچ 2020 کوجموں و کشمیر کا بجٹ 2020-21، 17 مارچ 2021 کو 2021-22 اور 14 مارچ 2022 کوجموں و کشمیر کا بجٹ 2022-23پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔










