جموں//وزیر برائے اعلیٰ تعلیم سکینہ اِیتو نے کہا کہ یونیورسٹی پروفیسروں کی سبکدوشی کی عمر میں توسیع ایک جائزہ کمیٹی کے ذریعے کی جاتی ہے جس کی سربراہی چیف سیکرٹری کرتے ہیں۔وزیر موصوفہ ایوان میں آج رُکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ رینہ کی طرف سے اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں۔اُنہوں نے ایوان کو بتایا کہ اِس کمیٹی میں متعلقہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر، ایڈمنسٹریٹیو سیکرٹری اعلیٰ تعلیم محکمہ فائنانس اور لأ ڈیپارٹمنٹ سے ایک رکن (اگر ضرورت ہو) اورسپیشل سیکرٹری و ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم شامل ہوتے ہیں۔وزیر تعلیم نے کہا کہ جائزہ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اہل پروفیسروں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال سے بڑھا کر 65 سال کی جائے گی۔تاہم، ہرسال کی تکمیل پر متعلقہ وائس چانسلر ان کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔ یہ جائزہ ریسرچ پبلی کیشنز، کلاس روم ٹیچنگ، علمی شراکت اور عمومی کام و روئیے کی بنیاد پر ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ اگر کوئی پروفیسر کم از کم معیار پر پورا نہ اُترے تو اس کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی جائے گی۔وزیر موصوفہ نے مزید کہا کہ یہ طریقۂ کار مکمل طور پر شفاف ہے جس کا مقصد کسی بھی قسم کی اقربا پروری یا ذاتی پسند و ناپسند سے بچنا ہے تاکہ اِدارے کی ساکھ اور دیانت داری کو برقرار رکھا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ ہر کیس کی جانچ پڑتال طے شدہ پیرامیٹروں کی روشنی میں کی جاتی ہے جس میں پروفیسر کی عمومی ساکھ اور ایمانداری بھی شامل ہے، تاکہ کسی قسم کی من مانی یا غیر منصفانہ فیصلے کی گنجائش باقی نہ رہے۔وزیر نے کہا کہ یونیورسٹی پروفیسروں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ مکمل طور پر ایک منظم عمل کے تحت ہوتا ہے جو صرف میرٹ، اہلیت اور طے شدہ معیار کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ طریقۂ کار خوشامد یا ذاتی تعلقات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے لئے نہیںبلکہ اعلیٰ تعلیمی اور اخلاقی معیارات کو برقرار رکھنے کے لئے اپنایا گیا ہے۔ وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کواپنایا گیا ہے۔










