یونیسیف انڈیا نے اتوار (11 اکتوبر) کو ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی نو منتخب کپتان اسمرتی مندھانا کو اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے ادارے یونیسیف کی سیلیبریٹی ایڈووکیٹ مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ اس نئے کردار میں مندھانا بچوں اور نوجوانوں کے مساوی حقوق اور مواقع کی وکالت کے لیے اپنی سابقہ کوششوں کو آگے بڑھائیں گی۔ یہ تقرری 11 اکتوبر کو لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر کی گئی۔ یہ دن لڑکیوں کے حقوق، تحفظ، صلاحیتوں اور قیادت کو نمایاں کرتا ہے، ساتھ ہی ان رکاوٹوں کی جانب بھی توجہ دلاتا ہے جو اب بھی ان کے انتخاب کو محدود کرتی ہیں۔
ہندوستان کی اسپورٹس آئیکن اور نوجوان خواتین و لڑکیوں کے لیے ایک رول ماڈل کے طور پر مندھانا لڑکیوں کو کھیلنے اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی وکالت کریں گی۔ وہ یونیسیف انڈیا کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں تعاون کریں گی تاکہ نوعمر لڑکیوں کو بااختیار بنایا جا سکے، ان کی صحت اور فلاح و بہبود کو فروغ دیا جا سکے اور وہ اپنی پوری صلاحیت تک پہنچ سکیں۔
اس موقع پر اسمرتی مندھانا نے کہا کہ یونیسیف انڈیا کی سیلیبریٹی ایڈووکیٹ کے طور پر وابستہ ہو کر مجھے فخر محسوس ہو رہا ہے۔ بچپن میں کرکٹ کھیلنے نے مجھے سکھایا کہ ہر خواب کا آغاز ایک موقع سے ہوتا ہے۔ محنت، عزم اور حوصلہ افزائی سے وہ موقع کچھ غیر معمولی بن سکتا ہے۔ ہر بچے اور نوجوان کو بڑے خواب دیکھنے اور اپنی پوری صلاحیت تک پہنچنے کا موقع ملنا چاہیے۔‘‘
یونیسیف انڈیا کی نمائندہ سنتھیا میک کیفری نے اس موقع پر کہا کہ ’’ہم لڑکیوں کے عالمی دن پر اسمرتی مندھانا کا یونیسیف انڈیا کی سیلیبریٹی ایڈووکیٹ کے طور پر خیرمقدم کرتے ہوئے خوش ہیں۔ ایک پرعزم نوجوان کھلاڑی سے عالمی کرکٹ آئیکن تک اسمرتی کا سفر لڑکیوں کو دکھاتا ہے کہ جب صلاحیت کو موقع ملتا ہے تو کیا کچھ ممکن ہو سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب ہندوستان دنیا کے سب سے بڑے بچوں اور نوجوانوں کی نسل کا گھر ہے۔ لڑکیوں کے حقوق، قیادت اور فلاح و بہبود میں سرمایہ کاری کسی ملک کی سب سے دانشمندانہ سرمایہ کاری ہے۔ ہم اسمرتی کے ساتھ شراکت داری کے منتظر ہیں تاکہ ہر لڑکی کو سیکھنے، کھیلنے، قیادت کرنے اور اپنی پوری صلاحیت کا بھرپور اظہار کرنے کا موقع مل سکے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ مندھانا اس سے قبل صنفی مساوات اور زندگی کی مہارتوں پر مرکوز یونیسیف اور آئی سی سی کی مہمات کی حمایت کر چکی ہیں۔ وہ یونیسیف کی ’پرومس ٹو چلڈرن‘ مہم کی بھی حامی رہی ہیں۔










