ہم چاہتے ہیں کہ اڈانی کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، وزیر اعظم اس کی حفاظت کرنا چھوڑ دیں

پوری اپوزیشن اس معاملے پر ایک ساتھ ،پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران یہ مسئلہ اٹھائیں گے/ راہول گاندھی

سرینگر // وزیر اعظم نریندر مودی کے ’’ایک ہیں تو محفوظ ہیں‘‘ کے نعرے پر طنز کرتے ہوئے کانگریس کے لیڈر اور پارلیمنٹ میں لیڈر آف اپوزیشن راہول گاندھی نے کہا کہ جب تک وزیر اعظم اور اڈانی ایک ساتھ ہیں’’ہندوستان میں صرف وہ محفوظ ہیں۔ ‘‘ انہوںنے گوتم اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔ سی این آئی کے مطابق حزب اختلاف کے رہنما اور کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے گوتم اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا جبکہ ارب پتی صنعت کار پر امریکہ میں مبینہ رشوت اور دھوکہ دہی کا الزام لگایا گیا تھا۔امریکی پراسیکیوٹرز کی جانب سے اڈانی اور اس کے ساتھیوں پر بھارتی حکام کو 250 ملین امریکی ڈالر کی رشوت دینے کا الزام عائد کرنے کے چند گھنٹے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ اب یہ بات بالکل واضح اور امریکہ میں قائم ہے کہ تاجر نے بھارتی اور امریکی قوانین کو توڑا ہے۔ .وزیر اعظم نریندر مودی کے ’’ایک ہیں سے محفوظ ہیں ‘‘کے نعرے پر طنز کرتے ہوئے گاندھی نے کہا کہ جب تک وزیر اعظم اور اڈانی ایک ساتھ ہیںہندوستان میں وہ محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اڈانی کو فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہئے اور ان سے پوچھ گچھ کی جانی چاہئے جبکہ ان کے محافظ اور SEBI کی چیئرپرسن مادھابی پوری بوچ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہئے اور تحقیقات شروع کی جانی چاہئے۔گاندھی نے مزید کہا کہ وہ پیر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران یہ مسئلہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پوری اپوزیشن اس معاملے پر ایک ساتھ ہے اور مشترکہ طور پر اس معاملے کو اٹھائے گی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا اڈانی گروپ کے لین دین کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ ہے۔وزیر اعظم مودی پر اڈانی کی حفاظت کا الزام لگاتے ہوئے، کانگریس کے سابق سربراہ نے کہا’’وزیر اعظم واضح طور پر ان کی حفاظت کر رہے ہیں۔ اس مسئلے کو اٹھانا میرا کام ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اڈانی کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ہم ملک کو دکھانا چاہتے ہیں کہ اڈانی جی کو گرفتار نہیں کیا جائے گا کیونکہ وزیر اعظم ان کی حفاظت کر رہے ہیں2ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے کے بعد بھی، میں ضمانت دیتا ہوں کہ انہیں نہ تو گرفتار کیا جائے گا اور نہ ہی کوئی تحقیقات ہوگی‘‘۔