omar abdullah

ہم اقتدار بھی چاہتے ہیں، ، سٹیٹ ہڈ بھی اور دفعہ370کی لڑائی بھی چھوڑنے کیلئے تیار نہیں

نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھر اور بندوق نہیں دیں گے اور نہ ماحول بگاڑیں گے ،پُرامن جدوجہد جاری رہے گی / عمر عبداللہ

سرینگر //نیشنل کانفرنس اقتدار کیلئے اصولوں کو قربان کرنے کیلئے تیار نہیں کی بات کرتے ہوئے پارٹی کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ ’’باقیوں نے پہلے ہی دفعہ370پر ہار مان لی ہے اور کہتے ہیں کہ دفعہ370گیا تو گیا بس اور کچھ ہاتھ لگ جائے ، سٹیٹ ہڈ ہی آجائے وہی کافی ہے لیکن ہم اقتدار بھی چاہتے ہیں، ، سٹیٹ ہڈ بھی چاہتے ہیں اور ہم دفعہ370کی لڑائی بھی چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ سی این آئی کے مطابق شمالی زون اور جنوبی زون کے بعد نیشنل کانفرنس وسطی زون کشمیر کا ایک خصوصی کنونشن مانسبل گاندربل میں نائب صدر عمر عبداللہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔اس موقعہ پر عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل کانفرنس اور دیگر سیاسی جماعتوں میں بہت فرق ہے۔ باقی جماعتیں صرف اقتدار چاہتی ہیں، ہم بھی اقتدار چاہتے ہیں لیکن ہم اس کیلئے اپنے اصولوں کو قربان کرنے کیلئے تیار نہیں اور نہ ہی اقتدار ہماری منزل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’باقیوں نے پہلے ہی دفعہ370پر ہار مان لی ہے اور کہتے ہیں کہ دفعہ370گیا تو گیا بس اور کچھ ہاتھ لگ جائے ، سٹیٹ ہڈ ہی آجائے وہی کافی ہے لیکن ہم (نیشنل کانفرنس) اقتدار بھی چاہتے ہیں، سٹیٹ ہڈ بھی چاہتے ہیں اور ہم دفعہ370کی لڑائی بھی چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے مؤقف میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئی ہے اور ہم آج بھی اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ ہم پُرامن ، جمہوری اور قانونی طریقے سے جموں و کشمیر کے حقوق کیلئے آخری دم تک لڑیں گے لیکن ہم نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھر اور بندوق نہیں دیں گے اور ہم ماحول نہیں بگاڑیں گے ، ہم نے پُرامن جدوجہد کا عزم کیا ہے اور ہم اپنی جدوجہد میں ثابت قدم ہیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے 11جولائی کو دفعہ370کی سماعت تاریخ مقرر کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم چیف جسٹس صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں، دیر آید درست آید۔تاہم کچھ لوگ شنوائی سے پہلے ہی ہاتھ اُوپر کررہے ہیں، یہ ان کا حق ہے لیکن جیسے ہاتھ کھڑے کرکے پیچھے ہٹنا ان کا حق ہے ویسے ہی ناانصافی کیخلاف لڑنا ہمارا حق ہے اور ہم لڑتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر صحیح انداز میں پیش کیا جائے تو ہمارا کیس بہت ہی مضبوط ہے۔ یہاں گورنر نے پہلے خود کو اسمبلی کے اختیارات دیئے اور پھر خود آئین ساز اسمبلی کے اختیارات بھی تفویض کئے۔ پہلے کہا کہ میں جموں وکشمیر کے عوام کا نمائندہ ہوں اور پھر یہ بھی کہا کہ میں اُن لوگوں کا بھی نمائندہ ہوں جو لوگ آج زندہ بھی نہیں ہیں، یہ ساری باتیں سپریم کورٹ کے سامنے ہونگی اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ وہاں سے ہمیں انصاف ملے گا۔ موقعہ پرست عناصر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جن لوگوں نے پہلے ہی بھاجپا کیساتھ اتحاد کر رکھا ہے وہی لوگ کہتے ہیں کہ نیشنل کانفرنس اور بھاجپا مل کر اگلی حکومت بنائیں گے۔ ’’ارے جناب ہم کیوں بھاجپا کیساتھ مل کر حکومت بنائیںگے، ہم تو اپنے دم پر حکومت بنانے کی کوشش کررہے ہیں، ہم تو لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اگر آپ نے ماضی میں مخلوط حکومتیں نہیں بنائیں ہوتیں تو آج ہماری یہ حالت نہیں ہوئی ہوتی اور ہم لوگوں کو یہ سچائی بھی بتارہے ہیں کہ اگر نیشنل کانفرنس کمزورنہیں ہوئی ہوتی تو یہ لوگ (بھاجپا والے)دفعہ370اور 35اے کو کبھی بھی چھونے میں کامیاب نہیں ہوئے ہوتے۔‘‘ عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے 1996میں جس طرح سے دوتہائی اکثریت حاصل کرکے اٹانومی کا مسودہ تیار کرکے اسے اسمبلی سے منظوری دلوائی ، اُسی دن سے نئی دلی اس سازش میں لگ گئی کہ نیشنل کانفرنس کبھی اکثریت حاصل نہ کرسکے اور 5اگست2019اسی سازش کا نتیجہ ہے۔‘‘