گورنمنٹ میڈکل کالج میں ٹکٹ حاصل کرنا مریضوں کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں

صبح سات بجے کے بعد ہی ہسپتال میں مریض قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرتے ہیں

سرینگر///گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں مریض صبح سات بجے سے ہی ٹکٹ حاصل کرنے اور نئی تاریخ لینے کیلئے صبح صادق سے ہی قطاروں میں رہتے ہیں اور کئی گھنٹوں تک کھڑا رہنا مریضوں کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں ہے کیوں کہ مریضوں کیلئے ٹکٹ کاونٹر ایک آف لائن اور ایک آن لائن ہے جو ہسپتال میں علاج و معالجہ کیلئے آنے والے مریضوں کیلئے ناکافی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر میں سب سے بڑا ہسپتال ہے جہاں پر مہینے میں ایک لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج ومعالجہ کیا جاتا ہے ۔ اس ہسپتال میں شوپیاں، پلوامہ ، کولگام اور ضلع اننت ناگ کے مریضوں کے ساتھ ساتھ خطہ پیر پنچال سے بھی مریض علاج و معالجہ کیلئے آتے ہیں جس کی وجہ سے ہسپتال پر مریضوں کا دبائو ہے ۔ تاہم مریضوں کو ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے صبح سات بجے سے ہی قطاروں میں کئی گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید تکلیف ہوتی ہے ۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے لوگوں نے کہا کہ ہسپتال میں صرف 2ہی ٹکٹ کاونٹر ہے ایک آف لائن اور دوسرا آن لائن کاونٹر ہے جہاں سے مریض ٹکٹ حاصل کرتے ہیں لیکن دن بھر ہزاروں کی تعداد میں مریض ہسپتال آتے ہیں اور صرف یہ دو کاونٹر ناکافی ہے ۔ انہوںنے اس ضمن میں سیکریٹری ہیلتھ اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ مریضوں کیلئے اضافی ٹکٹ کاونٹر دستیاب رکھا جائے تاکہ مریض آسانی کے ساتھ نسخہ حاصل کرسکیں۔ انہوںنے کہا کہ دو تین گھنٹے کھڑا رہنے کی وجہ سے مریضوں اور تیمارداروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جو کسی عذاب سے کم نہیں ہے ۔