جموں//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بتایا کہ گلمرگ کے مشہور اسکیئنگ ریسورٹ میں متنازعہ فیشن شو کا اہتمام ایک نجی پارٹی نے ایک نجی ہوٹل میں کیا تھا جس میں کسی بھی مرحلے میں حکومت کی شمولیت نہیں تھی ۔ وزیر اعلیٰ ، جو ایوان کے رہنما بھی ہیں ، نے رمضان کے مقدس مہینے کے دوران ہونے والے متنازعہ پروگرام سے متعلق مختلف ممبروں کے ذریعہ اٹھائے گئے خدشات کے جواب میں یہ بیان دیا ۔ انہوں نے اس معاملے کے بارے میں ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی تحقیقات کو فوری طور پر شروع کیا گیا اور کچھ ابتدائی نتائج سامنے آئے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ چار روزہ ایونٹ کے حصے کے طور پر 7 مارچ کو ایک نجی ادارہ کے ذریعہ ایک فیشن شو کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ایونٹ کے دوران ہونے والے اقدامات سے عوامی جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں پوری طرح اتفاق کرتا ہوں ’’ یہ خدشات لاحق ہیں کہ رمضان کے دوران اس طرح کا شو نہیں ہونا چاہئیے تھا تا ہم میں ایک قدم اور آگے جاؤں گا اور کہوں گا کہ ہمارے خطے کے ثقافتی اور معاشرتی اخلاق کو دیکھتے ہوئے اس طرح کے شو کو سال کے کسی بھی وقت کسی جگہ پر نہیں ہونا چاہئیے تھا ‘‘۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ حکومت کی اس پروگرام میں کوئی شمولیت نہیں ہے ۔ مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اس پروگرام کو نجی طور پر ایک نجی ہوٹل میں منظم کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے نہ تو اجازت کیلئے رابطہ کیا گیا تھا اور نہ ہی اس نے کوئی مالی یا رسد کی مدد فراہم کی تھی ۔ اس پروگرام میں کسی بھی سرکاری انفراسٹرکچر کا استعمال نہیں کیا گیا تھا اور ہی کوئی سرکاری عہدیدار موجود تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اس کے باوجود انتظامیہ کو یہ جانچنے کی ہدایت دی گئی ہے کہ آیا کوئی قانونی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں ۔ اگر قانون کی کسی شق کی خلاف ورزی کی گئی ہے تو حکام مناسب کارروائی کریں گے ۔ وزیر اعلیٰ نے اس بات کا اعادہ کیا اس پروگرام میں حکومت کی کوئی شمولیت نہیں تھی ۔ اگر معاملہ پہلے ہی ہمارے نوٹس میں لایا جاتا تو ہم اس کی اجازت نہ دیتے ۔










