گلمرگ حملہ ـ :ایک اور زخمی فوجی اہلکار اسپتال میں زندگی کی جنگ ہار گیا

مہلوکین کی تعداد پانچ تک پہنچ گئی ، مرنے والوں میں تین فوجی اور دو مقامی پورٹر شامل

سرینگر // شہر ہ آفاق گلمرگ کے بوٹہ پتھری میں فوجی گاڑی پر گھات لگا کر ملی ٹنٹوں کے حملے میں زخمی ایک اور فوجی اہلکار اسپتال میں دم توڑ بیٹھا جس کے ساتھ ہی مرنے والوں کی تعداد 5تک پہنچ گئی ہے ۔ مرنے والوں میں دو مقامی پورٹر اور تین فوجی شامل ہے ۔ ادھر حملے میںملوث ملی ٹنٹوں کی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ہے اور کنٹرول لائن کے قریب گھنے جنگلات تک آپریشن وسیع کر دیا گیا ہے ۔ آپریشن میں ڈرون اور ہیلی کاپٹر خدمات حاصل کی جا رہی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق شہرہ آفاق گلمرگ کے بوٹہ پتھری علاقے میں علاقے میں جمعرات کی شام دیر گئے وہاں گھات میں بیٹھے ملی ٹینٹوں نے فوج کی ایک گاڑی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار پانچ اہلکار اور دو پورٹر شدید طورپر زخمی ہوئے۔حملے میں زخمی تمام افراد کو علاج و معالجہ کیلئے پہلے نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا جس کے بعد انہیں سرینگر کے فوجی اسپتال لایا گیا جہاں رات دیر گئے ہی دو مقامی پورٹر اور دو فوجی اہلکار زخمیوں کی تاب نہ لاتے دم توڑ بیٹھے جبکہ جمعہ کی صبح ایک اور زخمی فوجی اہلکار زندگی کی جنگ ہار گیا ۔ اس طرح سے اس حملے میں مرنے والوں کی تعداد پانچ تک پہنچ گئی ہے جبکہ چار دیگر زخمی اہلکار اسپتال میں زیر علاج ہے ۔مرنے والوں میں دو مقامی فوجی پورٹر بھی شامل ہے جن کی شناخت مشتاق احمد چودھری ساکنہ نوشہرہ اوڑی اور ظہور احمد میر ساکنہ بونیار اوڑی کے بطور ہوئی ہئے جبکہ اس حملے میں تین فوجی اہلکار بھی مارے گئے ۔ ادھر حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جائے وقوع کے اردگرد علاقوں کو محاصرے میں لے کر حملہ آوروں کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی ہے۔پولیس کے ایک سنیئر آفیسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے ڈرون اور ہیلی کاپٹر تعینات کیے جبکہ ملی ٹنٹوں کا سراغ لگانے کیلئے تلاشی آپریشن تیز کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سیاحتی مقام گلمرگ اور ٹنگمرگ میں بھی ناکہ چیکنگ کو تیز کر دیا گیا ہے۔ساتھ ہی گلمرگ میں کنٹرول لائن کے نزدیک ہوئے حملے کے بعد سرحدی علاقوں میں سیکورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔