خواتین کو پانی لانے کیلئے کرنا پڑتا ہے میلو ں کا سفر ، بجلی کی غیر متوقع کٹوتی سے بھی صارفین پریشان
سرینگر // وادی میں جھلسادینے والی گرمی کے بیچ پانی کی عدم دستیابی کو لیکر لوگوں میں شدید غم و غصہ کی لہر پائی جا رہی ہے جبکہ مختلف علاقوں میںخواتین کو دور دراز علاقوں میںجاکر پانی لانا پڑتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق ٹنل کے آ ر پار شدید گرمی کی لہر کے بیچ پانی کے پانی کی عدم دستیابی کے نتیجے میںلوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ شہر سرینگر اور وادی کے دیگر اضلاع کے مختلف علاقوں میں پینے کے صاف پانی اور بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔جھلسادینے والی گرمی کی وجہ سے جہاں لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے وہیں پر شہر سرینگر اور وادی کے دیگر قصبہ جات کے مختلف علاقوں نے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں پینے کے صاف پانی اور بجلی کی غیر متوقع کٹوتی سے کافی پریشانیویوں کاسامناکرنا پڑرہا ہے ۔کئی علاقوں میں غیر متوقع طور پر برقی روک چلی جاتی ہے اور ایک گھنٹے تک وقفہ رکھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ پینے کے صاف پانی کی سپلائی بھی بیچ بیچ میں منقطع رکھی جاتی ہے ۔ لوگوں کے مطابق گرمیوں کے ان دنوںمیں پانی کی عدم دستیابی سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ادھر سرینگرکے سیول لائنز علاقوں کے علاوہ سوپور کے مختلف علاقوں سے بھی لوگوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں بجلی کی عدم دستیابی کا سامنا ہے ۔اس دوران سرحدی ضلع کپوارہ کے لولاب کے مختلف دیہات جن میں شمناگ، درد پورہ، ورنو وارسن ،منز گام و دیگر دیہات شامل ہیں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگ پریشان ہے۔










