کے سی سی آئی نے الیکٹرانک اور آئی ٹی سیکٹر کے فروغ کیلئے اِی ایس سی اِنڈیا کے ساتھ مفاہمت نامہ پر دستخط کئے ہیں

کے سی سی آئی نے الیکٹرانک اور آئی ٹی سیکٹر کے فروغ کیلئے اِی ایس سی اِنڈیا کے ساتھ مفاہمت نامہ پر دستخط کئے ہیں

سری نگر//کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ اِنڈسٹری ( کے سی سی آئی ) نے آج لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی موجودگی میں الیکٹرانکس اور کمپیوٹر سافٹ ویئر ایکسپورٹ پروموشن کونسل آف اِنڈیا ( اِی ایس سی) کے ساتھ الیکٹرنک اور آئی ٹی سیکٹر میں مفاہمت نامہ پر دستخط کئے ۔مفاہمت نامہ پر چیئرمین ای ایس سی سندیپ نرولہ اور صدر کے سی سی آئی جاوید احمد ٹینگا نے دستخط کئے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ اِنڈسٹری ارو الیکٹرانکِس اینڈ کمپیوٹر سافٹ ویئر ایکسپورٹ پروموشن کونسل آف اِنڈیا کو کشمیر پر مبنی الیکٹرانِکس اور سافٹ ویئر یونٹوں کی رہنمائی اور فروغ دینے ،بائیر ۔ سیلر میٹنگ منعقد کرنے ، تجربات شیئر کرنے ، شعبے میں طرزِ عمل اور علم بانٹنے ،بہترین شراکت داری کے لئے مبارک باد دی۔اُنہوں نے کہا،’’ یہ مفاہمت نامہ جموںوکشمیر یوٹی کے لئے ایک اہم موقعہ ہے اور اِس سے جموںوکشمیر میں الیکٹرانِک اور آئی ٹی سیکٹر کو بہت فائدہ ہوگا۔یہ تجارتی میلوں میں شرکت ، عالمی منڈی تک رَسائی اور مشاورتی خدمات نچلی سطح پر اِختراعیت میں اِضافہ کرے گی اور کاروباری اَفراد کو اَپنی ٹیکنالوجیز کو تجارتی بنانے میں مدد کرے گی۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی جی کی رہنمائی میں گذشتہ کچھ برسوں میں متعارف کی گئی اِصلاحات نے جموں وکشمیر میں الیکٹرانِکس ، کمیونکیشن اور ٹیکنالوجی شعبوں میں زبردست تبدیلیاں لائی ہیں۔انہوں نے کہا،’’ جموںوکشمیر یوٹی نے تھوڑے ہی عرصے میں مسابقت سے رفتار برقرار رکھنے ، اُبھرتے ہوئے آئی ٹی اَنٹرپرینیوروں کے لئے بنیادی ڈھانچے کی بنیاد بنانے ، تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت میں مدد کرنے اور عوامی خدمات کی فراہمی میں کارکردگی اور شفافیت لانے کے لئے ڈیجیٹلائزیشن میں کئی سنگ میل حاصل کئے ہیں۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’ آئی ٹی سیکٹر میں تیزی سے تبدیلی جموںوکشمیر یوٹی کو تبدیل کرنے اور اسے شمالی ہندوستان کا آئی ٹی مرکز بنانے کا ایک دِلچسپ موقعہ فراہم کرتی ہے ۔ تمام شراکت داروں کا جامع تعاون ، تخلیقی صلاحیت او راَنٹرپرائز ، اِنسانی وسائل کا بھرپور ذخیرہ ہمارے عزم کو تقویت دے سکتا ہے اور ہمیں اِس مقصد کے قریب لے جاسکتا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مفاہمت نامہ پر دستخط کی تقریب میں کہا کہ کس طرح نئی ٹیکنالوجیز جموںوکشمیر میں زراعت اور اس سے منسلک شعبے میں اِنقلاب برپا کرسکتی ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’ ایگری ٹیک ایک اور شعبہ ہے جو جموںوکشمیر کے سٹارٹ اَپس اور آئی ٹی اَنٹرپرینیورں کے لئے بڑے مواقع فراہم کرتا ہے ۔ سینسر پر مبنی سمارٹ ایگر ی کلچر، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکو سسٹم کے لئے اَنٹرنیٹ آف تھنگز اور آٹومیشن ، ٹیکنالوجی سے چلنے والی ایگری اِنفارمیٹکس مزید ملازمتیں پیدا کرے گی اور نئے کاروباری اِداروں کی تخلیق میں سہولیت فراہم کرے گی۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کے اِنقلاب کی ترقی او رغیر ملکی کمپنیوں کی طرف سے ہمارے ہنر مند اَفرادی قوت کو استعمال کرنے کے لئے حالیہ دِلچسپی نوجوانوں کو جموںوکشمیر کو ترقی اور تکنیکی اِختراع کے ایک نئے دُور کی طرف لے جانے کے قابل بنائے گی۔اُنہوں نے کہا کہ اِی ایس سی اِنڈیا اور ان کے وسیع عالمی نیٹ ورک کی مدد سے ہم نے صرف جاری صنعتی کاری کے فوائد کو بڑھاسکتے ہیں بلکہ اَپنے نوجوان کاروباریوں اور سٹارٹ اَپ کے بانیوں میں موجود تخلیقی صلاحیتوں میں اِضافہ کرسکتا ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ صنعت وحرفت ، محکمہ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی او ردیگر شراکت داروں کو رنگریٹھ میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کی ہدایت دی ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں نوجوان کاروباریوں ، سٹارٹ اَپس ، چھوٹی کمپنیوں تک ہاتھ بڑھانا چاہیے اور آئی ٹی شعبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو فروغ دینا چاہیے۔مفاہمت نامہ تقریب کے موقعہ پر چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا ، چیئرمین اِی ایس سی سندیپ نرولہ ، صدر کے سی سی آئی جاوید احمد ٹینگا ، کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت محکمہ وکرم جیت سنگھ، وائس چیئرمین اِی ایس سی ویر ساگر، ایگزیکٹیو دائریکٹر اِی ایس سی گرومیت سنگھ، اِی ایس سی اور کے سی سی آئی کے اَفسران ، سول اِنتظامیہ اور پولیس کے سینئر اَفسران اور تاجر کمیونٹی کے اَرکان موجود تھے۔