pesticides in the entire valley

کھیتی باڈی دوا پاشی نے وادی کے طول ارض میں دستک تودی

کھیتوں کھیلانوں کوسیراب کرنے او ردوا پاشی کے لئے ندی نالوں کی صفائی نہ ہونے سے پانی کی قلت کاامکان

سرینگر //کھیتی باڈی دوا پاشی کاسیزن سر پر آن پہنچا ہے تاہم وادی کے اطراف وکناف کے ندی نالوں کی صفائی ابھی تک اریگیشن فلد کنٹرول کی جانب سے نہیں کی گئی ہے جسپر کسانوں باغ مالکان سبزیاں اُگانے والوں نے حیرانگی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ اپریل کے مہینے سے باضابطہ طور پرکھیتی باڈی شروع ہوتی ہے ۔کھیتوں کھلیانوں سیب کے باغوں میں پانی کی اشد ضرورت ہوا کرتی ہے او رمتعلقہ محکمہ ہنوز خواب خرگوش میں ہے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق وادی کشمیر میں موسم بہار کاآغاز اگرچہ وسط مارچ سے شروع ہوجاتاہے اور ا سکے ساتھ ہی کھیتی باڈی دوا پاشی کاسیزن شروع ہوتا ہے ۔لوگ کھیتوں کھلیانوں میں مختلف فصلوں کے بیچ بونے کے ساتھ ساتھ سیب کے باغوں میں دوا پاشی کھاد ڈالنے کاسلسلہ بھی شروع کرتے ہیں ۔جموںو کشمیرکے چیف سابق سیکریٹری ڈاکٹرارون کمار مہتانے سبقدوش ہونے سے پہلے تمام ڈپٹی کمشنروں کوہدایت کی تھی کہ وہ ندی نالوں کی صفائی کرے اور جہاں کئی مرمت کی ضرورت ہے اس سے انجام دے تاکہ جب بھی کھیتی باڈی اور دوا پاشی کاسلسلہ شروع ہوگا۔ کسانوں باغ مالکان سبزیاں اُگانے والوں کوپانی کی ضرورت کے بارے میں مشکلوں کاسامناناکرنا پڑے ۔ وادی کے اطراف واکناف سے جواطلاعات موصول ہورہی ہے ان کے مطابق اطراف واکناف میں جہاں سینکڑوں ندی نالوں کاوجود مٹنے کے قریب ہے اور تین مارچ کو برف باری ور موسلادھا ربارشوں نے وادی کے کئی شہروں کھیتوں کھلیانوں میں سیلابی صورت پید اکی ندی نالوں میں تغیانی ٓا گئی او رلوگوں کاالزام ہے کہ ندی نالے اپنی ہیئت کھو چکے ہے ۔فلڈ کنٹرول اریگیشن کامحکمہ ندی نالوں کی حفاظت ان کی مرمت کسانوں باغ مالکان کوپانی فراہم کرنے میںناکام ثابت ہورہاہے او ریہ کوئی ڈھکی چھپی با ت نہیں۔ سال 2023کے وسطہ میں درجنوں علاقوں میں دھان کی پنیری پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے سوکھ گئی اور ان علاقوں کے رہنے والے لوگوں نے با ربار ضلع انتظامیہ صوبائی انتظامیہ سے مطالبہ کیاکہ انہیں پانی کی فراہمی کویقینی بنایاجائے تاہم کوئی کارروائی عمل میںنہ لائی گئی او رسینکروں ہیکٹئراراضی پردھان کی پنیری سوکھ گئی لوگ فصلوں سے محروم ہوئے یہی حال سیب کے باغوںکاہے جہاں فلڈ کنٹرول ارگیشن یاکماند ایریابارش کے پانی کوزخیرہ کرنے کے لئے اقدامات نہیں اٹھاتے ہے وہی ضرور ت ہے وقت باغ مالکان کوجب پانی کی عدم دستیابی سے گزرنا پڑتاہے ان سے سیب کے باغوں میں دوائی چھڑنے میں مشکلوںکاسامناکرنا پڑتاہے سکیب سیب کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے او رباغ مالکان اقتصادی بدحالی کاشکار ہوتے ہیں۔ شمالی کشمیر اور وسطی علوقوں مین ایسے سینکڑوں نہریں جوکھیتوں کھلیانوں کوسیراب کرنے کے علاوہ مقامی لوگوں کے لئے پینے کے پانی کازریعہ ہوا کرتا تھا اب اپنی افادیت کھوچکی ہے ان نہروں کی مرمت اور ان کی ہیئت بحال کرنے کے لئے ارگیشن فلڈ کنٹرول کامحکمہ غیرسنجیدہ دکھائی دے رہاہے او ریہی وجہ ہے کہ ہر سال سینکڑوںہیکٹر اراضی سیراب نہ ہونے کی وجہ سے ریگستان میں تبدیل ہورہی ہے اب جب کہ موسم بہار نے دستک دی کھیتی باڈی باغ بانی کاسلسلہ شروع ہونے جارہاہے ۔ندی نالے تباہ وبرباد ہو پھرفصلوں کی پیداوار میں اضافہ باغ بانی کو مسائل سے باہر نکال کر اس سے بین اقوامی مارکیٹ دلانے کی بارتیں کرنا شاید زیب نہیں دیتا ۔اگراب فلڈ کنٹرول ارگیشن ڈیپارٹمنٹ ندی نالوں یادیگرآبی پناہ گاہوں کی مرمت کا کام شروع کریگاا س سے انجام دینے میں تین ماہ کا عرصہ درکار ہوگا پھرجاکر ان ندی نالون کے زریعے کھیتوں کھلیانوں کوسیراب کرنے کی گنجائش ہے ۔محکمہ کویہ بات تسلیم کرنی چاہئے کہ ہمارے ندی نالے خود غرض عناصر کے علاوہ فلد کنٹرول ارگیشن فشریئز زولوجی اینڈ مائیننگ کی غیرسنجیدگی کی وجہ سے تباہی کے دہانے پرپہنچ گئے ہے او رآج صورت حال یہ ہے کہ دو سو پچاس سے تین سو کے قریب ایسے ندی نالے ہے جو کھیتوں کھلیانوں کوسیراب کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔غیرقانونی کان کنی خود غرض عناصر کی جانب سے قبضہ جمانے کاجو سلسلہ شروع ہو اہے او رمتعلقہ ادارے کی خاموشی سے ہمارے آنے والے کل پرسوالیہ نشان لگ گیاہے ۔