hospitals

کوکر ناگ کی گجر بستی واحد ایسا علاقہ جہاں اسپتال ہے نہ کیمسٹ کی دکان

ایمرجنسی کے دوران مریضوں کو گھوڑوں پر یا کندھوں پر اٹھا کر طبی مراکز یا اسپتال پہنچانا پڑتا ہے

سرینگر// جنوبی ضلع اننت ناگ سے محض 45 کلو میٹر دور ڑرہ علاقے کی گجر بستی میں طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ اسپتال یا طبی مرکز تو دور ان کے علاقے میں نجی دوا کی دکان بھی موجود نہیں ہے۔جس کے باعث علاقے کے لوگوں کو علاج و معالجہ کیلئے ضلع ہیڈ کواٹر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق ترقی کے اس دور میں بھی جنوبی ضلع اننت ناگ کے کئی دور افتاد علاقوں میں رہائش پذیر گجر طبقہ سے وابستہ لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہے اور وہاں ضروری ساز و سامان کی عدم دستیابی کے باعث انہیں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث انہیں گھوڑوں پر ہی مریضوں کو طبی مراکز یا اسپتال پہنچانا پڑتا ہے۔جبکہ ضلع اننت ناگ میں کئی طبی مراکز غیر فعال ہونے کی وجہ سے گجر طبقے سے وابستہ افراد کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ مشہور سیاحتی مقام کوکر ناگ کے ڑرہ علاقے میں طبی مرکز تو در کنار ایک کیمسٹ کی دکان بھی موجود نہیں جس سے اس علاقے کی کثیر آبادی کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ڑرہ کی آبادی نے انکے علاقے میں موجود طبی مراکز کو فعال بنانے کے علاوہ ایک کیمسٹ کی دکان کھولے جان کا مطالبہ کیا ہے۔ شبیر احمد نامی ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ بیمار ہمشیرہ کے ہمراہ گھوڑے پر 5 کلومیٹر کا سفر طے کرکے ایک کیمسٹ کی دکان پر ملاحظے کے لیے پہنچے ہیں۔ سب ضلع اسپتال کوکر ناگ 14کلومیٹر دور ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انکے علاقے میں طبی سہولیات کا پوری طرح فقدان ہے کیونکہ ایمرجنسی کے دوران انہیں مریضوں کو گھوڑوں پر یا کندھوں پر اٹھا کر طبی مراکز یا اسپتال پہنچانا پڑتا ہے۔