وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جے کے اے ایس اور اکائونٹس سروس کے 55اَفسران میں تقرری نامے تقسیم کئے

آپ کو وہ موقعہ ملا ہے جو بہت کم لوگوں کو ملتا ہے ، اسے عوام کی خدمت کیلئے اِستعمال کریں۔وزیراعلیٰ کی نوتعینات اَفسران سے اپیل

سری نگر//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران’’کمبائنڈ کمپی ٹیٹیو ایگزامی نیشن‘ کے ذریعے جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹیو سروس اور جموں و کشمیر اکاؤنٹس (گزیٹیڈ) سروس میں شامل ہونے والے 55 نئے منتخب اُمیدواروں میں تقرری نامے تقسیم کئے ۔ان 55 نئے تعینات کئے گئے اَفسران میں 28 جونیئر سکیل جے کے اے ایس اَفسران اور 27 جے اینڈ کے اکاؤنٹس (گزیٹیڈ) سروس کے اکاؤنٹس اَفسران شامل ہیں۔اِس موقعہ پر وزرأ جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، کمشنر سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ایم راجو، جی اے ڈِی کے سینئر اَفسران، نئے تعینات افسران اور ان کے والدین موجود تھے۔وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نئے منتخب اَفسران اور ان کے والدین و اہل خانہ کو مُبارک باد دِی اور ان کی کامیابی میں شامل محنت، ثابت قدمی اور قربانیوں کا اعتراف کیا۔اُنہوں نے اَفسران سے کہا کہ تقرری کے احکامات حاصل کرنا ان کے سفر کی منزل نہیں بلکہ ایک نئی شروعات ہے اور اَب تک انہوں نے ایک بڑے اور طویل سفر کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ طے کیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا،’’اب آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ جب آپ یہ سفر مکمل کریں گے توآپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو کس طرح یاد رکھیں۔ یہ فیصلہ صرف آپ ہی کر سکتے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ اَپنی پیشہ ورانہ زندگی کی بنیاد قابلیت، دیانتداری اور سخت محنت پر رکھیں۔اُنہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو محض ان عہدوں کی وجہ سے یاد نہیں رکھا جاتا جو وہ سنبھالتے ہیںبلکہ لوگوں کی زندگیوں میں لائی جانے والی تبدیلیوں کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے ۔ اُنہوں نے اَفسران کو مشورہ دیا کہ وہ دیانتداری کو مقدم رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوامی خدمت کے دوران ان کا طرزِ عمل انہیں عزت و احترام دلائے۔وزیر اعلیٰ نے اَفسران کو یاد دِلایا کہ ہر سرکاری فائل، درخواست اور شکایت کے پیچھے کسی نہ کسی شخص کی کہانی ہوتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر شکایت یا فریاد جائز ہولیکن ہر شکایت کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔ اَفسران میں لوگوں کے مسائل کو سمجھنے کی حساسیت اور انہیں حل کرنے کے لئے کام کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔اُنہوں نے نئے تعینات اَفسران پر زور دیا کہ وہ ترقی اور تعیناتی سے آگے دیکھیں اور اس موقعہ اور ذمہ داری کو سمجھیں جو سول سروس کا حصہ بننے کے ساتھ انہیں حاصل ہوئی ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’تعیناتیوں اور ترقیوں کو ذہن میں نہ رکھیں۔ صرف یہ سوچیں کہ آپ کو وہ موقعہ ملا ہے جو بہت کم لوگوں کو ملتا ہے۔‘‘وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اَفسران سے یہ بھی کہا کہ وہ ان چیلنجوںکے لئے خود کو تیار کریں جن کا جموں و کشمیر کو آنے والی دہائیوں میں سامنا ہو سکتا ہے۔ ان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا، شہروں کو صاف ستھرا اور رہنے کے لئے زیادہ بہتر بنانا، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا اورآرٹیفیشل انٹلی جنس( اے آئی) جیسی اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کا مقابلہ کرنا شامل ہے۔اُنہوں نے کہا کہ گلے 10 سے 20 برسوں کے دوران طرزِ حکمرانی اور معاشرے کو درپیش چیلنجوں میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اُنہوں نے نوجوان اَفسران پر زور دیا کہ وہ حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت رکھیں، جدت پسند بنیں اور عوامی خدمت کے لئے پُرعزم رہیں۔عمر عبداللہ نے اَفسران کو یقین دِلایا کہ حکومت انہیں اَپنی ذِمہ داریاں مؤثر طریقے سے انجام دینے اور پیشہ ورانہ سفر میں درپیش مشکلات پر قابو پانے کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔اُنہوں نے کہا کہ انہیں اُمید ہے کہ اَفسران اَپنے والدین، اہل خانہ اور جموں و کشمیر کے عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔اُنہوں نے نئے تعینات افسران کے کامیاب کیریئر کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ ہمیشہ درست راستے کا انتخاب کریں، چاہے وہ راستہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔اُنہوں نے کہا ،‘‘درست فیصلہ کریں اور جموں و کشمیر کے لوگوںکی خدمت کریں۔‘‘