coaching centre

کوچنگ مراکز مروجہ حصول تعلیم اور مسابقطی امتحانات میں کامیابی کیلئے طلباء وطالبات کے داخلوں کا رواج عام

مراکز سے میں زیر تعلیم طلبہ کی لاپرواہی اورآورہ گردی ،والدین کی عزت اور دولت کے ساتھ کھلواڑ

سرینگر // وادی کشمیر میں مروجہ تعلیم کے حصول اور مسابقطی امتحانات میںکامیابی کے ساتھ امتیازی پوزیشین حاصل کرنے کیلئے والدین اپنی دھن ودولت کو دائو پر لگا کر اپنے بچوں کو کوچنگ مراکز میں داخلہ کراتے ہیں لیکن ان بچوں میں خاصی تعداد کوچنگ مراکز جانے کے بعد آوارہ گردگی کرنے میں مصروف عمل دکھائی دے رہے ہیں جس سے سماج کے ذی حس اور حساس افراد کافی فکر ہیں ۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ تفصیلات کے مطابق سرینگر اور قصبہ جات میں قائم مختلف کوچنگ مراکز میں زیر تعلیم وتربیت بچے اور بچیاں تعلیم کے نام پر اپنا قیمتی وقت آوارہ گردی میں صرف کرتے ہیں اورکوچنگ مراکز سے فارغ ہونے کے گھر جانے کے بجائے باغات ،پارکوں یا بازاروں میں مزید وقت گذارتے ہیں ۔عینی مشاہدے کے مطابق دی بنڈ اور لاک چوک میں مشہورویر پارک میں مختلف کوچنگ مراکز کے طلبہ وطالبات حسب معمول اپنی مستی میں رہتے ہیں اور کمسن بچے جو فن بلوغیت کی طرف گامزن ہیں منشیات کی لت میں مبتلا ہوچکے ہیں ۔اس دوران ایک جوش مند اور ہوش مند نوجوانوںکے پارک میں بیٹھے لڑکوں اور لڑکیوںکے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ان کا کہنا ہے کہ والدین آپ کو ایک امید کے ساتھ حصول تعلیم کیلئے کوچنگ مراکز روانہ کرتے ہیں لیکن افسوس یہ اپنے والدین کو دھوکہ میں یہاں موج مستی مناتے ہیں اور نشہ آور ادویات ومنشیات کا استعمال کرتے ہیں ۔اس سلسلے میں نوجوانوں نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والدین خون پسینہ ایک کرکے ان کے تعلیمی اخراجات پورا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں اور وہ یہ امید رکھتے ہیں کہ بچے ان کے پیسوں اور ان کی تمنائوں ونیک خواہشات کی قدر کرتے ہوئے اپنے کام سے کام رکھیں گے ۔لیکن یہ بچے کوچنگ مراکز سے فارغ ہونے کے بعد پارکوں اور باغات وبازاروں مستی کرتے رہتے ہیں اور نشہ آور چیزوں کو استعمال کرکے اپنے مستقبل وزندگی کو دائو لگاتے ہیں جس سے وہ اپنے والدین کو دھوکہ دیتے ہیں اور اس طریقہ کار سے سماج میں بے راہ روی بڑھتی جارہی ہے ۔انہوں نے انتظامیہ ،پولیس،کوچنگ مراکز کے منتظمین ،والدین اور سماج کے باغیر ت افرادسے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حوالے سے سنجیدہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی لگام کس لیں اور کوچنگ مراکز و گھروں میں ان کے آنے جانے کی نوٹس لی جائے اور جوابدہ بنایا جائے اور گھر وکوچنگ سنٹروں سے باہر ان کی وقت گذاری کے حوالے سے پابند ی عائد کی جائے تاکہ والدین کی امیدوں پر پانی نہ پھیر جائے اور سماج میں پنپ رہی بے راہ روی کا خاتمہ ہوجائے۔