نظامت فاصلاتی تعلیم جامعہ کشمیر کے اشتراک سے’’قومی غالب سمینار‘‘ اختتام پذیر
سرینگر / /۲۰ اور ۲۱ مارچ کو کشمیر یونیورسٹی میں جاری دو روزہ قومی سمینار آج اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔غالب انسٹی ٹیوٹ ، نئی دہلی ، کے زیر اہتمام ، وزارتِ ثقافت ، حکومت ہند کے تعاون اور نظامت فاصلاتی تعلیم جامعہ کشمیر کے اشتراک سے دو روزہ قومی غالب سمینار بعنوانـ’’غالب اور جشنِ زندگی‘‘کا افتتاح کشمیر یونیورسٹی کے معروف گاندھی بھون آڈٹورئم میں ہوا تھا۔ افتتاحی اجلاس میں پروفیسر فاروق احمد مسعودی (ڈین، علمی اموراتِ ،جامعہ کشمیر)،پروفیسر محمد زماں آزردہ(معروف اردو ادیب اور استاد)،پروفیسر طارق احمد چشتی(ناظم، نظامت فاصلاتی تعلیم ، جامعہ کشمیر)،ڈاکٹر ادریس احمد(ناظم ، غالب انسٹی ٹیوٹ ، نئی دہلی) کے علاوہ یونیورسٹی اور بیرون یونیورسٹی کے معروف اساتذہ ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔پروفیسر طارق احمد چشتی نے سب سے پہلے اپنا خطبہ استقبالیہ پیش کرکے تمام مہمانان اور دوسرے شرکاء کا استقبال کیا۔ استقبالیہ کے بعد نظامت فاصلاتی تعلیم ،جامعہ کشمیر سے شائع ہونے والے(یو۔جی ۔سی ۔کیر لسٹ میں شامل) سالانہ تحقیقی و تنقیدی مجلے ’’ترسیل‘‘ اور شعبۂ تعلیم و تربیت ، نظامت فاصلاتی تعلیم ، جامعہ کشمیر سے شائع ہونے والے سالانہ تحقیقی و تنقیدی مجلے ’’کومنیکیشن‘‘کی رسم رونمائی انجام دی گئی ۔پروفیسر محمد زماں آزردہ نے کلیدی خطبہ پیش کیا اور اپنے عالمانہ خیالات سے سامعین کو محظوظ کیا۔اس افتتاحی نشست کی صدارت کے فرائض پروفیسر فاروق احمد مسعودی نے انجام دئیے۔ پروفیسر موصوف نے اپنے صدارتی خطبے میں اس سمینار کی اہمیت اور ضرورت سے متعلق اپنے زریں خیالات کا اظہار کیا اور منتظمین سمینار کو مبارک باد پیش کی ۔ آخر میں ڈاکٹر ادریس احمد نے غالب انسٹی ٹیوٹ اور نظامت فاصلاتی تعلیم ، کشمیر یونیورسٹی کی طرف سے تمام مقتدر شخصیات ، اساتذہ ، ریسرچ اسکالرز ، طلبہ و طالبات اور دوسرے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔ واضح رہے کہ اس ابتدائی نشست کی نظامت ڈاکٹر الطاف انجم نے انجام دی تھی۔ مذکورہ سمینار کی افتتاحی نشست کے اختتام کے فوراً بعد مشاعرے کا اہتمام عمل میں لایا گیاتھا ۔ اس مشاعرے میں ریاست سے تعلق رہنے والے صفِ اول کے شعرا کے ساتھ ساتھ کئی ایک نو آموز شعرا نے بھی شرکت کرکے سامعین کو اپنے تازہ کلام سے بہرہ مند فرمایا۔شرکت کرنے والے شعرا میں کچھ نام یوں ہیں۔ سلطان الحق شہیدی ، رخسانہ جبین، پروفیسر شفیقہ پروین، ڈاکٹر شبنم عشائی ، پرویز مانوس ،عادل اشرف ، ڈاکٹر راشد عزیز وغیرہ۔اس مشاعرے کی نظامت معروف شاعرہ ڈاکٹر نکہت نظر نے انجام دی جبکہ وادی کے اردو ادب کے مقبول شاعر سلطان الحق شہیدی نے صدارت کے فرائض انجام دیئے۔ سمینار کے پہلے دن کا اختتام پر مجلس شامِ غزل سے ہوا۔شامِ غزل کی اس مجلس میں وادی کے معروف گلوکار کفایت فہیم نے مرزا اسداللہ غالب کی متعدد غزلیں اپنے منفرد انداز میں گا کر حاضرین و ناظرین مسرور کردیا ۔ یوں اس سمینار کے پہلے دن کی تمام کاروائیاں بخوبی اپنے اختتام کو پہنچ گئیں۔کشمیر پریس سروس کے تفصیلات کے مطابق مورخہ ۲۱ مارچ ۲۰۲۳ء بہ روز منگل کو غالب انسٹی ٹیوٹ ، نئی دہلی ، کے زیر اہتمام ، وزارتِ ثقافت ، حکومت ہند کے تعاون اور نظامت فاصلاتی تعلیم جامعہ کشمیر کے اشتراک سے دو روزہ قومی سمینار بعنوانـ’’غالب اور جشنِ زندگی‘‘کاپہلا تکنیکی اجلاس نظامت فاصلاتی تعلیم کے سمینار ہال میں ہوا ۔ اس ابتدائی نشست کی صدارت ڈاکٹر الطاف انجم نے کی ۔ڈاکٹر الطاف انجم کے علاوہ ایوان صدارت میں ڈاکٹر ادریس احمداور پروفیسر طارق احمد چستی بھی شامل رہے۔پہلے اجلاس میں کل پانچ تحقیقی مقالے پیش کیے گئے جن میں’’غالبؔ اور اقبالؔ کا شعور حیات ‘‘اشتراک و افتراق(ڈاکٹر محمد یونس ٹھوکر)،غالبؔاور میرؔکا تصور غم(ڈاکٹرمحمد اقبال افروز)،غالبؔکا معشوق:انفرادیت اور مماثلت(ڈاکٹر نصرت جبین)،غالبؔکا فلسفہ حیات،خدا،کائنات اورانسان کے حوالے سے(ڈاکٹر کوثر رسول )،غالبؔکا وتیرہ زندگی (ڈاکٹر محی الدین زور)ان منتخب موضوعات پروادی کے ان ۔مقالات کی قرأت کے اختتام پر صدر نشست نے اپنے زریں تاثرات سے سامعین کو نوازا اور مقالہ نگاروں کو مبارک بادی بھی پیش کی۔اس ابتدائی نشست کی نظامت ڈاکٹر جاوید احمد نجار نے انجام دی۔اس سمینار کی دوسری تکنیکی نشست میں پروفیسر نذیر احمد ملک بحیثیت صدر ایوان صدارت میں موجود رہے ۔ اس نشست میں ڈاکٹر توصیف احمد نے ’’غالب اور غمِ روز گار‘‘، ڈاکٹر مسرت گیلانی نے ’’غالب اور غم روز گار‘‘، ڈاکٹر امتیاز احمد تانترے نے ’’ٍغالب: اظہارِ زات میں تجرید کی تجسیم‘‘ اور ڈاکٹر محمد یوسف وانی ’’غالب کی شاعری میں رقیب:تصور، استعمال اور تعلق‘‘کے عناوین سے اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے ۔ اختتامِ نشست پر پہلے ڈاکٹر شفیع سنبلی نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور بالکل آخر پر پروفیسر نذیر احمد ملک نے اپنا صدارتی خطاب پیش کیا جس میں آپ میں غالب کی حیات و شخصیت کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی اور ساتھ ہی ساتھ مقالہ نگاروں کی بھی حوصلہ افزائی فرمائی ۔ ظہرانے کے بعد سمینار کی تیسری تکنیکی نشست کا آغاز پروفیسر شفیقہ پروین کی زیرِ صدارت ہوا۔اس تیسری نشست میں جناب سہیل سالم ، محترمہ مصروفہ قادر اور داکٹر ریاض احمد کمار نے غالب اور جشن زندگی کے موضوع کی مناسبت سے اپنے مقالات پیش کیے ۔مقالات کی پیشکش کے اختتام پر پروفیسر شفیقہ پروین نے اپنا صدارتی خطبہ پیش کیا ۔ پروفیسر موصوفہ نے غالب کی زندگی کے کئی رنگارنگ پہلوؤں کا مختصراً جائزہ پیش کیا نیز مقالہ نگاروں کی کوششوں کو بھی سراہا۔سمینار کی چوتھی اور آخری تکنیکی نشست میں بھی دو تحقیقی مقالات سامعین کی نذر کیے گئے ۔ ڈاکٹر اسما بدرنے ’’غالب کی آشفتہ بیانی :چند بنیادی پہلو‘‘ اور ڈاکٹر الطاف انجم نے’’ ہوا ہے شہ کا مصاحب(کلام غالب کا نو تاریخی جائزہ)‘‘جیسے موضوعات سے متعلق اپنے مقالات پیش کیے۔اس آخری نشست کی صدارت معروف اردو استاد ، مدیر حمد و نعت اور الحیات پروفیسر جوہرقدوسی نے انجام دی ۔قدوسی صاحب نے اپنے صدارتی کلمات میں موضوعِ سمینارکی اہمیت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقالہ نگاروں اور منتظمین سمینار کومبارک بادی پیش کی اور آئندہ اس نوعیت کے دوسرے سمیناروں کو منعقد کرنے کی بھی تلقین کی ۔دوسرے روز کے آخر میں مقالہ نگاروں اور شرکاء میں اسناد کی تقسیم بندی انجام پائی ۔غالب انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ڈاکٹر محضر رضانے تمام سامعین و ناظرین کی خدمت میں شکرانہ ادا کیا ۔ یوں اس دو روزہ قومی سمینار کا اختتام نہایت کی کامیابی سے ہوا۔










