طلبہ اور یونیورسٹی عملہ کو شدید پریشانیوں کا سامنا ، اعلیٰ حکام سے اپیل
سرینگر//کشمیر یونیورسٹی ساوتھ کمپس ضلع اننت ناگ ٹاون سے پانچ کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے تاہم یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ اور سٹاف کو ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اکثر طلبہ اور عملہ پیدل چلنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ طلبہ نے کہاکہ انہیں کشمیر یونیورسٹی سرینگر جانا ہی آسان لگتا ہے کیوں کہ اس کمپس میں ٹرانسپورٹ کی سہولیت موجود نہیں ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق کشمیر یونیورسٹی سائوتھ کمپس اننت ناگ ہائی گراونڈ علاقہ میں واقع ہے جہاں پر ایک تو یونیورسٹی کمپس موجود ہے اور دوسرا یہاں فوجی کیمپ قائم ہے جس کے باعث اس علاقہ کی طرف پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی ہے ۔ کمپس کیلئے اننت ناگ بس اڈہ سے صبح کے اوقات دو ٹا ٹا گاڑیاں روانہ ہوتی ہیں لیکن یونیورسٹی کمپس میں طلبہ اور عملہ سمیت ایک ہزار افراد روزانہ آتے جاتے ہیں اور گاڑیاں ان کیلئے ٹرانسپورٹ کی دستیابی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ کئی طلبہ نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اکثر طلبہ کو روزانہ پانچ کلو میٹر جانے اور پانچ کلو میٹر واپس آنے کیلئے پیدل چلنا پڑتا ہے اور پورا دن اسی چکر میں کٹ جاتا ہے کیوں کی دو گاڑیوں میں چالیس سے زائد افراد یونیورسٹی وقت پر نہیں پہنچ پاتے ۔ انہوںنے بتایا کہ طلبہ نے کمپس سے داخلہ واپس لیکر کشمیر یونیورسٹی سرینگر میں ہی داخلہ لیا ہے کیوں کہ سرینگر پہنچنے میں انہیں کم وقت لگتا ہے ۔ اس بیچ طلبہ نے متعلقہ حکام خاص کر ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ کمپس کیلئے ٹرانسپورٹ معقول ٹرانسپورٹ کی سہولیت دستیاب رکھیں تاکہ طلبہ کو راحت ملے ۔










