کشمیر کی پہلی کراؤڈ فنڈڈ یونیورسٹی قائم کی جائے گی

کشمیر کی پہلی کراؤڈ فنڈڈ یونیورسٹی قائم کی جائے گی

یونیورسٹی مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور چوتھے صنعتی انقلاب کی ٹیکنالوجیز میں جدید ترین تعلیم فراہم کرے گی/بورڈ ممبران

سرینگر //جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیم کو معیاری اورآسان بنانے کے ایک تاریخی اقدام کے طور پرکشمیر کی پہلی کراؤڈ فنڈڈ یونیورسٹی کے قیام کے لیے ایک بصیرت انگیز اقدام کا باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا ہے۔ “یونیورسٹی آف وتھ ہاربر” کا نام دیا گیا۔جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے ایک یونیورسٹی ہوگی، جو اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ ہے جو مکمل طور پر عوامی حمایت، عطیات اور اجتماعی کوششوں پر بنایا جارہا ہے۔ یونیورسٹی مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور چوتھے صنعتی انقلاب کی ٹیکنالوجیز میں جدید ترین تعلیم فراہم کرے گی، جو کشمیر کے نوجوانوں کو مسابقتی عالمی جاب مارکیٹ کے لیے ہنر سے آراستہ کرے گی۔کشمیر پریس سروس تفصیلات کے مطابق منگل کے روز سری نگر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران پروجیکٹ لیڈروں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کوئی منافع بخش منصوبہ نہیں ہے۔ روایتی و نجی یونیورسٹیوں کے برعکس، The University of WathHarbor کے انفرادی مالکان نہیں ہوں گے لیکن یہ ایک کمیونٹی سے چلنے والا ادارہ ہوگا، جو تعلیم، تحقیق اور سماجی ترقی پر مرکوز ہوگا۔پریس کانفرنس میں ٹرسٹیز نے اس یونیورسٹی کی ضرورت کیوں ہے؟ کے سوال کو دہراتے ہوئے کہا کہ فی الحال، جموں و کشمیر کی 11 سرکاری یونیورسٹیوں میں 150,000 طلبہ داخلہ لے رہے ہیں لیکن اعلیٰ تعلیم میں نجی شعبے کی شمولیت کا فقدان ہے۔ ہر سال ہزاروں طلبہ جموں و کشمیر چھوڑ کر کہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس یونیورسٹی کا مقصد خطے میں عالمی معیار کی تعلیم کی پیشکش کرنا ہے۔انہوں نے حکومت سے تعاون کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے پروجیکٹ کے بانیوں نے جموں و کشمیر حکومت سے درخواست کی ہے کہ گجرات اور اتر پردیش کی پالیسیوں کے مطابق، معمولی فیس پر 99 سال کے لیز پر 25 ایکڑ زمین مختص کریں۔اس طرح کے اداروں کو قانونی حمایت فراہم کرنے کے لیے جموں و کشمیر میں پرائیویٹ یونیورسٹی ایکٹ پاس کریں۔اس دوران ٹرسٹ کے ممبران نے یونیورسٹی قیام کے حوالے سے عوام کی شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کو عطیات، CSR تعاون اور کمیونٹی سپورٹ کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی جائے۔ٹرسٹ کے بانیوں نے کاروباریوں، پیشہ ور افراد اور کشمیری باشندوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس تاریخی اقدام میں اپنا حصہ ڈالیں۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف تعلیم کے بارے میں نہیں ہے؛ یہ خود انحصاری، بااختیار بنانے اور کشمیر کے مستقبل کی تشکیل کے بارے میں ہے۔ ہم سب کو اس تحریک کا حصہ بننے کی دعوت دیتے ہیں،” اس اقدام کے بانی ڈاکٹر محبوب مخدومی نے کہاکہ مضبوط عوامی شرکت اور حکومتی تعاون کے ساتھ،’’ یونیورسٹی آف وتھ ہاربر‘‘ کا مقصد تحقیق، اختراعات، اور مہارت کی نشوونما کا عالمی مرکز بنناہے۔پریس کانفرنس میں موجود صف اول کے بورڈ ممبران تھے جن میں ڈاکٹر محبوب مخدومی (بانی و چیئرمین ٹرسٹ)،ڈاکٹر مشتاق مرغوب، ٹرسٹی (سابق پروفیسر اور ہیڈ آف پی جی ڈیپارٹمنٹ آف سائیکاٹری، جی ایم سی)،سید ہمایوں قیصر، ٹرسٹی، ترجمان (سابق ڈائریکٹر، ریڈیو کشمیر)،ظریف احمد ظریف (شاعر اور سماجی کارکن)،سید پرویز قلندر، کنسلٹنٹ (چارٹرڈ انجینئر)،لطیف الزمان دیوا (ریٹائرڈ آئی اے ایس اور جے کے پی ایس سی کے سابق چیئرپرسن)،خیر النساء شیخ پرنسپل ایڈوائزر برائے چیئرمین (ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، ورلڈ ٹریڈ سینٹر، انڈیا)،مشتاق علی احمد خان، میڈیا کوآرڈی نیٹر (ٹی وی پروڈیوسر اور فلم ساز)،ریاض احمد شوگہ، اکاؤنٹس آفیسر (سابق بینکر اور ایک سماجی کارکن)،جی این وار (صدر پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن جے کے)،فہیم عبداللہ، (فنکار)قابل ذکر ہیں جبکہ پریس کانفرنس میں موجود رضاکار بشمول ڈاکٹر اقبال ملک،مومن اقبال ،فرح زیدی ،مہوش مسرت ،ملک ابرار ،عابد احمد میرشامل تھے