سکیم کے فوائد محض چند مخصوص اضلاع تک محدود نہ رکھے جائیں / صنعتکار
سرینگر//ٹی ای این // کشمیر میں صنعتی ترقی سے متعلق زمینی حقائق اور پالیسی نفاذ کے مسائل اْس وقت نمایاں طور پر سامنے آئے جب محکمہ برائے فروغ صنعت و داخلی تجارت (DPIIT) کے زیر اہتمام ایک اہم ورکشاپ منعقد ہوا۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی قیادت ڈائریکٹر راجیش پوار نے کی، جبکہ نشست کی نظامت ڈائریکٹر انڈسٹریز اینڈ کامرس خالد مجید نے انجام دی۔ اس موقع پر مختلف تجارتی تنظیموں اور صنعتکاروں نے نیو سنٹرل سیکٹر اسکیم (NCSS) 2021 اور انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اسکیم (IDS) 2017 کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں اور چیلنجز کو کھل کر اجاگر کیا۔فیڈریشن آف چیمبرز آف انڈسٹریز کشمیر (FCIK) نے NCSS کے تحت صنعتی ترقی میں عدم توازن پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسکیم کے فوائد چند مخصوص اضلاع اور بڑی صنعتوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جس سے خطے میں مساوی ترقی کا مقصد متاثر ہو رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق 28,400 کروڑ روپے کے کل بجٹ میں سے تقریباً 20 ہزار کروڑ روپے صرف 18 بڑی یونٹس کو ملنے کا امکان ہے، جو چھوٹے اور درمیانی درجے کے صنعتکاروں کے لیے نقصان دہ ہے۔ FCIK نے موجودہ صنعتی یونٹس کو نظر انداز کرنے پر بھی سوال اٹھایا اور ان کے لیے خصوصی پیکیج اور 5 سے 10 ہزار کروڑ روپے کے برج فنڈ کی تجویز پیش کی۔کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) نے بھی اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ NCSS کے تحت رجسٹریشن ونڈو کی اچانک بندش سے کئی مقامی صنعتکار متاثر ہوئے ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ اس ونڈو کو دوبارہ کھولا جائے اور مقامی کاروباری افراد کے لیے کم از کم 25 فیصد حصہ مخصوص کیا جائے۔ KCCI نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کشمیر کی جغرافیائی پوزیشن کے باعث یہاں کاروباری لاگت زیادہ ہے، جسے پالیسی سازی میں مدنظر رکھنا ضروری ہے۔پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس (PHDCCI) کشمیر نے ماحولیاتی منظوریوں اور دیگر سرکاری کلیئرنس کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیچیدہ طریقہ کار سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کا سبب بن رہا ہے۔ تنظیم نے کشمیر کے لیے الگ اور مخصوص صنعتی پالیسی مرتب کرنے پر زور دیا تاکہ خطے کی جغرافیائی اور ماحولیاتی خصوصیات کو مدنظر رکھا جا سکے۔کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (CII) جموں و کشمیر نے کاروبار میں آسانی (Ease of Doing Business) کو بہتر بنانے اور سنگل ونڈو سسٹم کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین اقرم علی شفیع نے کہا کہ مختلف محکموں سے منظوری میں تاخیر صنعتی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے چھوٹے اور بڑے صنعتکاروں کے لیے الگ الگ مراعاتی ڈھانچے کی تجویز بھی پیش کی۔اجلاس کے اختتام پر حکام نے یقین دہانی کرائی کہ صنعتکاروں کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ بہتر ہم آہنگی اور پالیسی میں اصلاحات کے ذریعے کشمیر میں صنعتی ترقی کو نئی رفتار ملے گی اور کاروباری ماحول مزید سازگار بنے گا۔










