Protest

کشمیر میں تعینات صوبہ جموں کے8000سے زیادہ سرکاری ملازمین میں عدم تحفظ کی لہر

پریس کلب سے سیول سیکرٹریٹ جموں تک احتجاجی مارچ کی کوشش

جموں//محض تین دنوںمیں ضلع کولگام میں ایک خاتون اْستانی اور راجستھان کے بینک منیجر کی ہلاکت کے خلاف جموں وکشمیر میں جمعرات کے روز ملازمین نے زبردست احتجاجی مظاہرئے کئے۔جے کے این ایس کے مطابق جموں شہر میں ملازمین کی ایک بڑی تعداد نے جمعرات کی صبح احتجاجی جلوس نکالا اور سیول سیکریٹریٹ کی طرف پیش قدمی کی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اْٹھا رکھے تھے جن میں اْنہیں جموں ٹرانسفر کرنے کے الفاظ درج تھے۔انہوںنے پریس کلب سے امبیڈکر چوک تک مارچ کیا ۔ نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران مظاہرین نے بتایا کہ ہمیں فوری طورپر جموں ٹرانسفر کیا جائے کیونکہ کشمیر میں حالات دن بدن بگڑتے جارہے ہیں اور پچھلے 48 گھنٹوں کے دوران2ہندئوملازمین کا قتل کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں اب اْن کا رہنا خطرے سے خالی نہیں کیونکہ آئے دن شہری ہلاکتوں کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور سرکار کی جانب سے سیکورٹی فراہم کرنے کے باوجود بھی ملی ٹینٹ دفاتر میں گھس کر ہندئوملازمین کا قتل کر رہے ہیں۔جموں میں مقیم مختلف زمروں کے تحت آنے والے ملازمین کی ایسوسی ایشن کے بینر تلے جمع ہوئے، مظاہرین نے کہا کہ وہ اپنے فرائض دوبارہ شروع نہیں کریں گے کیونکہ حکومت ٹارگٹ کلنگ کو روکنے اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔احتجاجی مظاہرے کرنے والے لیڈروںنے بتایاکہ صوبہ جموں کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے تقریباً 8000 ملازمین بین الاضلاع منتقلی کی پالیسی کے تحت کشمیر میں کام کر رہے ہیں اور ہم موجودہ ماحول میں واپسی اور اپنے فرائض دوبارہ شروع کرنے والے نہیں ہیں۔ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں تعینات ایک استاد رمیش چند نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم وہاں پچھلے15 سالوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن ٹارگٹ کلنگ میں اضافے کے پیش نظر خود کو غیر محفوظ اور تناؤ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے جمعرات کو کولگام ضلع میں راجستھان کے بینک منیجر وجے کمار کی تازہ ترین ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہم سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے مایوس ہیں کیونکہ وہاں کوئی بھی مسلمان، ہندئو اور سکھ محفوظ نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص کسی بھی وقت دہشت گردوں کا نشانہ بن سکتا ہے۔شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں تعینات ایک ٹیچر انجانا بالا نے کہاکہ ہمیں سرکاری رہائش یا ترقی کی ضرورت نہیں ہے، ہم صرف وادی سے اپنا تبادلہ چاہتے ہیں کیونکہ ہر ملازم کو سیکورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ وادی میں کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے اور ہم وادی کے اندر نقل مکانی کی حکومتی تجویز کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔تاہم ٹیچر انجانا بالا نے کہاکہ انہیں کبھی بھی مقامی لوگوں کی طرف سے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا جنہوں نے ہمیشہ ان کی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اگست2019 میں دہائیوں پرانی آرٹیکل 370 کو ختم کر سکتی ہے تو انہیں ٹرانسفر پالیسی میں معمولی تبدیلیاں کرنے اور انہیں اپنے آبائی اضلاع میں منتقل کرنے سے کیا چیز روکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے کشمیر کے لوگوں کی حمایت نہیں کی جو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف تھے۔ وہ درست تھے اور آج ہمیں اپنے فیصلے پر افسوس ہے کیونکہ زمین پر کچھ نہیں بدلا سوائے اس کے کہ ہم نے خصوصی حیثیت کھو دی ہے۔ایک اور ٹیچر نے کہا کہ وہ وہاں اپنی روزی روٹی کمانے کیلئے گئے ہیں نہ کہ وہاں بسنے کے لئے۔انہوںنے کہاکہ حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ ہمیں محفوظ مقامات پر منتقل کریں گے لیکن اس کے بعد بھی اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو ذمہ دار کون ہوگا۔ آج ایک بینک مینیجر کو اس کے محفوظ دفتر کے اندر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جب کہ حال ہی میں ایک کشمیری پنڈت ملازم کو اس کے دفتر کے چیمبر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وہ انتظامیہ پر سے اعتماد کھو چکے ہیں اور قربانی کا بکرا بننے کے لیے وادی میں واپس نہیں آئیں گے۔معلوم ہوا کہ ملازمین جوں ہی سیول سیکریٹریٹ جموں کے نزدیک پہنچے تو وہاں پر پہلے سے تعینات سیکورٹی فورسز نے اْنہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد انہوں نے شاہراہ پر ہی دھرنا دیا اور انتظامیہ کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔دریں اثنا وادی کشمیر کے بڈگام ، سری نگر اور بارہ مولہ میں کشمیر ی پنڈت کالونیوں میں ملازمین کا احتجاجی دھرنا جاری ہے اور وہ سرکار سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اْنہیں فوری طورپر جموں منتقل کیا جائے۔