گزشتہ 3برسوںمیں4844ڈھانچے شعلوںکی نذر
اربوں روپے مالیت کی املاک تباہ وبرباد،174افرا دلقمہ اجل،درجنوں زخمی
سری نگر//آتشزدگی کے واقعات اب روز کامعمول بن چکے ہیں ،کیونکہ کشمیر کے کسی نہ کسی علاقے میں آئے دنوں کوئی مکان ،دکان ،کمپلیکس ،گائوخانہ یاپھربجلی ٹرانسفارمر شعلوںکی نذر ہوکر راکھ بن جاتاہے ۔کشمیر وادی میںسال2020کے مقابلے میں سال2021میں آتشزدگی کے279زیادہ واقعات رونما ہوئے جبکہ سال2019کے مقابلے میں 2021میں 450کے لگ بھگ زیادہ واقعات پیش آئے ۔جہاں تک ایسے حادثات اورواقعات کے دوران ہونے والی اموات کاتعلق ہے توسال2019میں45افرادازجان اور8دیگرزخمی ہوگئے ،سال2020میں64افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ سال2021میں65افراد زاجان اور21دیگرزخمی ہوگئے ۔گزشتہ تین برسوں کے دوران 4844ڈھانچے شعلوںکی لپیٹ میں آکر تباہ ہوگئے ۔جے کے این ایس کودستیاب اعدادوشمارکے مطابق سال 2021میں وادی کشمیر میں آتشزدگی کے الگ الگ واقعات میں65 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ21 زخمی ہوئے۔محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کشمیر کی طرف سے سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق وادی میں 1857 ڈھانچے جل گئے جن میں 1483 رہائشی مکانات، 304 دکانیں، 55 گاڑیاں اور 50 تجارتی ادارے شامل ہیں۔ مزید برآں، 103 بجلی ٹرانسفارمرز، 6 جنگلوں اور 6 نرسریوںمیں آگ لگنے کی بھی اطلاع ملی۔محکمانہ اعداد و شمار کے مطابق سال2021میںسری نگر ضلع میں کشمیر کے کسی بھی دوسرے ضلع کے مقابلے میں آگ لگنے کے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، حادثات میں 311 ڈھانچے، 58 دکانیں، 15 کمپلیکس، 18 گاڑیاں اور28 بجلی ٹرانسفارمرز کو نقصان پہنچا۔5 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، اور 12 دیگر زخمی ہوئے۔شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں سال2021میں آگ لگنے کے دوسرے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس ضلع میں235 تعمیرات، 101 دکانیں اور8 گاڑیاں جل گئیںجبکہ بجلی کے 10ٹرانسفارمروںکو بھی نقصان پہنچا۔سرحدی ضلع کپوارہ میں سال2021میں3 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔233 ڈھانچے، 64 دکانیں، 4 گاڑیاں، 20بجلی ٹرانسفارمر جل کر خاکستر ہو گئے، اور ایک جنگل میں آگ لگ گئی۔اعداد و شمار کے مطابق جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں سال2021میں آتشزدگی کی وارداتوںکے دوران24 اموات ہوئی ہیں، جو کسی بھی ضلع میں سب سے زیادہ ہیں۔ پلوامہ ضلع میں 150 تعمیرات، 17 دکانیں، 6 کمپلیکس، 9 گاڑیاں اور 6 بجلی ٹرانسفارمروںکو نقصان پہنچا ۔ دستیاب اعداد و شمارکے مطابق کشمیروادی میں سال 2019 میں45 افرادآتشزدگی کے واقعات میں جان کی بازی ہار گئے اور 8افراد زخمی ہوئے۔ سال2019میں کشمیروادی میں 1409 ڈھانچوں، 72 گاڑیوں اور 46 شاپنگ کمپلیکس کو بھی نقصان پہنچا جب کہ 91بجلی ٹرانسفارمرز کو بھی آگ لگنے سے نقصان پہنچا۔سال2020میں کشمیر کے مختلف اضلاع میں آتشزدگی کے واقعات میں 64 افراد ہلاک ہوئے جبکہ آگ کے واقعات میں 1578 ڈھانچوں، 39 شاپنگ کمپلیکس اور 73 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔بانڈی پورہ اور بڈگام اضلاع میں آتشزدگی سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔ ان اضلاع میں89 اور 84 ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ہے۔اسی طرح شوپیاں میں آتشزدگی کے واقعات سے متعلق 17 اموات کی اطلاع ہے،اورا س ضلع میں74 ڈھانچے، 6 گاڑیوں اور8 شاپنگ کمپلیکس کو بھی نقصان پہنچایا۔ گاندربل ضلع میں 68 ڈھانچوں، 5 دکانوں، اور 7گاڑیوں کو نقصان پہنچنے اور ایک کی موت کی اطلاع ہے۔ کولگام ضلع میں 9 لوگوں کے نقصان کی اطلاع ہے اور 84 ڈھانچوں، 11 دکانوں اور 2 کمپلیکس کو بھی نقصان پہنچا ہے۔محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کشمیرکے حکام کامانناہے کہ موسم سرما کے مہینوں میں آگ لگنے کے سب سے زیادہ واقعات لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے رپورٹ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کے 90 فیصد واقعات بجلی شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوتے ہیں۔حکام کہتے ہیں کہ لوگ غیر قانونی طور پر بجلی کے تار کو ہک کر رہے ہیں، جو گرم ہو رہی ہے اور آگ کے حادثات کا باعث بن رہی ہے۔ اس کے علاوہ، وہ آگ بجھانے میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔متعلقہ حکام کامزید کہناہے کہ کشمیر میں لوگ اپنے ہیٹنگ آلات کو بغیر توجہ کے چھوڑ رہے ہیں، جو اکثر آتشزدگی کے واقعات کا سبب بنتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آتشزدگی کے واقعات سے بچنے کے لیے لوگ رات کے اوقات میں گرمی دینے والے آلات کے استعمال سے گریز کریں۔










