گزشتہ 36گھنٹوں کے دوران تین ملازمین اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے
سرینگر//وادی کشمیر میں بجلی ملازمین کی دوران ڈیوٹی بجلی کرنٹ لگنے سے اموات کا سلسلہ جاری رہنے کے بیچ 36گھنٹوں میں تین ملازمین کی جان چلی گئی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق محکمہ بجلی میں گزشتہ3دنوں سے موت رقص کر رہی ہے جبکہ تیسرے دن لگاتار محکمہ کا ایک ملازم بجلی کرنٹ لگنے کے نتیجے میں جان بحق ہوا۔ معلوم ہوا ہے ہ سب ڈویڑن چاڈورہ سے وابستہ منظور احمد جمعرات کو دوران ڈیوٹی کرالہ پورہ میں بجلی کھبے پر ترسیلی لائن کو ٹھیک کر رہا تھا،جس دوران الیکٹرک کرنٹ لگ کر گرنے کی وجہ سے وہ جاں بحق ہوا۔مرحوم کی شناخت منطور احمد ساکن چک پورہ کنہ ہامہ چاڈورہ کے بطور ہوئی ہیں۔ منظور کی نعش جب گھر پنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا اور ہر سو علاقہ ماتم کدے میں تبدیل ہوا۔بتایا جاتا ہے کہ بعد میں انہیں علاقے سے پوسٹ مارٹم کیلئے واپس اسپتال پنچایا گیا۔مقامی لوگوں کے مطابق منظور احمد کافی عرصے سے محکمہ بجلی میں بطور ڈیلی ویجر کام کر رہے تھے جبکہ حال ہی میں وہ مستقل ہوئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ مرحوم کے چھوٹے بچے اور معذور والد ہیں،جن کے منظور واحد کفیل تھے۔اس دوران الیکٹریکل ایمپلائز یونین کے ترجمان فاروق احمد متو نے منطور احمد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ3دنوں میں یہ تیسرا حادثہ ہے ،جس میں محکمہ بجلی کے ملازم کی جان گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے بجلی ملازمین حفاظتی ساز و سامان اور ایسے مشکلات سے نپٹنے کی تربیت کا مطالبہ کر رہے ہیں تاہم افسراں بالا کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔انہوں نے کہا کہ بجلی ملازمین کو قربانی کے بکرے بنایا جاتا ہے،اور بعد از مرگ ان کے کنبوں کو سر راہ چھوڑا جاتا ہے۔انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ بجلی ملازمین کو بھی انسان تصور کریں اور انسانیت کے نام پر بجلی ملازمین کے موت کے رقص کا تدارک کیلئے ٹھوس پالسیاں مرتب کریں۔اس دوران انہوں نے معطل شدہ بجلی ملازمین کو بحال کرنے پر انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دیگر مطالبات کو بھی پورا کرنے پر زور دیا۔










