tariq hameed karra

کانگریس کا ریاستی حیثیت بحالی تک حکومت میں شامل ہونے سے انکار

جموں کشمیر کو سٹیٹ ہڈ کی بحالی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ طارق حمید قرہ

سرینگر//جموں و کشمیر کانگریس کے سربراہ طارق حمید قرہ نے اعلان کیا کہ کانگریس اس وقت حکومت کا حصہ نہیں بنے گی جب تک ریاستی حیثیت بحال نہیں کی جاتی۔جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے سربراہ طارق حمید قرہ نے بدھ کے روز کہا کہ کانگریس پارٹی نے مرکز سے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے، اس کے علاوہ وزیر اعظم نے بار بار عوامی میٹنگوں میں بھی یہی وعدہ کیا ہے۔لیکن ریاست جموں و کشمیر کو بحال نہیں کیا گیا ہے۔ لہذا ہم اس وقت وزارت میں شامل نہیں ہو رہے ہیں، جے کے پی سی سی چیف نے مزید کہا اور کہا کہ کانگریس پارٹی ریاست کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر کے نئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) سری نگر میں ایک پروقار تقریب کے دوران حلف اٹھا لیا ہے۔ انتخابات میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد نے اکثریت حاصل کی تھی، تاہم جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) نے مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی نہ ہونے پر وزارت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔کشمیر کانگریس کے سربراہ طارق حمید قرہ نے اعلان کیا کہ کانگریس اس وقت حکومت کا حصہ نہیں بنے گی جب تک ریاستی حیثیت بحال نہیں کی جاتی۔ قرہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے عوامی جلسوں میں کئی بار ریاستی حیثیت کی بحالی کا وعدہ کیا تھا، لیکن ابھی تک یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا ہے، جس پر کانگریس ناراض ہے۔ اسی ناراضگی کی وجہ سے کانگریس نے حکومت میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔یاد رہے کہ حلف برداری کی تقریب میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت دیگر اعلیٰ لیڈران نے شرکت کی، لیکن انہوں نے کشمیر کانگریس کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے وزارت میں شامل ہونے سے گریز کیا۔عمر عبداللہ نے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھانے کے بعد اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جموں و کشمیر کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں امن و استحکام کے لیے نیشنل کانفرنس کی حکومت اہم اقدامات اٹھائے گی۔کشمیر کانگریس کے وزارت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ اس وقت اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ یہ جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک نئے رخ کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ اہم موضوع بن چکا ہے۔