چھ ممبران پر مشتمل کمیٹی چھ ماہ میں حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گا/ وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ
سرینگر / // ڈیلی ویجروں کی مستقلی کو دیکھنے کیلئے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں پینل تشکیل دی گئی ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ چھ ممبران پر مشتمل کمیٹی چھ ماہ میں حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گا۔اسی دوران انہوں نے مزید کہا کہ جموں کشمیر حکومت نے اپنی بھرتی کے عمل کو تیز کیا ہے اور پچھلے دو سالوں میں 15ہزار سے زیادہ آسامیوں کو پْر کیا ہے۔سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں یومیہ اجرت والوں کو مستقل کرنے کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے ایک پینل تشکیل دیا گیا ہے، جو چھ ماہ میں حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گا۔وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت جموں و کشمیر میں سرکاری خدمات میں خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے تیزی سے بھرتی کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے۔اسمبلی میں بی جے پی ممبر اسمبلی ستیش شرما کے ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا’’پچھلی بار اسمبلی میں ایک کمیٹی کا اعلان کیا گیا تھا، اور اس کی تشکیل کیلئے ایک رسمی حکم جاری کیا گیا تھا۔ اس معاملے کی جانچ کیلئے چیف سیکرٹری کے تحت کمیٹی تشکیل دی گئی ہے‘‘۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پینل کو معاملے کا جائزہ لینے کے لیے چھ ماہ کا وقت دیا گیا ہے، اور سفارشات موصول ہونے کے بعد، حکومت اس کے مطابق عمل کرے گی۔فاسٹ ٹریک بھرتی کے معاملے پر عمر عبداللہ نے اسامیوں کو مؤثر طریقے سے پْر کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا ’’ جموں کشمیر حکومت نے اپنی بھرتی کے عمل کو تیز کیا ہے پچھلے دو سالوں میں 15ہزار سے زیادہ آسامیوں کو پْر کیا ہے۔ پچھلے دو سالوں میں 13,466 نان گزیٹڈ آسامیاں جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کو بھیجی گئی تھیں جن میں سے 9,351 کا انتخاب مکمل ہو چکا ہے۔عمر عبداللہ نے کہا’’اسی طرح، جموں اور کشمیر پبلک سروس کمیشن کو بھیجی گئی 2,390 گزٹڈ آسامیوں میں سے، 2,175 کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ‘‘ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ بھرتی کو مزید ہموار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا’’ہم نے 10,757 ملٹی ٹاسک سروس اسامیوں کی نشاندہی کی ہے جن کا فی الحال محکمہ خزانہ کے زیر جائزہ ہے۔ یہ آسامیاں جلد ہی ریکروٹنگ ایجنسیوں کو بھیج دی جائیں گی۔ مزید اس کے 6ہزار آسامیاں ریفرل کے لیے تیار ہیں اور جلد ہی بھرتی کے لیے بھیج دی جائیں گی‘‘۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حکومت بھرتیوں میں شفافیت اور کارکردگی کو بڑھا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا’’منصفانہ بھرتی کو یقینی بنانے کے لیے، بھرتی کے ضوابط پر نظر ثانی کی گئی اور 22 نومبر 2022 کو مطلع کیا گیا۔ اب کمپیوٹر پر مبنی تحریری امتحانات منعقد کیے جائیں گے، اور جہاں بھی ممکن ہو سکے ایک سے زیادہ آسامیوں کے لیے ایک ہی امتحان لیا جائے گا۔انہو ں نے کہا کہ پبلک سروس کمیشن اور ایس ایس بی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہدف پر مبنی نقطہ نظر اپنائیں اور ایک مقررہ وقت کے اندر بھرتی مکمل کریں۔عمر عبداللہ نے کہا’’ہم اس سال کے آخر تک 1,502 گزیٹیڈ اور 5,751 نان گزیٹیڈ آسامیاں پْر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جن میں 150 جونیئر انجینئر پوسٹیں بھی شامل ہیں جو حال ہی میں ایس ایس بی کو بھیجی گئی ہیں۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم میں بھرتیوں کا عمل بھی جاری ہے۔عبداللہ نے کہا’’ہم اسسٹنٹ پروفیسرز، لائبریرین اور فزیکل ٹریننگ انسٹرکٹرس کیلئے150 گزیٹڈ آسامیوں پر کارروائی کر رہے ہیں۔ پہلے ہی ریفر کی گئی 840 اسامیوں میں سے 476 کو پْر کیا جا چکا ہے، اور باقی 364 کے لیے انتخاب کا عمل جاری ہے۔ مزید برآں، 116 نان گزیٹڈ آسامیوں کو کلیئر فنانشل کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔”وزیر اعلیٰ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حکومت کی توجہ بھرتیوں کو تیز کرنے، انصاف کو یقینی بنانے اور پورے جموں و کشمیر میں روزگار کے مواقع بڑھانے پر مرکوز ہے۔










